’چین میں اب اس طرح کی مساجد نہیں بننی چاہئیں‘ چینی حکومت نے مسلمانوں کے لئے وارننگ جاری کردی، لیکن کس چیز سے منع کیا؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

’چین میں اب اس طرح کی مساجد نہیں بننی چاہئیں‘ چینی حکومت نے مسلمانوں کے لئے ...
’چین میں اب اس طرح کی مساجد نہیں بننی چاہئیں‘ چینی حکومت نے مسلمانوں کے لئے وارننگ جاری کردی، لیکن کس چیز سے منع کیا؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چین میں مسلمانوں پر طرح طرح کی مذہبی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جن کی وجہ حکومت کی طرف سے شدت پسندی کے پھیلاﺅ کو روکنا بتائی جاتی ہے۔ اب چینی حکومت نے مسلمانوں کوغیرملکی سٹائل کی مساجد بنانے سے بھی روک دیا ہے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق چین میں لگ بھگ2کروڑ کے قریب مسلمان ہیں جن کی اکثریت ملک کے مغربی حصے میں رہتی ہے۔ اگرچہ چین سرکاری طور پر مذہبی آزادی کو یقینی بناتا ہے تاہم مسلم اکثریتی علاقوں میں اس کی طرف سے کئی مذہبی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

چین کی حکومت سے منسلک اسلامی ایسوسی ایشن بھی ان پابندیوں کی حامی ہے۔ ایسوسی ایشن کے سربراہ یانگ فیمنگ کا کہنا ہے کہ ”غیرملکی طرز کا لباس اور مساجد کا طرز تعمیر ملک کے سیکولر ڈھانچے کے خلاف ہے۔ چینی مسلمانوں کو چین کا روایتی لباس پہننا چاہیے اور چینی طرز تعمیر کے مطابق ہی مساجد بنانی چاہئیں۔بعض مسلمان مذہبی قوانین پر انتہائی سختی سے عمل کرتے ہیں لیکن ملکی قوانین کو فراموش کر دیتے ہیں۔انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ چینی شہری ہونے کے ناتے ان کے کیا فرائض ہیں۔“

مزید : بین الاقوامی