عوام بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کا آئینی فرض ہے :وزیر اعلیٰ سندھ

عوام بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کا آئینی فرض ہے :وزیر اعلیٰ سندھ

سکھر(بیور رپورٹ)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں میں معیاری تعلیم کو یقینی بنانے کیلئے ریجنل سطح تک اسٹوڈنٹس باڈی کے قیام میں تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو تعلیم اور صحت سمیت دیگر بنیادی سہولیات فرام کرنا حکومت سندھ کی اولین اور آئینی فرض ہے، سکھر آئی بی اے سے پاس آؤٹ ہونے والے گریجوئیٹس اور پوسٹ گریجوئیٹس اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ گھڑیاں نکال کر پرائمری اسکولوں کو دیں تاکہ ان اسکولوں میں سے ہوشیار اور ذہین بچے نکل سکیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار سکھر آئی بی اے یونیورسٹی میں پانچویں کانووکیشن سے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر سائنس مینجمنٹ، میتھامیٹکس، الیکٹریکل انجئنئرنگ، انجینئرنگ، بزنس ایڈمنسٹریشن، کمپیوٹرسائنس، سافٹ ویئر انجینئرینگ، ایجوکیشن اور دیگر شعبوں کے 182گریجوئیٹس اور پوسٹ گریجوئیٹس کو ڈگریز دی گئیں۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب حسین ڈہر اور وائس چانسلر سکھر آئی بی اے یونیورسٹی پروفیسر نثار احمد صدیقی نے پاس آؤٹ ہونے والے طلبا وطالبات کو ڈگریاں پیش کیں۔ کانووکیشن سے خطاب میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کے والد سابق وزیراعلی سید مراد علی شاہ کے دور میں 1995میں دو کمروں سے شروع ہونے والے سکھر آئی بی اے کو گذشتہ برس ان کے دور حکومت میں یونیورسٹی کااسٹیٹس مل گیا ہے اس کیلئے بڑی خوشی کی بات ہے، ایسے ادارے قائم کرنے کا مقصد شمالی سندھ خصوصی طور پر دیہاتی علاقوں کے نوجوانوں کو اعلی تعلیم کا حصول ان کے دروازوں کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے، کیونکہ لوگ غربت کی وجہ سے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم کے لئے کراچی حیدرآباد یا دیگر بڑے شہروں کی جانب نہیں بھیج سکتے اور یہاں کم خرچے پر اعلی اور معیاری تعلیم مل رہی ہے۔ انہوں ے کہا کہ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کو دنیا میں ٹاپ پر لانے کیلئے شانہ بشانہ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے حکومت سندھ اپنا بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آئی بی اے کی جانب سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام، کمیونٹی کالج اور ایجوکیشنل مینجمنٹ آرگنائیزیشن کے قیام سے صوبے میں تعلیمی ترقی اور تعلیم کا معیار بہتر بنانے میں مدد فراہم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سکھر آئی بی اے کا شہید بینظیربھٹو مینجمنٹ سائنس کیمپس دادو میں کھولا جارہا ہے جس کا افتتاح رواں سال اگست میں ہوگا۔ وزیراعلی سندھ نے مزید کہا کہ سکھر آئی بی اے کو پاکستان سمیت چین، اٹلی، امریکا اور دیگر ممالک کا تعاون حاصل ہے امید ہے کہ یہ ادارہ ملک کی معاشرتی اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کریگا۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کا معیار بہتر بنانے کیلئے کراس ریجن محنت کی جارہی ہے، 2ہفتے قبل پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سکھر میں دل کے مریضوں کے علاج کیلئے پاکستان کی دوسری بڑی اسپتال این آئی سی وی ڈی سکھر کا افتتاح کیا، کراچی این آئی سی وی ڈی دنیا کی پہلی ہسپتال ہے جہاں بڑی تعداد میں این جیوپلاسٹی ہوتے ہیں خوشی کی بات یہ ہے کہ آج سکھر این آئی سی وی ڈی میں پہلا دل کا ٹرانسپلانٹ ہوا ہے۔ اس سے علاوہ سکھر میں 10سالوں میں جو ترقی ہوئی ہے وہ کبھی پہلے نہیں ہوئی تھی۔ وومین یونیورسٹی اور سندھ آرٹس اینڈ ڈزائن کالج کا قیام روشن مثال ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع میں انگلش میڈیم اسکول کھولے جارہے ہیں جس کی شروعات سکھر سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائری اور سیکنڈری اسکولوں میں معیاری تعلیم کے حصول کیلئے سکھر ریجن میں اسٹوڈنٹس باڈی کے قیام کی نثارصدیقی کی تجویز خوش آئند ہے اور یہ ذمیواری سندھ حکومت اٹھائے گی اور ہوشیار اور ذہین طلبا کے ہمت افزائی سے علم کی روشنی مزید پھل سکے گی۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاھ نے پی ایچ ڈی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹر انیل کمار اور سدرا دیو سمیت سکھر آئی بی اے سے پاس آٹ ہونے والے تمام نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے متعلقہ فیلڈ میں جاکر سخت محنت کو عزم بنائینگے، اپنے اساتذہ اور والدین کا احترام کرتے ہوئے سکھر آئی بی کی ترقی و بہتری کیلئے مثبت کوششیں لینگے امید ہے کہ یہ نوجوان ملک اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرینگے اور اپنا پارٹ ٹائیم دیہی علاقوں میں پرائمری اسکولوں کو دینگے تاکہ وہاں کی تعلیم معیاری بنائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت صوبے کے عوام کو بہتر سہولیات دینے کیلئے اپنی کوششین جاری رکھے گی اور وہ دین دور نہیں جب سکھر آئی بی اے یونیورسٹی دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں سی ایک ہوگی اور یہاں سے پاس آٹ ہونے والے نوجوان ساری دنیا میں ہیروں کے مانند چمک کر دنیا کو روشنی دینگے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب حسین ڈہر نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی صوبہ یا ملک ترقی نہیں کرسکتا، امید ہے کہ سکھر آئی بی اے یونیورسٹی مزید کامیابیاں حاصل کرے اور سندھ اور پاکستان کا نام دنیا میں روشن کریگا۔وائس چانسلر سکھر آئی بی اے پروفیسر نثار احمد صدیقی نے تقریر میں کہا سکھر آئی بی اے کے پاس مستقبل میں میڈیا اینڈ کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ اور سی ایس ایس کلاسز شروع کرنے کا پروگرام ہے جبکہ سندھ حکومت اور چینی سفارتخانے کے تعاون سے سی پیک میں افرادی قوت تیار کرنے کیلئے چائنیز لینگویج سینٹر قائم کیے گئے ہیں، اسی طرح او جی ڈی سی ایل کے تعاون سے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو وسیع کرتے ہوئے پاکستان کے ہر صوبے میں سے 75اسٹوڈنٹس کو منتخب کیا جا رہا ہے، جن کو اسکالرشپ تحت پڑہایا جائیگا۔ اس موقع پر کانووکیشن اسٹیج پر ایم این اے نعمان اسلام شیخ، کمشنر سکھر ڈویژن محمد عثمان چاچڑ اور رجسٹرار زاھد حسین کھنڈ اور مختلب شعبوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ جن گریجوئیٹس اور پوسٹ گریجوئیٹس نے پہلی پوزیشن حاصل کرکے گولڈ میڈل کا اعزا اپنے نام کیا ان میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا علی حسنین، سبینہ حسین، ایم بی اے کے مزمل، فائزہ سومرو، سائنس مینیجمنٹ کی فریزہ شاھ، کمپیوٹر سائنس کا عادل خان، ظفر حسین اور ایجوکیشن شعبے کی آمنہ شامل ہیں۔ اسی طرح دوسری پوزیشن پر آنے والوں میں سلور میڈل تقسیم کیئے گئے جن میں سکندرعباس حیدر، محمد وقاص، کرن بصیر، سحر اور عارف حسین شامل ہیں۔ اس سے قبل وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر آئی بی اے میں سندھ حکومت کے تعاون سے موبائل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لیب کا افتتاح کیا اور انہوں نے بس میں قائم کی گئی لیبارٹری کا معائنہ بھی کیا۔ یہ بس سرکاری اسکولوں میں طلبا و طالبات کو تجربات کروائیگی۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...