کرہ ارض کا وہ پہلا تیز ترین جہازجو اللہ نے اپنے ایک نبیؑ کو عطا کیا تھا ، سائنس آج تک ایسا جہاز ایجاد نہیں کرسکی 

کرہ ارض کا وہ پہلا تیز ترین جہازجو اللہ نے اپنے ایک نبیؑ کو عطا کیا تھا ، ...
کرہ ارض کا وہ پہلا تیز ترین جہازجو اللہ نے اپنے ایک نبیؑ کو عطا کیا تھا ، سائنس آج تک ایسا جہاز ایجاد نہیں کرسکی 

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ کریم نے حضرت سلیمان ؑ کو بے پناہ تسخیرات عطا فرمائی تھیں،ہوا ،جنات چرند پرند،لوہا سمیت آپؑ کے تابع تھا ۔آپؑ جس تخت پر ہوا میں سفرفرماتے اس کے بارے متعدد کتب میں ذکر موجود ہے۔آج انسان آسمان پر اڑتے تیز رفتارجہازوں پر حیران و پریشان ہے لیکن اللہ نے یہ نشانی تخت سلیمان میں رکھی تھی ۔صدیوں پہلے جب سائنسی ایجادات موجود نہیں تھیں لیکن حضرت سلمانؑ عظیم الشان تخت پر ہوا میں تیز ترین سفر کرتے تھے۔یہ تخت بھی ایک جہازہی تھا جو اللہ کی قدرت کی نشانی تھی ۔موجودہ سائنس کے زمانے میں آج تک ایسا جہاز نہیں بنایا جاسکا ۔ 

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

تفسیر حسن بصری میں حضرت حسن بصریؒ لکھتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ اپنے تخت پر بیٹھ کر صبح کے وقت دمشق سے روانہ ہوتے اور ’’اصطخر‘‘(ایران کا قدیم شہر ) پہنچ کر قیلولہ کرتے، اسی طرح شام کو ’’اصطخر‘‘ سے روانہ ہوتے اور کابل میں رات گزارتے ان دونوں شہروں کے درمیان تیز رفتار مسافر کے لئے ایک ماہ کی مسافت تھی‘‘۔

تفسیر مظہری میں بیان کیا جاتا ہے کہ ’’حضرت سلیمانؑ کے لشکر کی چھاؤنی سو فرسخ(ساڑھے پانچ کلومیٹر) میں تھی ،ان میں سے پچیس فرسخ جنوں کے لیے، پچیس انسانوں کے لیے، پچیس پرندوں کے لیے اور پچیس فرسخ دیگر جانوروں کے لیے تھے۔ آپؑ کے لیے لکڑی کے تخت پر سو گھر تھے جن میں آپؑ کی باندیاں رہائش پذیر تھیں۔ ان میں سے تین سو منکوحہ تھیں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ آپؑ تیز ہوا کو حکم دیتے تو وہ آپؑ کو لے کر چل پڑتی تھی۔ ‘‘۔ 

مزید : روشن کرنیں