لطیفے اور المیے

لطیفے اور المیے
لطیفے اور المیے

  

یہ ملک ایک قابل وکیل نے بنایا تھا اور آج یہاں بابا رحمتے کی نظیریں چلتی ہیں۔ جدید قانونی نظام میں مقامی سطح پر تشکیل دئیے ہوئے غیر تربیت یافتہ عدالتی نظام کی نفی کی جاتی ہے کیونکہ اس میں انصاف کی فراہمی بسااوقات سنگین مذاق بن کے رہ جاتی ہے۔ مجھے علم ہے کہ ہمارے بہت سارے دوست آج بھی روایتی پنچائتی نظام کو بہت یاد کرتے ہیں مگر دوسری طرف جب بھی کوئی تاریخ سا ز ظلم ہوتا ہے تو ایسی ہی پنچائیتوں سے ہوتا ہے۔ یہ بابے رحمتے ہی ہوتے ہیں جو کسی لڑکی کواس وجہ سے بہت سارے وحشی مردوں کے حوالے کر دیتے ہیں کہ اس کے باپ یا بھائی نے ان مردوں کی بہن ، بیوی یا بیٹی کی عصمت ریزی کی ہوتی ہے۔ بابوں کے نظام میں گناہ گارکی بجائے پھانسی کا پھندا اس شخص کے گلے میں بھی ڈالا جا سکتا ہے جو مجرم نہیں ہوتا ، وہ جرم نہیں بلکہ گردن کا سائز دیکھتے ہیں۔

میرا ارادہ ہرگز کوئی سنجیدہ کالم لکھنے کا نہیں ہے مگر بعض اوقات سمجھ ہی نہیں آتا کہ لطیفہ کہاں تک لطیفہ رہتا ہے اور کب وہ المیہ بن جاتا ہے۔ روایات میں منقول ہے کہ کسی گاوں میں ایک بچھڑا کسی دیگچے میں سرپھنسا لیتا ہے ، گھر والے بہت کوشش کرتے ہیں کہ یہ پھنسا ہوا سر دیگچے سے باہر نکل آئے مگر وہ ناکام رہتے ہیں۔ اب اس لطیفے کو اگر آپ زبردستی میاں نواز شریف کے پاناما والے کیس سے جوڑنا چاہیں گے تو میں روک نہیں سکوں گا مگرواقعہ کچھ یوں ہے اڑوس پڑوس اور محلے والوں بھی اپنی مکمل کوشش کے باوجود بچھڑے کا سر باہر نکالنے میں ناکام رہے تو کسی نے آواز لگائی کے بابا رحمتے کو بلا لیا جائے۔

بابا رحمتے نے بہت دھیان کے ساتھ بچھڑے اور دیگچے کے معاملے کو تمام طرف سے گھوم گھوم کے دیکھا اور بولا، اس کو باہر نکالنے کا اب ایک ہی طریقہ ہے کہ بچھڑے کا سر کاٹ دیا جائے۔ کچھ سیانے لوگوں نے شور تو مچایا کہ اس سے بچھڑا مر جائے گا مگر گھروالوں کے شریکوں نے بابے کی ذہانت کی داد دینا شروع کر دی، بولے بچھڑ امر جائے گا تو کیا ہوا دیگچہ تو بچ جائے گا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بچھڑے کی گردن کاٹ دی گئی مگر مسئلہ جوں کا توں تھا کہ اس کا سر اب بھی دیگچے میں ہی پھنسا ہوا تھا۔ بابے کا اگلا فیصلہ تھا کہ دیگچے کو بھی توڑ دیا جائے اور یوں راوی روایت کرتا ہے کہ بچھڑے کے سر کو باہر نکال لیا گیا۔

میں عدالتی معاملات میں نہیں بولتا کہ مجھے وکیلوں کی بحث کی ہی سمجھ نہیںآتی۔ میاں نواز شریف بھی اس وقت اپنے تمام مقدمے ہارنے کے لئے بڑے سے بڑے اور مہنگے سے مہنگے وکیل کی خدمات حاصل کر رہے ہیں حالانکہ وہ یہی کام سستے وکیلوں کے ذریعے بھی کر سکتے ہیں بلکہ انہوں نے یہ پارٹی صدارت سے نااہلی کروانے کاکام تو غالبا کسی وکیل کو فیس دئیے بغیر ہی کروا لیا ہے۔ اب یہاں آپ کو وہ لطیفہ یاد آ رہا ہو گا جس میں گاوں کے چودھری نے اپنے بیٹے کو قتل کے مقدمے میں سزا سے بچانے کے لئے ایک وکیل سے رابطہ کیا، وکیل نے فیس پانچ ہزار بتائی مگر چودھری نے پانچ لاکھ والا وکیل کر لیا۔

