افق کے پار توکچھ او ر ہے

افق کے پار توکچھ او ر ہے
افق کے پار توکچھ او ر ہے

  


روایتی چینی اژدھے، سائبیرین ریچھ اور مسلم شاہین کے اتحاد ثلاثہ کی ذرا سی بھنک کیا عام ہوئی کہ پورا اسلام آباد 2014ء میں مفلوج کر کے چینی صدر کا دورہ ملتوی کرا دیا گیا تھا۔ 2016ء میں یہ راز کھل گیا کہ ترک طیارے سے روسی جہاز گرانے والا ترک پائلٹ، امریکی کارندے او ر خود ساختہ جلاوطن گولن کا آدمی تھا۔ ترکی اور روس کے تعلقات بگاڑے گئے، ادھر چین پاکستان کے مابین سی پیک اب پولیو زدہ ٹانگیں سنبھالنے کی فکر میں ہے۔

امریکی سینٹ کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی میں جنرل جوزف ووٹل نے کہا: ’’پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ میں جتنا تعاون کیا اِتنا گزشتہ اٹھارہ سال میں دکھائی نہیں دیا‘‘ (اور یہی چھ ماہ چنیدہ وزیراعظم کی مدتِ اقتدار ہے)۔

اب آپ کو چینی صدر کے دورے میں بذریعہ دھرنا رکاوٹ ڈالنا سمجھ آ جانا چاہئے۔ لڈو کے اس عالمی کھیل میں 28 جولائی 2017ء کوپاکستان ننانوے سے ایک دفعہ پھر 16 اکتوبر 1951ء کے زیرو پوائنٹ پر پہنچ چکا ہے۔

انکل سام کے ڈوبتے ہوئے ٹائی ٹینک کو کچھ سہارا تو مل گیا ہے، لیکن تابہ کہ۔ اس کی قیمت مودی کے دو ایک جہاز ہو تو خسارے کا سودا نہیں ہے۔ خسارے میں کون رہا اژدھا، ریچھ یا شاہین؟ لوگ جسٹس منیر اور ایوب خان کے آسیب کا شکوہ کرتے ہیں، میری نظر تو میر جعفروں اور میر صادقوں پر ہے:

خون وفائے بسمل جُرم نگاہ قاتل

ظاہر تو ہر جگہ ہے، ثابت نہیں کہیں سے

چند رہنما اصول بتا دیتا ہوں آپ حالات کا تجزیہ خود کرسکتے ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ جب افراتفری ہو،ذرا ذرا سی بات پر چھوٹے بڑے گروہ حکومت کے خلاف سڑکوں پرہوں تو سمجھ جائیں حکومت ٹھیک چل رہی ہے۔ نادیدہ قوتیں اور نامعلوم افراد حرکت میں ہیں اور بین الاقوامی حکومت سازوں کو مسائل درپیش ہیں۔

آسیہ مسیح کا معمولی سا مسئلہ تھا جسے بُری طرح اُچھالا گیا کہ حکومت کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کی دیر تھی گو یا سارا کام اس وقت کی حکومت نے کیا۔ ختم نبوت کے ایک معمولی سے نکتے کو اس نفاست سے حکومتی وزیر کے خلاف استعمال کیا گیا کہ وزیر کو استعفیٰ دینا پڑا۔دوسری طرف آسیہ مسیح سب سے بڑی عدالت سے بری ہو گئی تو چھوٹی سی خبر پڑھنے کو ملی اور زندگی حسب سابق رواں دواں تھی۔ سمجھ جائیں کہ چنیدہ حکومت بین الاقوامی حکومت سازو ں کے حسبِ منشا چل رہی ہے۔

میری نظر تو میر جعفروں اور میر صادقوں پر ہے۔ معلوم ہوا صدرِ مملکت نے امریکی صدر کو کسی ملکی ادارے کے متعلق کوئی خط لکھ دیا۔ ایسی مکتوب نویسی اگریہ جرم ہے تو، اس سے بڑے جرائم وہ لوگ کرتے ہیں جن کے خلاف اخبار میں دو سطری خبر نہیں چھپ سکتی۔ اس مبینہ خط پر افراتفری مچانے والوں کی حساسیت کا یہ عالم تھا ایک جنرل کو عام سے امریکی شہری سے ملاقات کی غرض سے بھیجا گیا:جس سے ایک میجر کرنل بھی مل کر مقصد حاصل کر سکتا تھا۔ سمجھ جائیں کہ مجوزہ ایرانی گیس پائپ لائن کا بھگتان صدرِ مملکت کے ذمے ہے۔ میری نظر تو میر جعفروں اور میرصادقوں پر ہے!

ادھر حکومت حلف برداری کے تکلف سے آزاد ہوئی۔ ہوم ورک کر کے ملک کو ترقی کی شاہراہ پر لے جانے کی کوششیں شروع ہوئیں۔ ساتھ ہی نادیدہ قو قوں کے اشارے پر وہ صاحب شریک دھرنا تھے جو امریکی سرزمین پر ایف بی آئی کے حصار میں رہتے ہیں۔

ان کے پارٹنر نے کیا کیا گل افشانی نہیں کی۔ ٹیکس دینے سے انکار، پولیس کو خوب مارنے کے شرکائے دھرنا کو ترغیب اور ناقابلِ بیان الفاظ اور ماحول کا فروغ کہ ایس ایچ او بھی تعزیراتِ پاکستان کی دفعات لاگو کر کے ایف آئی آر کاٹ سکتا تھا۔

کیا کسی کو یاد ہے، دھرنے کے ایام میں کراچی لاہور میں استادوں نے اپنے مطالبات کے حق میں چند گھنٹے پُرامن مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تو ان کی ٹانگیں توڑ دی گئیں، ان ایام کے اخبار دیکھ لیں۔دھرنے کے ذریعے پوری حکومتی مشینری مفلوج، راستے بند، پولیس کے معصوم اہل کاروں کی دھنائی اور رینجرز تماشائی ۔ میری نظر تو میر جعفروں اور میرصادقوں پر ہے! ماضی دیکھ لیں، نظام مصطفی کے نام پر کیا نہیں ہوا ،ہوا وہ جو سب کچھ تھا نظام مصطفی نہیں تھا۔

دوسرا اصول کہ عوامی امنگوں سے قائم حکومت کوئی ایسا کام نہیں کر سکتی جو عوامی امنگوں کے خلاف ہو۔ سیاست دان اپنی ذاتی زندگی میں کچھ بھی ہوں،اجتماعی فیصلے کرتے ہیں تو اپنے نقطہ نظر کو بالائے طاق رکھ کر عوامی امنگوں ہی کے حسبِ حال چلتے ہیں۔جنرل ضیا الحق نے آمرانہ اختیارات سے وزیراعظم کے مسلمان ہونے کی شرط آئین سے نکال دی تھی۔

ملک پچیس سال اس حالت میں رہا کہ کوئی ہندو، سکھ، احمدی، کوئی بھی وزیراعظم بن سکتا تھا۔ ربع صدی میں پوری کوشش کے باوجود حالات سازگار نہ ہو سکے۔2010 ء میں عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ او ر پیپلز پارٹی نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے وزیراعظم کا مسلمان ہونا لازم قرار دے دیا اور یہ آئینی ترمیم ان جماعتوں نے کی تھی جو خود کو سیکولر کہتی ہیں اور ملک کو سیکولرریاست ہی دیکھنے کی خواہش مند ہیں۔

عوامی امنگوں کے خلاف چلنا ان میں سے کسی کے لئے ممکن نہیں تھا۔ یہ کام آمر ہی کر سکتا ہے،جو 1985ء میں اس نے کیا۔ کیوں کیا؟ مَیں اپنی پوری کوشش کے باوجود کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔

غیر ملکی مرضی اور منشا کے حسبِ حال چلنے والی حکومت اور اس کے سربراہ کی پہچان کا تیسرا اصول یہ ہے کہ اس عہد میں آپ کو چند طے شدہ راہنما اصولوں سے انحراف کا سبق ملے گا۔ آمرانہ دور میں بھی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ دستور میں بھلے ترمیم کرتے رہو، پارلیمانی نظام سے چھیڑ خانی نہیں کی جا سکتی۔

عالمی مرضی و منشا یہ ہے کہ ملک میں صدارتی نظام رائج ہو جو آئینی طور پر ممکن نہیں ہے، حل یہ کہ آزادئ رائے کے نام پر بحث کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، یک طرفہ رائے سازی سے کام لیا جاتا ہے۔

مباحثے کی افادیت سے انکار جرم ہے اسے جاری رہنا چاہئے۔ عوام صدارتی نظام پسند کریں تو آزادانہ انتخابات۔۔۔ حالیہ ’’شفاف ترین‘‘ انتخابات نہیں۔۔۔ کے بعد اپنے نمائندگان کے توسط سے یہ کام ہو سکتا ہے۔

شرط یہ ہے کہ خواہش مند سیاسی جماعتیں اسی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیں اور اس نکتے پر عوام کی رضامندی حاصل کریں۔ تب یہ کام بھلے ہو، اعتراض نہیں ہو سکتا۔

میں تو ایک راہنما اصول بتا رہا ہوں کہ عالمی طاقتوں کے لئے فردِواحد سے معاملہ کرنا آسان ہوتا ہے، فردواحد فوجی آمر ہو یا کوئی آئینی صدر ہو۔ پارلیمانی نظام میں پارلیمینٹ سے معاملہ آسان نہیں ہوتا۔

یمن کی جنگ کے لئے پاکستانی فوجیں ملک چھوڑنے کے قریب تھیں کہ پارلیمینٹ نے کھنڈٹ ڈال دی ورنہ دہشت گردی کے خلاف جیتی ہوئی جنگ ہار دی جاتی اور ملک فرقہ وارانہ جنگ سے نمٹ رہا ہوتا اور یہی عالمی طاقتوں کی مرضی رہتی ہے۔

ان کے مقامی کارندے ہر سطح پر موجود رہتے ہیں، جو حکومتوں کو بے دست وپا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ دھرنے کی مثال دہرانا یا امپائر کی انگلی کا مکرر تذکرہ بے سود ہے، عام آدمی یہ چالیں سمجھ چکا ہے۔ دو ایک دفعہ آزادانہ انتخابات آئینی تقاضوں کے مطابق ہو جائیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا(یہ دعا نہ بھولیں کہ ’’شفاف ترین‘‘ انتخابات نہ ہوں)۔

چوتھا اصول آپ بخوبی سمجھتے ہیں میں تو منتشر نکات یکجا کر کے آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ اصول یہ ہے کہ حکمران عالمی حکومت سازوں کے لئے قابل قبول ہو تو اسے سات خون معاف ہیں۔ اس کے برعکس ہو تو وہی مثال کہ ’’قصور یہ ہے کہ آٹا گوندھتے ہوئے ہلتی ہے‘‘۔ تقسیم سے قبل کی کوئی مثال نہیں ، کل کی بات ہے وزیراعظم کو نشانہ بنایا گیا تو بھونڈے پن کی کون سی شکل ہے، جو اختیار نہیں کی گئی۔

تمام خردبینی مشاہدے اور تفتیش کے بعد بھی کوئی ثبوت نہیں ملا، جس کی بنیاد پر عوام میں معمولی سی حرکت پیدا کی جا سکتی تو اس مزاحمتی وزیراعظم کو ایسے الزام پر نا اہل کر دیا گیا جو اس وقت کے چیف جسٹس کے بقول ’’یہ الزام تو ہر ایک پر ہے استثنیٰ ہو تو شاید سراج الحق صاحب کو ملے۔‘‘ عالمی طاقتوں اور مقامی کارندوں کے لئے قابل قبول حکمران ہو تو اسے سات خون معاف ہو جاتے ہیں۔ آئینی طور پرکوئی شخص وزیراعظم تو کیا پارلیمان کا رکن بھی نہیں بن سکتا جسے اخلاقی جرم میں کسی عدالت سے سزا ہو چکی ہو۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک صاحب کیلیفورنیا کی ایک عدالت کا فیصلہ لے کر بغرض داد رسی گئے۔ فیصلہ نہایت سنگین الزامات کے ثبوت لئے ہوئے تھا۔ انہی ثبوتوں پر کیلی فورنیا کی عدالت کا فیصلہ تھا۔

