نئی دہلی ، پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف

نئی دہلی ، پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف

نئی دہلی (صباح نیوز)نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے افسران اور اہلکاروں کو ہراساں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق گزشتہ 3 روز سے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اعلی افسران، اہلکاروں اور عملے کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دہلی کے علاقے چانکیہ پوری میں پاکستان کے سینئر افسر کی گاڑی کو روک کر ہراساں کیا گیا اور انہیں واپس جانا پڑا۔ ایک اور واقعے میں پاکستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کے بچے اسکول جا رہے تھے کہ انہیں روکا گیا جس کے بعد بچوں اور ڈرائیور کو ہراساں کیا گیا جب کہ 2 گاڑیوں کے ایکسیڈنٹ بھی کیے گئے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ہائی کمیشن میں مختلف کام سے آنے والے افراد اور لیبر تک کو روکا جا رہا ہے، بھارت کے روئیے کی وجہ سے پاکستانی سفارتی اہلکاروں، ان کے بچوں اور خاندان کا وہاں رہنا نا ممکن ہو رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے پر باضابطہ احتجاج کیا ہے اس حوالے سے بھارت کو احتجاجی مراسلے بھی بھیج دیئے گئے ہیں، اسلام آباد اور نئی دہلی میں ملاقات کر کے بھی بتا دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو نئی دہلی میں کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی سفارت خانے کے عملے اور افسران کے 104 افراد موجود ہیں جن کے اہل خانہ کو ملا کر مجموعی طور پر 500 سے 600 پاکستانی باشندے دہلی میں موجود ہیں،سابق صدر پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینزکے صدر آصف علی زرداری نے بھارت میں پاکستان کے سفارتکاروں کو ہراساں کرنے کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو سفارتی آداب کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستانی سفارتکاروں کے بچوں کو ہراساں کرنا غیرمہذبانہ عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی عملے کے ساتھ نازیبا سلوک قابل مذمت ہے۔ آصف علی زرداری نے حکومت سے کہا کہ وہ بھارتی حکومت یا بھارتی سفیر کے سامنے یہ معاملہ اٹھائے اور سفارتکاروں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

پاکستانی ہائی کمیشن

مزید : صفحہ اول