فیصلہ اس کے باوجود چودھری کے بیٹے کے خلاف آیا تو پہلے وکیل نے چودھری کو روک کر کہا کہ میں نے آپ کا یہ کام پانچ ہزار میں کروا دینا تھا۔ میاں نواز شریف کو تجربہ کار سیاستدان کہاجاتا ہے لہذا انہوں نے یہ کام مفت میں ہی کروا لیا ہے۔ اگر آپ کو یہ لطیفہ یاد آ رہا ہے تو یاد کر لیں کہ میں اسے اس وجہ سے نہیں لکھوں گا کہ یہ بہت پرانا اور گھسا پٹا ہو چکا ہے۔ نواز شریف سے ہی یادآیا کہ انہوں نے پنجاب ہاوس میں ایک لطیفہ سنایا کہ ریس میں سب سے پیچھے رہ جانے والے کمزور اور ناکارہ ترین گھوڑے کے مالک نے بتایا کہ اس کا گھوڑا وہ ہے جس نے سب کو آگے لگا رکھا ہے۔ اب بھلا ایک سیاسی رہنما یہ لطیفہ سنائے تو یقینی طور پرخیال اپنی سیاست کی طرف ہی جائے گا ۔

سیاست پر کیا بات کی جائے کہ ہر وہ بندہ جو اپنے صحن میں بیٹھا اپنے سر سے جوئیں نکال رہا ہے وہ بھی سیاسی تجزیہ اور کالم نگار ہے لہذا بات کچھ فیصلہ سازی پر ہی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فیصلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں مگر ان کے لئے ایک روایت ہے کہ کسی زمیندار کو اس کی زمین پر ہل چلاتے ہوئے ایک چراغ ملا، اس نے چراغ کو رگڑا تو اس میں سے جن برآمدہو گیا، زمیندار جن کو گھر لے آیا مگر جن کی صرف فرمائش تھی کہ وہ فارغ نہیں بیٹھ سکتا لہذا اسے ہر وقت کوئی نہ کوئی کام بتایا جائے۔ زمیندار نے اس سے اپنی تمام زمینوں میں ہل چلانے کا حکم دیا تو وہ منٹوں میں چلا کے آ گیا۔ زمیندار نے اسے ایک حویلی بنانے کا کہا وہ بھی تیار ہو گئی۔ زمیندار کو اس کے بعد کچھ کام نہ سوجھا تو بولا جاو تہہ خانے میں آلووں کی بوریاں پڑی ہیں، ان میں سے اچھے آلو ایک طرف، درمیانے دوسری طرف اور برے تیسری طرف ڈھیر کر دو۔ جن چلا گیا اور دو روز تک واپس ہی نہ آیا۔ زمیندار نے تہہ خانے میں جا کے دیکھا تو جن سر پکڑے بیٹھا تھا کہ اس سے فیصلہ ہی نہیں ہو پا رہا تھا کہ کون سا آلو کس ڈھیر میں رکھے

مجھے مقدمات کی اتنی ہی سمجھ آتی ہے جتنی کسی وکیل کو آسکتی ہے۔ ایسے ہی ایک وکیل نے ڈاکٹر سے پوچھا، کیا آپ نے پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے لاش کی نبض چیک کی تھی، ڈاکٹر نے جواب دیا نہیں، وکیل نے پوچھا بلڈ پریشر چیک کیا تھا، ڈاکٹر کا جواب تھا نہیں، وکیل نے استفسار کیا سانس چیک کی، ڈاکٹر نے ایک مرتبہ پھر نفی میں جواب دیا۔ وکیل نے کہا کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ متوفی اس وقت تک زندہ ہوں۔ ڈاکٹر نے کہا بالکل نہیں کہ اس وقت اس لاش کا دماغ الگ سے کمرے میں میز پر رکھا ہوا تھا۔ وکیل نے کہا، بہت خوب، مگر کیا اس کے باوجودیہ ممکن نہیں کہ وہ پھر بھی زندہ ہو۔ ڈاکٹر نے جواب دیا ممکن تو یہ بھی ہے کہ اس نے وکالت کا امتحان پاس کر لیا ہو اور اس وقت مجھ پر جرح کر رہا ہو۔اسی طرح ایک دوسرے مقدمے میں وکیل نے ڈاکٹر سے پوچھا، آپ نے کس وقت متوفی کا پوسٹ مارٹم شروع کیا، جواب ملا رات ساڑھے دس بجے، وکیل صاحب نے پوچھا کیا اس وقت متوفی وفات پا چکے تھے، ڈاکٹر نے جواب دیا نہیں وہ میرے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے۔ کسی بھی شخص یا ادارے کے لطیفے بنانا کوئی اچھی بات نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ایک عورت سکھوں کے لطیفوں کے خلاف ہائیکورٹ چلی گئی۔ پاکستان میں بھی لطیفوں کی فیکٹریاں بہت زیادہ ہیں اور کبھی کبھار تو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ ہم کوئی حقیقی واقعہ پڑ ھ رہے ہیں یا یہ کوئی لطیفہ ہے۔کہتے ہیں کہ ضیاء الحق کے دور میں جب موصوف کے بہت زیادہ لطیفے بنے تو انہوں نے فوج کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ اس بندے کو ڈھونڈے جو ان کے لطیفے بنا رہا ہے۔ ضیاء الحق کے افسروں نے اس بندے کو ڈھونڈ نکالا۔ جنرل ضیاء الحق نے اس سے کہا، تم میرے لطیفے بنا رہے ہو کیا تمہیں علم نہیں کہ میں اس ملک کا سب سے پاپولر لیڈر ہوں۔ اس شخص نے جوا ب دیا، لطیفے تو میں ہی بنا رہا ہوں مگر یہ لطیفہ جو آپ نے ابھی سنایا ہے وہ میں نے نہیں بنایا۔

مزید : رائے /کالم