غلاف کعبہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی نہیں کی جاتی:سرکاری خطاط

غلاف کعبہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی نہیں کی جاتی:سرکاری خطاط
غلاف کعبہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی نہیں کی جاتی:سرکاری خطاط

  

مکہ مکرمہ(این این آئی)کعبہ اللہ کے غلاف کسوہ کے سرکاری خطاط مختار عالم شقدر نے وضاحت کی ہے کہ بعض لوگوں کے خیال میں کسوہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ فیکٹری نے مستقبل میں استعمال کے لیے سانچے بنا رکھے ہیں۔

عرب ٹی وی کے مطابق مختار عالم شقدر کعبہ اللہ کے غلاف کسوہ کے سرکاری خطاط ہیں،وہ اپنے پیش رو عبدالرحیم بخاری کے 1996ء میں انتقال کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔انھوں نے وضاحت کی کہ بعض لوگوں کے خیال میں کسوہ پر ہر سال قرآنی آیات کی نئے سرے سے خطاطی کی جاتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا بلکہ فیکٹری نے مستقبل میں استعمال کے لیے سانچے بنا رکھے ہیں۔ان سانچوں کی تیاری کے مختلف مراحل ہوتے ہیں۔اول ،قرآنی آیات کا متن کاغذ کے کسی ٹکڑے پر ہاتھ سے لکھا جاتا ہے ،پھر انھیں ایک گرافک آرٹسٹ کمپیوٹر نظا م میں شامل کرتا ہے۔

پھر کمپیوٹر سے اس متن کا ایک صاف کاغذ پر پرنٹ لیا جاتا ہے اور اس کو سانچے کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔پھر سانچے کو کشیدہ کاری کے شعبے میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں ہنر مند کشیدہ کار سنہرے اور نقرئی دھاگے کی مدد سے کسوہ کو سیتے اور قرآنی الفاظ کو نمایاں کرتے ہیں ۔ان کے بقول کسوہ فیکٹری کو کمپیوٹر ٹیکنالوجی سے یہ مدد ملی ہے کہ اس ذریعے سانچوں کے ڈیٹا کو محفوظ کر لیا جاتا ہے اور اس طرح اس کو ضائع ہونے سے بچا لیا جاتا ہے۔

مزید : عرب دنیا