آخری وقت میں پیپلز پارٹی رضا ربانی کے نام پر اتفاق کر سکتی ہے

آخری وقت میں پیپلز پارٹی رضا ربانی کے نام پر اتفاق کر سکتی ہے
آخری وقت میں پیپلز پارٹی رضا ربانی کے نام پر اتفاق کر سکتی ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ:۔ قدرت اللہ چوہدری

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب مارچ کو ہو گا، سپریم کورٹ کے حکم پر جن سینیٹروں کا نوٹیفیکیشن رُکا ہوا تھا وہ بھی عبوری طور پر جاری ہو جائیگا اس حکم کی روشنی میں یہ سینیٹر بھی حلف اٹھا سکیں گے اور بعد میں دونوں عہدوں کے لئے ووٹنگ میں شریک ہو سکیں گے، سینیٹ کے کل ارکان کی تعداد اب 104ہو گئی ہے، تاہم ان میں سے ایک (اسحاق ڈار) تو بیرون ملک زیر علاج ہیں ان کی واپسی کا امکان بھی نہیں۔ اس طرح 3مارچ کو منتخب ہونے والے 5نئے ارکان حلف اٹھائیں گے اور اگر تمام کے تمام ارکان ووٹنگ میں حصہ لییت ہیں تو مجموعی طور پر 103 ووٹ پول ہوں گے، جو حصہ لینے والے امیدواروں میں تقسیم ہو جائیں گے ۔ ملنے والے ووٹوں میں جس کے ووٹ سب سے زیادہ ہوں گے وہی چیئرمین منتخب ہو جائیگا جن حضرات کا خیال ہے کہ چیئرمین منتخب ہونے کے لئے پورے ایوان کی اکثریت درکار ہے وہ درست نہیں اس سلسلے میں سینٹ کا رول (6)9واضح ہے۔ اب تک مسلم لیگ (ن) نے اپنے امیدوار کا حتمی اعلان نہیں کیا اگر یہ راز داری کسی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہے تو آج (اتوار) امیدوار کا نام سامنے آ سکتا ہے لیکن اگر پارٹی نے اپنے پتے سینے سے اس لئے لگا رکھے ہیں کہ مخالف جماعتیں ان کا کوئی توڑ نہ نکال لیں تو حتمی نام 12مارچ کو کاغذات نامزدگی پیش کرنے کے ساتھ ہی سامنے آئیگا، تاہم بلوچستا ن سے میر حاصل بزنجو کا نام تسلسل کے ساتھ سامنے آ رہا ہے جن کی جماعت وفاق اور صوبے میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی ہے، میر حاصل بزنجو وفاقی وزیر بھی ہیں اگر مسلم لیگ (ن) انہیں اپنا امیدوار نامزدگی کرتی ہے تو یہ ممکن ہے کہ وہ ایسے ارکان سے بھی ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائیں جو کسی دوسرے کو نہیں مل سکے، البتہ جن حضرات کا یہ خیال ہے کہ اگر چیئرمین سینیٹ کا تعلق بلوچستان سے ہو گا تو صوبے کے مسائل حل ہو جائیں گے وہ رجائیت پسندی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیونکہ محض چیئرمین منتخب ہو جانے سے صوبے کے مسائل چشم زدن میں حل ہونے کا کوئی امکان نہیں مولانا عبدالغفور حیدری پانچ سال تک ڈپٹی چیئرمین رہے۔ ان کا عہدہ بھی اہمیت رکھتا ہے کیا اس کی وجہ سے صوبہ مسائل سے نکل گیا؟ بظاہر تو اس کا امکان اثبات میں نہیں ہے میر حاصل بزنجو نے خود ایک ٹاک شو میں کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ چیئرمین اگر بلوچستان سے ہو گا تو مسائل حل ہو جائیں گے مسائل کے حل کے لئے جو طریق کار اختیار ہونا چاہئے وہ تو کرنا پڑے گا البتہ یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ زبانی کلامی بلوچستان کے حقوق کی بات کی جانے لگی ہے اور اس کا ایک پس منظر بھی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنی جماعت کے تیرہ سینیٹروں کو وزیر اعلیٰ کی جھولی میں ڈال دیا اور پھر معمول کے مطابق یوٹرن لے لیا ہے کہ ہم پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہیں دے