افغانستان میں تعیناتی نے امریکی فوجی کا دماغ اُلٹا دیا، واپس جاتے ہی اپنے ملک میں قیامت برپا کردی، وہ خوفناک ترین کام کرڈالا کہ کوئی امریکی سوچ بھی نہ سکتا تھا

افغانستان میں تعیناتی نے امریکی فوجی کا دماغ اُلٹا دیا، واپس جاتے ہی اپنے ...
افغانستان میں تعیناتی نے امریکی فوجی کا دماغ اُلٹا دیا، واپس جاتے ہی اپنے ملک میں قیامت برپا کردی، وہ خوفناک ترین کام کرڈالا کہ کوئی امریکی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں تعیناتی نے ایک امریکی فوجی کا دماغ ہی الٹا دیا جس نے واپس جاتے ہی ویٹرنز ہوم (Veterans Home)میں فائرنگ کرکے تین خواتین کو قتل کر دیا اور پھر خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق البرٹ وونگ نامی یہ 36سالہ سابق فوجی کچھ عرصہ قبل ہی افغانستان میں ڈیوٹی دے کر واپس لوٹا تھا اور امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع اسی ویٹرنز ہوم میں اس کا ذہنی علاج ہو رہا تھا ، چند دن پہلے اس فیسیلٹی کی خاتون ڈاکٹر جین گولک نے البرٹ کو ہوم سے نکال دیا تھا۔گزشتہ روز وہ بلٹ پروف جیکٹ پہنے اور رائفل اٹھائے اس وقت ویٹرنز ہوم کی عمارت میں گھسا جب اندر ایک ملازم کی ریٹائرمنٹ پر اسے پارٹی دی جا رہی تھی۔

البرٹ نے اندر موجود لوگوں کو یرغمال بنایا اور پھر باقی تمام لوگوں کو باہر نکال دیا تاہم تین خواتین 42سالہ ڈاکٹر جین گولک، 29سالہ ڈاکٹر جینیفر گونزالس اور48سالہ کرسٹین لوئبر کو اندر ہی 10گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا اور پھر انہیں گولیاں مار کر قتل کرنے کے بعد خود کو بھی گولی مار لی۔ رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار جب اندر داخل ہوئے تو ان کے سامنے چاروں کی لاشیں پڑی تھیں۔ البرٹ کے یہ اقدام اٹھانے کی وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نے ہوم سے نکالے جانے کی پاداش میں ڈاکٹر جین گولک سمیت تین خواتین کو قتل کیا۔ واضح رہے کہ البرٹ وونگ نے محض ایک سال کے لیے افغانستان میں کی تھی، جس پر وہ شدید ڈپریشن اور ذہنی عارضے کا شکار ہو گیا اور اسے واپس بھیج دیا گیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی