بابا رحمتے ۔۔۔میں تھاں مرجانی آں ۔۔۔

بابا رحمتے ۔۔۔میں تھاں مرجانی آں ۔۔۔
بابا رحمتے ۔۔۔میں تھاں مرجانی آں ۔۔۔

  

میری دائیں آنکھ کئی روز سے پھڑک رہی تھی۔ دل کہتا تھا کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے۔ پہلے دو بار پھڑکی تھی تو علامہ قادری نے اعلان بغاوت کیا تھا۔ لہٰذا عین میری آنکھوں کی پھڑپھڑاہٹ اس بار میاں صاحب نے 70 سالہ نظام کے خلاف اعلان بغاوت فرما دیا ہے۔ اعلان بغاوت پہلے ہی بہت شرمندہ شرمندہ تھا، اب میاں صاحب کے اعلان کے بعد تو اس میں نہ شرمندہ ہونے کا ذرا سا بھی اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ ہم کون سے بچپن سے ارشمدلیں یا فیثا غورث تھے، لیکن یقین ہے میتھمیٹکس اپنے بڑے میاں صاحب کا بھی مثالی نہیں رہا۔ ورنہ وہ ستر سالہ نظام کے خلاف اعلان بغاوت سے پہلے اس نظام سے 1981ء میں وزیر خزانہ بننے سے لے کر 2016ء تک وزیراعظم بننے کے ٹکڑیوں میں تقسیم دور حکومت کو ضرور مائنس کرلیتے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ جس نظام کے خلاف انہوں نے اعلان بغاوت کیا اور اپنے جلسوں میں کم چک کے رکھا ہے وہ شاید فلسطین میانمار کے نظام کی بات کر رہے تھے۔

ورنہ یہ نظام تو خود ان کا اپنا تیارکردہ ہے جس نے ہم جیسے مرگلے انسانوں کو جکڑ جمبو ڈال کے رکھا ہے۔ سردار صاحب ایک پکنک پر گئے، ساتھ تھرموس بھی لے گئے۔ کسی نے پوچھا یہ کیا ہے وہ بولے یہ گرم چیز کو گرم اور ٹھنڈے کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ دوست بولا اس میں لائے کیا ہو۔ وہ بولے قلفیاں، اک آملیٹ، دو کپ کافی تے گرما گرم بریانی۔ تھرموس نہ ہوا پاکستان کا نظام ہوگیا۔ جس میں ظالم ہی مظلوم ہے، طاقتور ہی کمزور ہے۔ مارنے والا ہی روتا ہے۔ ایسا تن تنایا پروگرام ہے کہ بندہ پریشان ہو جائے کہ قلفیاں کھتے تے چاواں کھتے۔ میاں صاحب کے جوش خطابت سے میں اتنا ہی متاثر ہوں جتنا بندہ سردیوں میں زکام سے ہوتا ہے۔ یقین کریں جب انہوں نے کہا کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کے خلاف ہیں تو چھانگا مانگا کے ریسٹ ہاؤس کے گرد درختوں کا اتنا ہاسہ نکلا کہ ہنس ہنس کے ان کی ٹہنیاں درد کرنے لگیں۔

سردار جی سے کسی نے پوچھا یہ پنگا کیا ہوتا ہے۔ بولے مطلب تو پتہ نہیں لیکن بندہ لیتا ضرور ہے۔ ویسے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پنگا لو تو ٹینشن بھی لینی پڑتی ہے، لیکن ہماری سیاست کے ملکہ جذبات نہال ہاشمی کو کون بتائے کہ بار بار پنگا لو تو بار بار ٹینشن بھی لینی پڑتی ہے۔ میرے بھیا یہ عملی زندگی ہے، ہر چیز ریکارڈ ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ بابا رحمتے کو گالیاں دیں اور بعد میں دندیاں کڈ کے دکھا دیں۔ بندے کو اڑنا نہ آتا ہو تو پنگے نہیں لینے چاہئیں۔ سردار جی سے کسی نے پوچھا یہ آپ کے دانت کیسے ٹوٹ گئے، بولے یار بیگم کی کل بڑی بستی کی، پھر یہ دانت تو میں نے ویسے بھی نکلوانے تھے۔ نہال ہاشمی صاحب سینیٹر تو آپ ختم ہوئے، اپنے بچوں پر رحم کریں، کیوں وکالت کا لائسنس کینسل کروانا ہے، کیوں بچوں کو بھوکا مارنا ہے۔

بنتا سنگھ اپنی محبوبہ نرس سے بولا میرا دل کرتا ہے کہ میں مستقل بیمار ہو جاؤں تاکہ تم میری روز تیمارداری کرو۔ وہ بولی پر سردار جی میں گائنی وارڈ دی نرس آں۔ اب یہ تو کل پتہ چلے گا کہ سینیٹ کا چیئرمین کس چیز کا سپیشلسٹ ہوگا، لیکن یہ بات طے ہے کہ پاکستان کی جمہوریت ہر بارش میں ایک قدم آگے چلتی ہے اور دو قدم پیچھے سلپ ہو جاتی ہے۔ بڑے میاں صاحب نے نظام کے خلاف اعلان بغاوت کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کیلئے اپنا پورا زور لگا لیا ہے، لیکن ان کا مقابلہ شہنشاہ جمہوریت آصف علی زرداری سے ہے۔ جن کے پاس ملک کی خدمت اور غریب عوام کے بھلے کے علاوہ کچھ نہیں۔ پان تو سادہ مان نہیں ہوتا، اس میں پیلی پتی ڈال دی جائے تو عقل کا تالہ ویسے ہی کھل جاتا ہے۔ ماشاء اللہ ساری زندگی مہربانوں کے خلاف جدوجہد کرنے والی مرحوم پیپلز پارٹی کو پہلی بار فرشتوں اور ان دیکھے رشتوں کی سہولت حاصل ہے۔ ایک زرداری تو پہلے ہی سب پر بھاری تھا، لیکن ان کی درویشانہ محنت سے جمہوریت کا بھی پاؤں خاصہ بھاری ہوگیا ہے۔ رہی سہی کسر ہمارے خان صاحب نے پوری کر دی۔ جب علی نہ سہی بغض معاویہ ہی سہی۔

