فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر377

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر377
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر377

  

بمبئی کی فلمی صنعت میں حیدرآباد دکن سے تعلّق رکھنے والے چند ممتاز افراد بھی موجود تھے۔ جے راج، کے این سنگھ اور جگدیش سیٹھی نگار کے والد کے دوست اور شناسا بھی تھے۔ نگار سلطانہ نے ان کی سفارش سے فلمی دنیا میں پیر پھیلانے کا فیصلہ کیا اور فلم ساز و ہدایتکار ایم بھونانی کی فلم ’’رنگ بھومی‘‘ میں نگار سلطانہ کو اداکاری کا موقع مل گیا۔ نگار سلطانہ نے اپنی زیادہ تر توجہ سوشل تعلقات اور ’’غیر نصابی‘‘ سرگرمیوں پر مرکوز رکھی تھی۔ اس فلم نے تو قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کی تھی مگر نگار سلطانہ اپنے حسن و جمال اور شعر و شاعری کے زور پر بمبئی ٹاکیز سے وابستہ ہوگءں۔ ادبی ذوق نے بھی نگار سلطانہ کو بمبئی کے فلمی حلقوں میں متعارف کرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ ایک بے تکلّف، بے جھجک، آزاد خیال خاتون تھیں جو ہر قسم کی مردانہ محفلوں میں مرکز نگاہ بن جایا کرتی تھیں۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر376 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

نگار سلطانہ نے اداکاری کی جانب توّجہ دینے کے بجائے سیکنڈلز اور رومان پسندی کا راستہ اختیار کیا اور بہت جلد فلمی حلقے اور فلمی جرائد ان کی خبروں اور سرگرمیوں سے واقف ہوگئے۔ اس زمانے میں انہوں نے جو رومانی فتوحات کیں ان میں کمال امروہوی، ادکار رحمٰن اور ہدایت کار نجم نقوی شامل ہیں۔ نجم نقوی ایک شرمیلے او ر شریف النفس انسان تھے مگر کیونکہ ایک کامیاب ہدایت کار تھے اس لئے نگار سلطانہ کی جارحانہ کارروائیوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ بمبئی ٹاکیز کی انتظامیہ کو علم ہوا تو انہوں نے ادارے کی نیک نامی کے پیش نظر نگار سلطانہ کو برطرف کر دیا مگر اس وقت تک نگار سلطانہ نے بمبئی کی فلمی دنیا میں کافی دور تک پیر پھیلا لئے تھے۔ انہوں نے رنجیت فلم کمپنی سے وابستگی اختیار کر لی۔ ابھی ان کی کوئی قابل ذکر فلم ریلیز نہیں ہوئی تھی مگر رومانی محاذ پر ان کی پیش قدمی بہت تیزی سے جاری تھی۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

ظہور راجا ایک معروف اداکار اور ہیرو تھے اور ایک اطلاع کے مطابق انہو ں نے تاجی سے شادی کر لی تھی۔ تاجی ان دنوں اپنے والدین کے پاس لاہور گئی ہوئی تھیں۔ نگار سطانہ نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور ظہور راجا پر ڈ ورے ڈالنے شروع کر دئیے۔ کہتے ہیں کہ تاجی اچانک لاہور سے واپس بمبئی پہنچیں تو انہوں نے نگار سلطانہ کو اپنے شوہر کے ساتھ موجود پایا۔ وہ الٹے قدموں واپس چلی گئیں اور پھر ظہور راجا سے کوئی تعلّق نہیں رکھا۔ ادھر ظہور راجا کو ناکامیوں نے پریشان کر رکھا تھا۔ وہ زیادہ عرصے تک نگار سلطانہ کے چونچلے نہ اٹھا سکے۔ نگار سلطانہ نے کسی تاخیر کے بغیر پونا کا رُخ کیا جو فلمی صنعت کا ایک اہم مرکز تھا۔ پونا میں نگار کی ملاقات شیام سے ہوئی۔ نگار نے ہدایت کار اور اداکار کشور ساہو پر بھی جال پھینکا۔ ان کی اسی ز مانے میں اداکارہ سینہ پربھا پر دھان سے طلاق ہوئی تھی مگر کشور ساہو سنجیدہ مزاجی کے باعث نگار سلطانہ کے جال میں نہ پھنسا تو نگار نے شیام کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا مگر اسی زمانے میں شیام کو لاہور جانے کا اتفاق ہوگیا جہاں اس کی ملاقات تاج قریشی سے ہوگئی اور ان دونوں نے آپس میں شادی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

نگار کو یہ خبر ملی تو وہ آگ بگولا ہوگئی اور اس لئے کہ وہ شیام پر اپنا حق سمجھتی تھی۔ شیام نے نگار سلطانہ سے قطع تعلق کر لیا تو اس نے نغمہ نگار ڈی این تدھوک کو اپنی دلچسپی کا مرکز بنا لیا۔ 

تاجی سے شیام کی شادی کے بعد ناامید ہو کر نگار سلطانہ نے دوسرے منصوبوں پر غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ ایس ایم یوسف کی زیر نگرانی ’’دل کی بستی‘‘ کے نام سے ایک فلم بنائی جا رہی تھی۔ جس کے ہدایت کار وحید قریشی تھے۔ نگار سلطانہ کی ایس ایم یوسف سے پہلی ملاقات بمبئی میں ہوئی تھی جہاں ایس ایم یوسف صاحب کو نگار سلطانہ کی حرکتیں سخت ناپسند ہوئی تھیں۔ ان دنوں وہ فلم ’’دربان‘‘ بنا رہے تھے جس کی ہیروئن کوشلیا تھیں۔ یوسف صاحب کو نگار سلطانہ کی آزاد روی پر اعتراض تھا جو بلاتامل ہر ایک سے گھل مل جاتی تھی۔

’’دل کی بستی‘‘ کی فلم بندی پونا میں ہوئی تھی، اس زمانے میں نگار سلطانہ نے ایک بار پھر ایس ایم یوسف کو شکار کرنا چاہا مگر کامیابی نہ ہوئی۔ نگار کا منصوبہ اس وقت کامیابی سے ہم کنار ہوا تھا جب یوسف صاحب نے ’’بکھرے موتی‘‘ کے نام سے ایک فلم کی ہدایت کاری کا آغاز کیا جس کے فلم ساز مسٹر کبیر تھے۔ اس فلم کے لئے انہوں نے نگار سلطانہ کو ہیروئن منتخب کیا تھا۔ یوسف صاحب نے اس انتخاب پر سخت اعتراض کیا مگر پروڈیوسر کی یقین دہانی اور نگار سلطانہ کی طرف سے اچھّے کردار کا مظاہرہ کرنے کے وعدے کے بعد وہ مجبور ہوگئے۔ دل کی بستی اور بکھرے موتی کی فلم بندی کے دوران میں نگار سلطانہ ایس ایم یوسف کے نزدیک تر ہوگئیں۔ 

مشاعرے کی محفلیں سجائی جاتی تھیں جن میں نگار سلطانہ بھی ترنم سے بھاری آواز میں اپنا کلام سناتی تھیں۔ نگار سلطانہ کو مردوں کے انداز میں بات کرنے کی عادت تھی اور وہ خود کو مؤنث کے بجائے مذکر سمجھ کر گفتگو کرتی تھیں مثلاً میں جاؤں گا‘ میں آؤں گا وغیرہ۔(جاری ہے )

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر378 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /فلمی الف لیلیٰ