سینیٹ کا چیئرمین

سینیٹ کا چیئرمین
سینیٹ کا چیئرمین

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سینیٹ کے انتخابات مکمل ہو چکے، طرح طرح کے الزامات لگانے والے اب جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ ہر سیاسی جماعت نے اپنے مخالفین کی طرف انگلیاں اٹھائیں اور انہیں خریداری کا ملزم قرار دیا۔ہر ایک نے کسی نہ کسی صوبے میں اپنے حجم سے زیادہ نشستیں یا زیادہ ووٹ حاصل کئے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کی دھڑے بندی نے پیپلزپاڑٹی کو پیش قدمی کا موقع دیا اور اس کے کئی ارکان ’’ہجرت‘‘ کر گئے۔ صرف ایک نشست اس کے حصے میں آئی اور اب دونوں دھڑے ایک دوسرے کی طرف تھوکا ہوا چاٹنے میں مصروف ہیں۔

پیپلزپارٹی نئے ارادوں کے ساتھ کراچی کے ووٹروں کی طرف دیکھ رہی ہے تو ایم کیو ایم لندن نئی للکاروں اور پھنکاروں کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہے۔ اپنے باغیوں کی مہاجر فروشی پر (بزعمِ خود) مہر تصدیق ثبت کر رہی ہے۔ بلوچستان میں جس طرح مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ شیر کے نشان پر منتخب ہونے والے بکری (بلکہ بھیڑ) بن گئے اور ایک ایسے شخص کی اطاعت کی بیعت کر لی جو ان کی جماعت میں شامل ہی نہیں تھا۔ ن لیگی ارکان کی بڑی تعداد آزاد حیثیت میں ووٹ ڈالنے اور آزاد کے طور پر انتخاب میں حصہ لینے کا ببانگِ دہل اعلان کرتی رہی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اگر نوازشریف کوئٹہ کا دورہ کرکے اپنی طاقت کا اظہار نہ کرتے اور جناب اچکزئی کی نظریاتی آواز کے ساتھ آواز نہ ملاتے تو شاید نواب ثناء اللہ زہری لشٹم پشٹم اقتداری زندگی کے دن پورے کر لیتے۔ جب انہوں نے نوازشریف کا دامن نہ چھوڑا تو پھر ان کا دامن چاک کرنا ضروری ہو گیا۔ انہیں مقتدر حلقوں نے جو کچھ ادھار دیا ہوا تھا، وہ نقد واپس لے لیا اور مسلم لیگ (ن) کا جھنڈا پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں سرنگوں ہی نہیں زمین بوس ہو گیا۔

پیپلزپارٹی کے پاس صوبائی اسمبلی کی ایک نشست بھی نہیں تھی، لیکن وہ حکومت سازی میں پیش پیش رہی، اور اس کے بازی گر ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو اپنے کمالات دکھانے وہاں پہنچ گئے۔ عبدالقدوس بزنجو کی وزارت علیا سے پہلے بھی ان کے ساتھ چپکے ہوئے پائے گئے اور بعد میں بھی گرفت ڈھیلی کرنے پر تیار نہ ہوئے۔ بلوچستان کابینہ پوری کی پوری جناب آصف علی زرداری کی خدمت اقدس میں کراچی حاضر ہوئی اور ان کی طاقت (یا ذہانت) کی دھاک بیٹھ گئی کہ انہوں نے ڈبل روٹی سے انگوٹھی نکال کر دکھا دی ہے اور اسے اپنی انگلی پر چڑھا بھی لیا ہے۔ بلوچستان میں کرتب دکھا کر (یا کرتب دکھانے والوں کے ساتھ کندھا ملا کر) سندھ میں اپنی دھاک بٹھا کر لاہور اور پشاور کا رخ کیا گیا۔ لاہور میں صوبائی اسمبلی کی 8نشستوں کے باوجود امیدوار کھڑا کیا گیا اور وہ دو درجن سے زیادہ ووٹ حاصل کر گیا، کامیابی کی گولی اس کے کان سے گزر گئی۔ یہاں تحریک انصاف کے چودھری محمد سرور نے یوں ہاتھ دکھایا کہ 30ووٹوں کے 44بنا کر دکھا دیئے۔ وجہ اس کی چودھری صاحب کی شخصیت ہو، برادری کا جادو ہو یا تعلقات عامہ میں مہارت، کامیابی انہوں نے اپنے قدموں پر بٹھا دی۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے خیبرپختونخوا میں پیش قدمی کی، زرداری صاحب کے ساتھ ساتھ امیر مقام نے بھی چھاتی چوڑی کرکے دکھا دی۔ بہرحال جو کچھ ہونا تھا ہو گیا۔ مسلم لیگ(ن) سب کچھ کے باوجود سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، پیپلزپارٹی نے 34کے مقابلے میں 20نشستیں حاصل کرلیں۔ تحریک انصاف 13کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔

نوازشریف اور ان کے حلیفوں نے ادھوری سی مشاورت کے بعد ہی چیئرمین رضا ربانی کے حق میں آواز اٹھا دی۔ اس سے پہلے بھی ان کا انتخاب اتفاق رائے سے ہوا تھا۔ رضا ربانی صاحب پاکستان کے پہلے گورنر جنرل، قائداعظم محمد علی جناحؒ کے پہلے اے ڈی سی کیپٹن میاں عطا ربانی کے صاحبزادے ہیں۔ میاں عطا مرحوم کو یہ شرف حاصل ہوا تھا کہ وہ 9اگست کو قائداعظمؒ اور محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ نئی دہلی سے کراچی پہنچے تھے۔ 65سالہ رضا ربانی نے اپنے عظیم باپ کے نام کو آگے بڑھایا اور ایک باکردار سیاسی کارکن کے طور پر نام کمایا ہے۔ انہوں نے سکول سے لے کر یونیورسٹی تک تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ زمانہ ء طالب علمی ہی میں وہ قومی سیاست میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کی پہلی اور آخری محبت پیپلزپارٹی ہے۔1993ء سے وہ چھ بار سینیٹر منتخب ہو چکے ہیں اور مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے وہ معتمد سمجھے جاتے تھے، ان کی شہادت کے بعد بھی ان کی اہمیت کم نہیں کی جا سکی۔ ان کی متانت، دیانت اور ذہانت کی وجہ سے ہر سیاسی جماعت انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم ان ہی کے زیر قیادت کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے ممکن ہوئی اور انہوں نے اپنے تصورات کے مطابق وفاق پاکستان کی نئی صورت گری کی۔

3سال پہلے پیپلزپارٹی کی سینٹ میں وہی پوزیشن تھی جو آج مسلم لیگ(ن) کی ہے، سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود وہ اکثریت نہیں رکھتی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کا اقتدار (آج کی طرح) گہنایا (یادیمکایا) نہیں تھا۔ اس لئے وہ اپنے امیدوارکو جتوانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار سکتی تھی، لیکن وزیراعظم نوازشریف نے رضا ربانی کے سر پر تاج رکھ دیا، زرداری صاحب بھی اسے بے تاج نہ کر سکے۔ دونوں کے مزاج میں بُعد المشرقین ہے، لیکن دونوں کا شمار اپنی اپنی جگہ بے نظیر بھٹو کے ترکے میں ہوتا ہے، اس لئے کسی نہ کسی طور نباہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔رضا ربانی نے سینیٹ کے چیئرمین کے طو رپر اپنا لوہا منوایا۔ سینیٹ کمیٹیوں کی رپورٹیں باقاعدہ منضبط ہونے لگیں، ویب سائٹ پر معلومات فراہم کی جانے لگیں، عوامی درخواستوں کو پذیرائی بخشی جانے لگی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں سینیٹرز بھی شامل کر لئے گئے۔ اداروں کے درمیان مکالمہ شروع کر دیا۔ چیف جسٹس اور چیف آف آرمی سٹاف مدعو کئے گئے۔

جمہوریت اور وفاقیت کی آواز بن کر دور و نزدیک سے داد سمیٹی گئی۔ عام خیال تھا کہ ان سے استفادے کا سلسلہ جاری رہے گا۔نوازشریف نے اس تمنا کا اظہار بھی کر دیا، لیکن زرداری صاحب نے نہایت رعونت (بلکہ حقارت) کے ساتھ، ’’نو‘‘ (NO) کرکے سب کو ورطہ ء حیرت میں ڈبو دیا۔ پیپلزپارٹی سلیم مانڈوی والا کی محبت میں گرفتار ہوچکی تھی۔ تحریک انصاف کو اس طرح ورغلایا گیا کہ اس نے اپنے ووٹ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی جھولی میں ڈال دیئے۔ منصوبہ سازوں کا خیال ہو گا کہ زرداری صاحب بھی یہی حرکت فرما دیں گے اور یوں عبدالقدوس بزنجو ان دونوں کے لئے نشانِ برکت بن جائیں گے۔۔۔ ان سے بے احتیاطی یہ سرزد ہوئی کہ وہ اپنی جھولی انصافیوں سے بھر کر خود زرداری صاحب کی جھولی میں بیٹھ گئے۔ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو کے زیر ہدایت زرداری صاحب کو فیصلہ کرنے کا صوابدیدی اختیار دے دیا۔ دنیا نیوز کے کیمرے نے ان کی کھسر پھسر کو ریکارڈ کرکے نشر کر دیا تو عمران خان بلبلا اٹھے۔ انہوں نے بزنجو صاحب کی جھولی سے باہر چھلانگ لگا دی۔ یوں زرداری کا خصوصی چیئرمین لانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔

دکھائی یہ دے رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو اپنی پارٹی کا جھنڈا لہرانا ہے تو رضا ربانی کے نام سے اتفاق کرنا پڑے گا، وگرنہ گھمسان کا رن پڑے گا، مسلم لیگ(ن) اپنا امیدوار لے کر میدان میں اترے گی، پھر جو ہو سو ہو، لیکن یہ بہرحال نہیں ہوگا کہ زرداری سکہ اس طرح چلے کہ دوسروں کے سکے کھوٹے بن جائیں ۔۔۔ الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ ’’ دوا‘‘ نے کام کیا۔

[یہ کالم روزنامہ ’’پاکستان‘‘ اور روزنامہ ’’دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔]

مزید : رائے /کالم