طلاق یافتہ خواتین کو اب اس کام کے لئے عدالت جانے کی ضرورت نہیں، سعودی حکومت نے خواتین کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی

طلاق یافتہ خواتین کو اب اس کام کے لئے عدالت جانے کی ضرورت نہیں، سعودی حکومت ...
طلاق یافتہ خواتین کو اب اس کام کے لئے عدالت جانے کی ضرورت نہیں، سعودی حکومت نے خواتین کو سب سے بڑی خوشخبری سنادی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جدہ(مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بڑے اقدامات اٹھانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تک خواتین کو بھی کئی ایسے حقوق دیئے جا چکے ہیں جن کا ماضی میں تصور بھی محال تھا۔ اب سعودی خواتین کو طلاق کے بچوں کی حوالگی کے حوالے سے نئی خوشخبری سنا دی گئی ہے۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت قانون کی طرف سے ایک نیا سرکلر جاری کیا گیا ہے جس میں خواتین کو طلاق کے بعد بچوں کی حوالگی کے لیے عدالت میں مقدمہ لڑنے سے استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

رپورٹ کے مطابق اس سے قبل طلاق کی صورت میں بچے باپ کو دے دیئے جاتے تھے اور ماں کو بچے حاصل کرنے کے لیے طویل مقدمہ لڑناپڑتا تھا۔ اس نئے سرکلر کے تحت طلاق کی صورت میں بچے ماں کے حوالے کیے جائیں گے اور اگر باپ بچوں کو اپنی تحویل میں لینے کا خواہش مند ہو گا تو وہ عدالت سے رجوع کرے گا۔ اس صورت میں مقدمہ چلے گا اور عدالت فیصلہ کرے گی تاہم تب تک بچے ماں کے پاس ہی رہیں گے۔ معروف سعودی وکیل مجید گیروب کا کہنا تھا کہ ”پہلے خواتین کو بچے حاصل کرنے کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا تھا جس سے ماﺅں اور بچوں کے ذہنوں پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوتے تھے۔ بچوں کی حوالگی کے لیے ماﺅں کو جو طویل قانونی جنگ لڑنی پڑتی تھی وہ ان کے لیے انتہائی کٹھن ہوتی تھی۔ اس نئے سرکلر سے ان کی یہ مشکل حل ہو گئی ہے۔“

مزید : عرب دنیا