سکتے، البتہ اگر چیئرمین کا امیدوار بلوچستان سے اور ڈپٹی چیئرمین فاٹا سے ہوا تو تحریک انصاف انہیں ووٹ دے گی اب وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے دو نام عمران خان کو پیش کر دیئے ہیں دیکھیں اب ان کا فیصلہ کیا ہوتا ہے، آصف علی زرداری نے کراچی اور پشاور میں اپنی عددی اکثریت سے زیادہ سینیٹر منتخب کرانے کے بعد جو ارتعاش پیدا کیا تھا وہ آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے، نواز شریف نے جب یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر پیپلزپارٹی چیئرمین کے لئے رضا ربانی کو سامنے لائے تو مسلم لیگ (ن) بھی ان کی حمایت کرے گی لیکن پیپلزپارٹی کے حلقوں میں اس کا مفہوم یہ نکالا گیا کہ مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی پر اپنا فیصلہ مسلط کر رہی ہے۔ حالانکہ یہ نہ تو کوئی ایسا فیصلہ تھا جسے پیپلزپارٹی ماننے کی پابند تھی اور نہ ہی اس میں مسلط کرنے کا کوئی عنصر تھا ویسے اگر پیپلزپارٹی رضا ربانی کو امیدوار نہیں بناتی یا وہ خود سامنے نہیں آتے تو کوئی دوسری پارٹی انہیں زبردستی نہ تو امیدوار بنا سکتی ہے نہ یہ ذمے داری ان کے سر پر بزور قوت لا د سکتی ہے البتہ یہ تجویز جس انداز میں مسترد کی گئی خود پیپلزپارٹی کے اندر بعض سینئر رہنماؤں نے اسے پسند نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ خود بلاول بھٹو زرداری کو رضا ربانی کے گھر جانا پڑا، اگر کوئی ردعمل ہی نہیں تھا اور تجویز معمول کے مطابق مسترد کی گئی تھی تو اس تکلف کی ضرورت نہیں تھی۔ ابھی تک پیپلزپارٹی کی جانب سے بھی حتمی نام سامنے نہیں آیا۔ اگر سلیم مانڈو والا پارٹی کی جانب سے امیدوار بنتے ہیں کہ عمران خان کے اعلان کے مطابق تو تحریک انصاف کے ووٹ انہیں نہیں ملیں گے ایسی صورت میں کیا آصف علی زرداری اپنی نمبر گیم پوری کر سکیں گے؟ بظاہر تو اس کا امکان نہیں۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ جس طرح زرداری نے سینیٹر منتخب کرائے ہیں اسی طرح وہ ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ کسی دوسری جماعت کو دے کر اپنا چیئرمین منتخب کرا لیں گے لیکن ایسے لگتا ہے انہیں اسی معاملے میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اب عدالت کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے ان پانچ سینیٹروں کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے جو اب تک نہیں رکا ہوا تھا اس کا فائدہ بھی مسلم لیگ (ن) کو ہو گا کیونکہ اس کے تین ارکان ہارون اختر خان، سعدیہ عباسی اور نزہت صادق اس حکم امتناہی کی زد میں آ رہے تھے جسے اب ختم کر کے ان ارکان کو ووٹنگ میں شریک ہونے کا بروقت موقع دے دیا گیا ہے رضا ربانی کو اگرچہ پیپلزپارٹی نے نامزد کرنے سے انکار کر دیا ہے تاہم وہ ابھی تک مقابلے کی دوڑ سے پوری طرح باہر نہیں ہوئے، اگر پیپلزپارٹی اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ وہ اپنا کوئی امیدوار منتخب کرانے کی پوزیشن میں نہیں تو پھر وہ رضا ربانی کے نام پر ہی اتفاق کرے گی کیونکہ ایسی صورت میں وہ یہ دعویٰ تو کر سکے گی کہ اس نے نہ صرف اپنا چیئرمین منتخب کرا لیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو بھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔

آخری وقت

مزید : تجزیہ