حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر33

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر33
حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر33

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سب سے بُرا دن

رسول کریمﷺ کی تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ انہیں کسی اجتماع سے خطاب کرنے کی اجازت نہ تھی۔ یہ مشرکینِ مکہ کے سرداروں کا فیصلہ تھا۔ اس صورتِ حال میں وہ خود بھی مکے سے ہجرت کر کے کسی اور شہر جا بسنے کے بارے میں سوچنے لگے تھے۔ کوئی ایسا شہر جہاں کے لوگوں کے دل اتنے سخت نہ ہوں، نفرتیں اتنی گہری نہ ہوں۔ غصے میں اتنی شدت نہ ہو۔ وہ جو خالقِ کائنات کے اتنے پیارے تھے، مکے کے گلی کوچوں میں ایک پل کے لئے بھی محفوظ نہیں تھے۔ 

وہ اکثر سوچا کرتے تھے کہ وہ طائف چلے جائیں، مکے سے جنوب میں ایک سرسبز، پُرفضا شہر جو ایک پہاڑی پر آباد تھا۔ صحرا کی جھلسا دینے والی حدت سے دور، پھلوں، باغوں، شہد کی مکھیوں اور تتلیوں کا شہر۔ اس شہر میں لات کی پرستش ہوتی تھی۔

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر32 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

 آخر ایک دن انہوں نے طائف کے لئے رختِ سفر باندھ لیا۔ طائف مکے سے ستر میل دور تھا اور حضورؐ، زیدؓ کو ساتھ لے کر پا پیادہ وہاں کے لئے روانہ ہو گئے۔

مکے کا یہ تاجر جو ایک زمانے میں کئی تیز رفتار اونٹوں کا مالک تھا، آج اللہ کی راہ میں خرچ کر کر کے اتنا مفلس ہو گیا تھا کہ اُس کے پاس سفر کے لئے کوئی سواری نہیں تھی۔ اُس کُرتے پر جو اُس نے پہن رکھا تھا، جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے، ایک رومال تھا جو چہرے کو، اُڑ اُڑ کر پڑنے والی گرم ریت سے بچانے کے کام آتا تھا۔ اس لباس میں وہ اتنے حسین لگ رہے تھے کہ میں نے کسی کو، کسی لباس میں اُن سے خوب صورت نہیں پایا۔ یہ پھٹے پرانے کپڑے اُن کے بدن پر زرتارپوشاک کی طرح سجے ہوئے تھے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

جب وہ اس بے سروسامانی میں رخصت ہو گئے تو ہم نے سوچا کہ اُن کا اس طرح جانا مناسب نہیں ہے۔ اُن کے ساتھ کچھ اور لوگ ہونے چاہئیں۔ چنانچہ ہم اُن کے پیچھے پیچھے گئے اور تھوڑی دیر میں انہیں جا لیا۔ انہوں نے ہمیں دیکھا تو واپس بھیج دیا۔ دل میں طرح طرح کے وسوسے اُٹھتے تھے۔ سفر کے لئے صحرائے عرب کی روایتی ناسازگاری اور ناموافقت، دھوپ کی جھلسا دینے والی تپش، بادِ سُموم، راستے کے کئی ناگہانی خطرات۔ کبھی راستے میں کنویں بھی سوکھے ملتے تھے اور پھر سب سے زیادہ دشمنوں کا خوف۔ ہزار باتیں تھیں جن کا رہ رہ کر خیال آتا تھا۔

ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے۔ دو ہفتے بعد جب وہ واپس آئے تو پہچانے نہیں جا رہے تھے۔ کمزور، نحیف، سارے بدن پر رستے ہوئے زخم۔ بڑی مشکل سے قدم اٹھا رہے تھے۔ آتے ہی ہاتھ کے اشارے سے پانی مانگا۔ پانی پی کر خاموشی سے اندر چلے گئے اور جا کر بستر پر لیٹ گئے۔ نہ انہوں نے کچھ کہنا مناسب سمجھا، نہ ہمیں ہی کسی سوال کی جرأت ہوئی۔ زیدؓ نے ہمیں تمام ماجرا سنایا۔

وہ خیر و عافیت سے طائف پہنچ گئے تھے۔ راستے میں کوئی قابل ذکر واقعہ پیش نہیں آیا۔ وہاں پہنچ کر وہ سیدھے عمرو بن اُمیہ کے بیٹوں سے ملاقات کے لئے اُن کے گھر گئے۔ عمرو کے تین بیٹے طائف کے سب سے بااثر سردار تھے۔ وہ اُن کے یہاں پہنچے تو دربار سا لگا ہوا تھا۔ تینوں بھائی گدوں پر بیٹھے تھے۔ سامنے انواع و اقسام کی اشیائے خوردنی رکھی تھیں۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ انہوں نے رسالت مآبؐ کو نہایت حقارت سے دیکھا، اس انداز سے گویا کوئی کھیل ہاتھ آگیا ہے اور اب تفریح رہے گی۔

محمدؐ نے انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو ایک بھائی بولا:

’’اگر اللہ نے تمہیں رسول بنا کر بھیجا ہے تو میں کعبے کے معلقات نوچ کر پھینک دوں گا۔‘‘

دوسرا گستاخانہ انداز میں کہنے لگا:

’’اللہ کو تم سے بہتر کوئی نہیں ملا تھا؟‘‘

تیسرے بھائی کم شقی القلب نہ تھا،اس نے تو بات ہی ختم کر دی:

’’اگر تم اللہ کے رسول ہو تو ہمارا منصب نہیں ہے کہ ہم تم جیسے فرشتوں سے بات کر سکیں اور اگر تم رسول نہیں ہو تو تم جھوٹے اور فریبی ہو۔ اُس صورت میں بھی ہمیں تم سے بات نہیں کرنا چاہئے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور کنکر پتھر جو ہاتھ میں آیا اُٹھا اُٹھا کر رسول اللہ ؐ پر پھینکنے لگے۔ اُن کے حواری بھی اس شغل میں اُن کے شریک تھے۔ محلے کے بچے بھی شامل ہو گئے۔ چیختے چلاتے، طوفان برپا کرتے بچے جنہیں کچھ ہوش نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، بہت بڑی تفریح سمجھ کر اُن پر پتھروں کے وار پروار کئے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ زخموں سے نڈھال، وہاں سے جان بچا کر نکلے اور صحرا کی راہ لی۔ اُس دن کے بارے میں وہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ وہ اُن کی زندگی کا بدترین دن تھا۔

اُس دن اُن پر صرف ایک کرم ہوا۔ جب وہ شہر سے باہر صحرا کی طرف جا رہے تھے تو فصیلِ شہر سے باہر ایک باغ میں عدّاس نامی ایک عیسائی غلام کام کر رہا تھا۔ اُس نے اُن کی یہ حالت دیکھی تو انگوروں کا ایک خوشہ انہیں لا کر دیا۔ کیا خوش نصیب انسان تھا عدّاس جس نے انگوروں کے ایک خوشے کے عوض جنت کا سودا کر لیا۔ زندگی کتنا بڑا جُؤا ہے اور حادثات کسی کسی کے لئے کتنے خوش آئند ہو سکتے ہیں۔ سوچا جائے تو جنت کا راستہ طویل بھی ہے، مختصر بھی۔ مجھے پتہ نہیں عدّاس کا راستہ کون سا ہے لیکن میرے دل میں اُس کے لئے بڑا پیار ہے۔(جاری ہے )

حضرت بلالؓ کی ایمان افروز داستان حیات ۔۔۔ قسط نمبر34 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /حضرت بلال