بے ہوش شرابی کے منہ سے اللہ اللہ نکل رہا تھا ،حضرت جنید بغدادیؒ کے ماموں اس کے پاس گئے اور اس کا گندہ بدبودار منہ صاف تو غیب سے آواز آئی کہ ۔۔۔

بے ہوش شرابی کے منہ سے اللہ اللہ نکل رہا تھا ،حضرت جنید بغدادیؒ کے ماموں اس کے ...
بے ہوش شرابی کے منہ سے اللہ اللہ نکل رہا تھا ،حضرت جنید بغدادیؒ کے ماموں اس کے پاس گئے اور اس کا گندہ بدبودار منہ صاف تو غیب سے آواز آئی کہ ۔۔۔

  

حضرت سری سقطی ؒ حضرت معروف کرخیؒ کے شاگرد اور جنید اعظم حضرت جنید بغدادی کے ماموں و استاد تھے ۔تاجر تھے اور رزق حلال کے لئے آپؒ کا توکل کر دیکھ کر دوسرے بھی توبہ کرلیا کرتے تھے۔ اہل صوفیا کے واقعات پر مبنی کتاب الروض الفائق میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آپؒ نے ایک شرابی کو دیکھا جو نشے کی حالت میں زمین پربے ہوش پڑا تھااور اسی حالت میں اللہ ،اللہ پکار رہا تھا۔ آپؒ نے اس کا منہ پانی سے صاف کیا اور فرمایا ’’ اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک منہ سے کس ذات کا نام لے رہا ہے‘‘ ؟

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب شرابی ہوش میں آیا تواس نے اپنا صاف چہرہ دیکھا تو لوگوں سے پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا ماجرا ہوا۔ لوگوں نے اس کو بتایا’’ تمہاری بے ہو شی کی حالت میں تمہارے پاس حضرت سری سقطی ؒ تشریف لائے تھے اور تمہارامنہ دھو کر چلے گئے ہیں‘‘

شرابی نے یہ سناتو بہتشرمندہ ہو ا اور مارے ندامت رونے لگا پھر اپنے نفس کو کوسا ’’اے بے شرم !اب تو سری سقطی ؒ بھی تم کو اس حالت میں دیکھ کر چلے گئے ہیں،خدا سے ڈر اور آئندہ کے لئے توبہ کر ‘‘ 

رات میں حضرت سری سقطی ؒ نے ایک ندائے غیبی سنی ’’ اے سری سقطی !تم نے ہمارے لئے شرابی کا منہ دھویا ہے ،ہم نے تمہاری خاطر اس کا دل دھو دیا‘‘

جب آپؒ نماز تہجد کے لئے مسجد میں گئے تو اس شرابی کو تہجد کی نماز پڑھتے ہوئے پایا۔آپ ؒ نے اس سے دریافت فرمایا ’’ تمہارے اندر یہ انقلاب کیسے آگیا‘‘

بولا’’ آپ مجھ سے کیوں دریافت فرمارہے ہیں جبکہ خود آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس پر آگاہ فرمادیا ہے۔‘‘

مزید : روشن کرنیں