شام کے شہر الغوطۃ میں پھنسی ان 2 چھوٹی سی مسلمان بچیوں نے انٹرنیٹ پر ایسی بات کہہ دی کہ ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا، جان کر ہر پاکستانی کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں

شام کے شہر الغوطۃ میں پھنسی ان 2 چھوٹی سی مسلمان بچیوں نے انٹرنیٹ پر ایسی بات ...
شام کے شہر الغوطۃ میں پھنسی ان 2 چھوٹی سی مسلمان بچیوں نے انٹرنیٹ پر ایسی بات کہہ دی کہ ہر شخص کو ہلا کر رکھ دیا، جان کر ہر پاکستانی کی بھی آنکھیں نم ہوجائیں

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام کے شہر الغوطة کے مشرقی حصے پر حکومتی افواج کی طرف سے بموں کی برسات جاری ہے۔ اگرچہ حکومت کرد باغیوں سے شہر کے اس حصے کا قبضہ چھڑوانے کے لیے یہ بمباری کر رہی ہے لیکن اس کا سب سے بڑا نشانہ عام شہری بن رہے ہیں جن میں کثیرتعداد معصوم بچوں کی ہے۔ اب وہاں سے دو معصوم بہنوں کی ایسی ویڈیو منظرعام پر آ گئی ہے کہ دیکھ کر ہر کسی کی آنکھیں نم ہو جائیں گی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 8سالہ عالا اور 11سالہ نور مشرقی الغوطة میں پھنس کر رہ جانے والے لاکھوں عام شہریوں میں سے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز بمباری سے تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے پر کھڑے ہو کر ایک ویڈیو بنائی ہے اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہے جس میں انہوں نے روتے ہوئے پوری دنیا سے مدد کی درخواست کی ہے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ننھی عالا بمباری سے زخمی ہوتی ہے۔ اس کی بائیں آنکھ کے قریب گال پر ایک گہرا زخم آیا ہوتا ہے جس سے خون بہہ رہا ہوتا ہے اوراس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔اس کے پاس کھڑی نورکی آنکھوں سے بھی آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں اور وہ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہوتی ہے ”دنیا والو!خدا کے لیے ہماری مدد کرو۔“کچھ دیر بعد ان بہنوں نے ایک اور ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے بتایا کہ ”ایک ماہ قبل بمباری میں ہمارا گھر تباہ ہو گیا تھا۔ اب ہم بے گھر ہیں اور ملبے کا ڈھیر بنی عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں اور ان پر بھی بم برسائے جا رہے ہیں۔“ اس ویڈیو میں بھی نور روتے ہوئے دنیا سے درخواست کرتی ہے کہ ”الغوطة کو بچا لو۔“ ایک اور ویڈیو میں ننھی عالا اپنی گڑیا کو سینے سے لگائے دنیا سے معصوم سا سوال پوچھتی ہے کہ ”یہ بمباری کیوں نہیں رک رہی؟ اور کتنے بچوں کو مرنا پڑے گا؟ پلیز، پلیز الغوطة کے بچوں کو بچا لو، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔“ ٹوئٹر پر ان معصوم بچیوں کی ویڈیوز دنیا میں لاکھوں لوگوں کو رلا رہی ہیں لیکن شاید نام نہاد عالمی رہنماﺅں کے ضمیر جھنجھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

مزید : بین الاقوامی