مریض بولا ڈاکٹر صاحب آپ نے جو دوا پرچے کے پیچھے لکھی تھی، سارا شہر چھان مارا کہیں سے نہیں ملی۔ ڈاکٹر بولا او ماما اوئے میں پن چلا کے ویکھیا سی کہ لکھدا اے کہ نئیں۔ ہم ایویں خان صاحب کا نیا پاکستان، تبدیلی والا پاکستان، نواز زرداری کرپٹ کے خلاف جدوجہد کی پرچی لے کر شہر شہر گھومتے رہے۔ جوں جوں پاکستانی سیاست دھبڑ دوس کر رہی ہے، خان صاحب عام سیاستدان سے انتہائی عام سیاستدان بنتے جا رہے ہیں۔ جمہوریت نیا پاکستان کرپشن کے خلاف جہاد کی ایسی کی تیسی، عوام جائے بھاڑ میں۔ بس نواز شریف کو آگے نہیں آنا چاہئے۔ پتہ نہیں کون بنی گالہ کے گرد روز زور زور سے چلاتا ہے، سو جا ، سو جا نہیں تو گھبر سنگھ آجائے گا۔ کیا کریں ہمیں سمجھ نہیں آتی، ہم انقلابی ڈھونڈتے ہیں، اٹ پٹو تو سیاستدان نکل آتا ہے۔ آرا مشین سے سنتا سنگھ کے باپو کا کان آکر کٹ گیا۔ سنتا سنگھ نے بڑی مشکل سے برادے میں سے کان تلاش کیا، اس کا باپو بولا ایہہ میرا کن نئیں، اس دے اتے تے میں پینسل رکھی ہوئی سی۔ چیئرمین کے الیکشن کے بعد خان صاحب نے بھی انہیں پہچاننے سے انکار کر دینا ہے کہ یہ تو ہمارا کینڈیڈیٹ نہیں تھا۔

اور آخر میں بابا رحمتے سے درخواست، بابا جی، مہاراج آپ ہمارے ہیرو ہیں۔ میرے دکھوں کا مداوا ہیں، آپ کے ہوتے اب ہمیں کسی صدر، وزیراعظم کی ضرورت نہیں۔ تسی کلے ای کافی او۔ آپ جو کریں میری طرف سے بلے بلے ہے۔ لیکن بابا جی یہ جو آپ نے اخبارات کے اشتہارات والی کلی دبائی ہے۔ ایک بار ٹھنڈے دل سے دیکھ لیں، آپ جن کی کلی دبانا چاہتے ہیں، انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ مگس باغ میں گیا تو خون پروانے کا ہوگا اور وہ بھی ناحق۔ یقین کریں بابا جی صحافی وہ نہیں جو روز شام کو میک اپ تھوپ کر چینلز پر سودا بیچتا ہے۔ کبھی آئیں میں دکھاؤں اصل صحافی تو اخبارات کے نیوز رومز میں رات گئے سر نیچے گرائے سرخیاں بنانے اور جھوٹ کو سچ بونوں کو ٹارزن بنانے میں لگا ہوتا ہے۔ آپ نے اشتہارات کی کلی دبائی تو چاند گہن کسی اور پر بھاری ہوگا۔

ان کی تنخواہیں رکیں گی۔ میڈیا ہاؤسز سے انہیں نکالا جائے گا۔ وہ نہال ہاشمی کی طرح نہ گالیاں دے سکتے ہیں نہ ایکٹنگ۔ آپ اشتہارات سے تصویریں غائب کرا دیں بلکہ میں تو کہتا ہوں چاہے ان کے شناختی کارڈ پر سے بھی تصویریں ہٹا دیں، خصماں نوں کھان۔ لیکن اتنا خوفزدہ نہ کریں کہ اخبارات کا آکسیجن رک جائے، اوپر والوں کو کچھ نہیں ہوگا، چھوٹے کارکن بھوکے مر جائیں گے۔ پرنٹ میڈیا والے تو پہلے ہی شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول، دمہ، اعصابی امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لئے تو فیض نے کہاتھا

وہ جو تاریک راہوں میں مارے گئے

مرے ہووں کو مزید مت ماریں

شوہر بولا جو چوری کرتا ہے ضرور پچھتاتا ہے۔ بیگم رومانٹک موڈ سے بولیں اور جو آپ نے ہماری آنکھوں کی نیند چرائی۔ شوہر بولا بتا تو رہا ہوں ضرور پچھتاتا ہے۔ بابا جی ہم غریب کارکنوں نے تو کسی کی آنکھوں کے خواب بھی نہیں چرائے۔ آپ جب بھی اشتہارات کی بات کرتے ہیں، میں تھاں مر جاتا ہوں۔

مزید : رائے /کالم