حلفیہ کہتا ہوں سینیٹ میں ایک پیسہ خر چ نہیں کیا ، فیصلے چوراہوں پر نہیں پولنگ سٹیشنوں پر ہونگے : وزیر اعظم

حلفیہ کہتا ہوں سینیٹ میں ایک پیسہ خر چ نہیں کیا ، فیصلے چوراہوں پر نہیں پولنگ ...

صوابی (بیورورپورٹ) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ تنقید کرنیوالے صرف تنقید کرتے ہیں اور مسلم لیگ (ن)والے کام کرتے ہیں، ووٹ خرید کر سینیٹر بننے والوں کو عوام کی نمائندگی کا حق نہیں ہے، اگر رضا ربانی کو ان کی جماعت چیئرمین سینیٹ کیلئے نامزد کرتی ہے تو ہم ان کیساتھ ہیں، ہماری جماعت مستحکم ہے اور ترقیاتی کاموں کا افتتاح کر رہی ہے، سیاست کے فیصلے سڑکوں اور چوراہوں پر نہیں بلکہ پولنگ سٹیشنز پر ہوں گے، جمہوریت کا تسلسل ہو گا تو ترقی کا سفر جاری رہے گا، ملک میں دس ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے تیار ہو چکے ہیں، مسلم لیگ (ن)نے نہ صرف منصوبے شروع کئے بلکہ ان کو مکمل بھی کیا، جن فیڈرز پر بجلی چوری ہو گی وہاں لوڈشیڈنگ ہو گی۔ وہ ہفتہ کو تربیلا فور ہائیڈروپاور توسیعی منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ تربیلا فورمنصوبے کے افتتاح پر خوشی ہے اور یہ حکومت کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے، تربیلا فورمنصوبہ عالمی ماہرین کی معاونت سے تیار کیا گیا ہے، یہ منصوبہ ملک کو بروقت بجلی فراہم کرے گا، منصوبے سے حاصل بجلی سستی اور ماحول دوست ہو گی، ہم ماحول دوست ہونے کے حوالے سے دنیا کے ایک ذمہ دار ملک ہیں۔

وزیراعظم

ہری پور (آئی این پی ) وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے تربیلا کے چوتھے توسیعی منصوبے کے پہلے یونٹ کا باضابطہ افتتاح کر دیا ، منصوبہ 470میگاواٹ بجلی پیدا کرے گا ،منصوبے کادوسرا یونٹ اپریل میں جبکہ تیسرا یونٹ اس سال مئی میں پیداوار شروع کرے گا،تربیلا فور سے ملک کے انرجی مکس میں توازن آئے گا جبکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہو گی۔ ہفتہ کو چودہ سو دس میگا واٹ کے تربیلا چار توسیعی منصوبے کے چار سو ستر میگا واٹ کے پہلے حصے کا افتتاح کر دیا ہے ۔جبکہ 470میگا واٹ کے مزید2یونٹس گرمیوں سے پہلے کام شروع کر دینگے۔توسیعی منصوبہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کا ایک اور سنگ میل ہے۔تربیلا فور سے ملک کے انرجی مکس میں توازن آئے گا جبکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہو گی۔عام آدمی کوسستی اور ماحول دوست توانائی کی فراہمی کیلئے حکومت پر عزم ہے۔ان توانائی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی ہمیشہ ترجیح رہی ہے۔تربیلا فور سے قومی خزانے کوتیس کروڑ ڈالر سالانہ کی بچت ہو گی ۔تربیلا ڈیم دریائے سندھ پر اسلام آباد سے سو کلو میٹر دور شمال مغرب میں واقع ہے تربیلا چار توسیعی منصوبہ موجودہ تربیلا ڈیم میں ہی واقع ہے۔یہ ڈیم 1976میں مکمل ہوا ،اسکی 5نہریں اور5سرنگیں ہیں،تین سرنگوں سیتین ہزار چار سو اٹھہتر میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔تربیلاسے بجلی کے سالانہ اوسطا16ارب یونٹس پیدا ہوتے ہیں جبکہ تربیلا4سے سالانہ اوسطا3ارب84کروڑ یونٹس پیدا ہونگے۔تربیلا4منصوبے میں نصب کئے گئے یونٹس15فیصدتک زیادہ کارکردگی کے حامل ہیں۔ماحول دوست ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ تربیلا4سے پیدا ہونیوالی بجلی10لاکھ ٹن فرنس آئل سے پیدا شدہ بجلی کے برابرہے۔

تربیلافور

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق صدر مشرف کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں واپس لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف مقدمے میں انصاف ہوتا نظر نہیں آتا، ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جس کے بعد اگلے عام انتخابات وقت پر 60 دن میں ہی ہوں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب قبل از وقت انتخابات کا وقت گزرگیا۔سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ بہتر شخص چیئرمین سینیٹ بنے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے خلاف کیس میں انصاف ہوتا نظرنہیں آتا اور جس فیصلے سے ملک کو نقصان ہو وہ سازش ہوتی ہے۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگرعدالت نے نوازشریف کوجیل بھیجا تواس پرقانون کیمطابق عمل درآمد ہوگا، نوازشریف پہلے بھی جیل کاٹ چکے۔نواز شریف کے نام کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ جس کو تمام اراکین پارٹی قائد مانتے ہوں وہ ملک سے نہیں بھاگیں گے اس لیے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔وزیراعظم نے سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سوموٹو لے کر احکامات جاری کرے کیونکہ وہ عدالت سے حکم لے کر باہر گئے تھے اور وہ عمل اپنی جگہ پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں کہتا ہوں کہ انصاف سب کو ملنا چاہیے، جس طرح ایک شخص سے نمٹ رہے ہیں اسی طرح دیگر کے ساتھ بھی کریں، نیب کا کوئی ایسا مقدمہ دکھا دیں جس کی ہفتے میں دو مرتبہ سماعت ہوئی ہو۔نیب کے قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ملک اور خاص طور پر سیاسی جماعتوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ اس کالے قانون کو ختم نہیں کرسکے کیونکہ یہ ایک آمرکا چند دنوں میں بنایا گیا قانون تھا اور میری نظر میں پہلے دن ہی ختم ہونا چاہیے تھا۔

انٹرویو

مزید : علاقائی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...