سائل نے درخواست کی کہ رکن پارلیمان کو نااہل کر دیا جائے۔ معزز عدالت نے اس سرزنش کے ساتھ درخواست خارج کر دی کہ ’’آئندہ اس طرح کا مقدمہ آیا تو جرمانہ ہو گا۔ اسلام ان جرائم کے الزامات کو چھپانے کا حکم دیتا ہے‘‘۔ عشروں پر محیط اپنے معمولی سے قانونی فہم کی مدد سے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ امریکی عدالت کے شائع شدہ فیصلے کو کیونکر چھپایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی سمجھ میں نہ آ سکا کہ کیا معزز عدالت الزام اور عدالتی فیصلے میں فرق کرنے سے قاصر ہے یا وہی مسئلہ درپیش ہے: ’’سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو‘‘ کیا فقیہانِ عدالت کیا وکیلانِ وطن۔ مَیں نے یہی نتیجہ نکالاجو چوتھے اصول کی شکل میں پیش کر رہا ہوں اور ایک مثال سامنے رکھی ہے۔ ورنہ الیکٹ ایبل کی فہرست پر سرسری سی نظر ڈالیں اقتدار کی چھتری تلے آتے ہی یہ لوگ تمام الزامات سے پاک قرار دئیے جا چکے ہیں۔

یہ اصول ہماری ستر سالہ تاریخ کا نچوڑ ہیں۔ مستقبل کے پردے میں کیا پوشیدہ ہے، یہ ربِ کائنات کو علم ہے۔ رب کائنات اپنے لامحدود علم کا کچھ حصہ بندوں کو بھی دیتا ہے۔ تجزیہ نام کا ایک فن ہے،جس کے نتائج کبھی صحیح اور کبھی غلط دونوں صورتوں میں ہوتے رہتے ہیں۔مَیں اپنے محدود سے علم کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ آنے والے دن ہم بدنصیبوں کو حالت جنگ اور حالت خوف میں گزارنا ہوں گے۔

اس مدت کی طوالت کتنی ہو گی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ ذرا غور کریں حالیہ ہلکی سی جنگی سرگرمی کا فائدہ کس کو پہنچا ہے۔ رائے عامہ ہرزاویے سے وفاقی حکومت کے خلاف تھی۔ اس کو لانے اور شفاف ترین ’’انتخابات کرانے والے‘‘ عوام کا سامنا کرنے سے قاصر تھے۔ قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ، روپے کی پست ترین قیمت خرید، مہنگائی کا عفریت، منجمد دفتری نظام، ہر کام کے اُلٹے نتائج، خواب فروشی مندی کا شکار، فیس بک پر ایک ارب درختوں کے بعد دس ارب درختوں کی نئی خواب فروشی کے حصص میں گراوٹ، 350 ڈیم کی تعمیر بے چارگی کا شکار، ایک کروڑ ملازمتوں کا جھانسہ، فُٹ پاتھ پر سونے والوں کو شیلٹر کی فراہمی، یہ وہ چند عنوانات ہیں جن پر عالمی حکومت سازوں اور ان کے مقامی کارندوں نے اس حکومت کی داغ بیل ڈالی تھی۔

خیال تھا کہ دھرنے کے مثل ناچ گاکر پانچ سال گزر جائیں گے۔ پردہ ڈالنے کے لئے عالمی حکومت سازوں کا سرحدی کشیدگی پیدا کرنا اور دو ایک جہاز گرا دینا ذرے کے مثل ہے۔

ملازمت مانگنے پر جواب مودی، ڈیم کا ذکر تو مو دی،مہنگائی ہو تو مودی، قرضوں کا الزام توجواب حالت جنگ،درختوں کا ذکر تو ہندوستانی خطرہ، اسٹاک ایکسچینج میں ابتری کا جواب ہندی خطرہ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کے لانے والوں کے پوبارہ، ایک جہاز کیا گرا سارے الزامات دھندلاہٹ کی نذر ۔ جاگیردار اپنے کارندوں کو تحفظ دیتا ہے۔

عالمی اسٹیبلشمنٹ اور جاگیردار ایک ہی چہرے کے دو نام ہیں۔ ایک میکروپیمانے کا تو دوسرا مائیکرو حجم کا۔امریکی سینیٹ کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی میں جنرل جوزف ووٹل نے کہا: ’’پاکستان نے گزشتہ چھ ماہ میں جتنا تعاون کیا اِتنا گزشتہ اٹھارہ سال میں دکھائی نہیں دیا‘‘ (اور یہی چھ ماہ چنیدہ وزیراعظم کی مدتِ اقتدار ہے)۔

مزید : رائے /کالم