حالیہ انڈو پاک ملٹری سٹینڈ آف کے مثبت پہلو

حالیہ انڈو پاک ملٹری سٹینڈ آف کے مثبت پہلو
حالیہ انڈو پاک ملٹری سٹینڈ آف کے مثبت پہلو

  


گزشتہ چند روز کے انڈو پاک ملٹری سٹینڈ آف نے پاکستان کی نئی نسل کو کئی ایسے موضوعات سے باخبر کر دیا ہے جو 15،20 برس پہلے گزشتہ نسل کی نگاہوں سے اوجھل تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اٹھارہ بیس سال کی مدت کسی نسل کو جوان ہونے کے لئے درکار ہوتی ہے۔ اس تناظر میں کہا جائے گا کہ 1947ء میں قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کے 70 برسوں میں پاکستان کی چوتھی نسل جوان ہو رہی ہے۔

بیس سے چالیس برس کی عمر شباب کی عمر کہلاتی ہے،چالیس سے ساٹھ سال ادھیڑ عمری کے ماہ و سال شمار ہوتے ہیں اور ساٹھ سے اوپر بڑھاپے کی عمر ہے۔ اس کالم کے افتتاحی جملے میں، میں نے جس نئی نسل کا ذکر کیا ہے وہ 1998ء میں پیدا ہوئی۔

دوسرے لفظوں میں ہماری یہ چوتھی نسل جوہری اہلیت کے سائے تلے پلی بڑھی ہے۔ مئی 1998ء میں پاکستان نے جو جوہری دھماکے کئے تھے ان کی گونج تیسری نسل نے تو سنی اور دیکھی تھی لیکن چوتھی نسل کو اس کا شعور حالیہ انڈو پاک ملٹری سٹینڈ آف ہی میں ہوا۔

اس سے پہلے جوہری بربادی وغیرہ کا خیال ایک مبہم سا تصور تھا جس کے تجسیمی امکانات اواخر فروری 2019ء سے لے کر اب تک حقیقت بنتے نظر آنے لگے تھے۔ ہمارے وزیراعظم نے اگرچہ کہہ دیا ہے کہ بدترین خطرہ ٹل گیا ہے لیکن دشمن ملک کا وزیراعظم ابھی تک مان کے نہیں دے رہا۔

اس موضوع پر گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان اور بھارت میں بحث و تکرار کے سلسلے چل رہے ہیں۔ لیکن میں اس کالم میں پانچ سات ایسے معاملات پر قارئین کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کروں گا جو ہماری چوتھی نسل دیکھ رہی ہے۔

اولاً: یہ کہ پاکستان اور بھارت کی موجودہ کشیدگی نے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور حساسیت کو ایک بار پھر دنیا کی نظروں کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ ویسے تو 1947ء سے اب تک کشمیر کا سوال کبھی گرم ہو جاتا تھا اور کبھی سرد خانے میں چلا جاتا تھا لیکن اس بار کی گرمی کی شدت ایسی تھی کہ بس ابلتے ابلتے رہ گیا۔

انڈیا کی سرجیکل سٹرائیک کی آشا اگرچہ 26فروری کو پوری ہو گئی لیکن اگلے روز 27فروری کو اسے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اس سٹرائیک کی ریورس سونگ (Swing) بھی اتنی خطرناک ہوتی ہے کہ سرجیکل سٹرائیک کی پہل کرنے والوں کو توبہ توبہ کروا دیتی ہے۔ ہماری تیسری نسل کو معلوم تھا کہ مئی جون 1999ء کی کارگل وار نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں ایک کردار ادا کیا تھا۔

یہ بات اس وقت کے آرمی چیف جنرل مشرف نے کہی تھی۔ ان کا مقصد دنیا کو یہ باور کروانا تھا کہ جب دونوں فریقوں کے پاس ایٹم بم آ جائے تو کشمیر جیسے دیرینہ مسائل فوری توجہ اور ان کا حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ : ’’میں مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر پاک بھارت مذاکرات کی میز پر لانا چاہتا تھا۔ اور کارگل کا مقصد یہی تھا‘‘۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو کہا جائے گا کہ کارگل وار سے لے کر 2019ء تک کے دو عشروں نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کی آتش فشانی کو تقریباً آخری حدوں تک پہنچا دیا تھا۔

ثانیاً: اس ملٹری سٹینڈ آف نے بھارتی سیاستدانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان کا خرید کردہ پرانا رشین ملٹری ساز و سامان اب واقعی بوسیدہ ہو چکا ہے۔ اب یا تو اسے تبدیل (Replace) کرنے کی ضرورت ہے یا اس کا منبع ماسکو سے واشنگٹن شفٹ کرنا ناگزیر ہو گا۔

امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک اب منتظر ہیں کہ انڈیا کی طرف سے اس کی مسلح افواج کے لئے بھاری ہتھیاروں ، ایمونیشن اور ساز و سامان کے نئے آرڈرز کب موصول ہوتے ہیں۔۔۔ دوسری طرف چین کے لئے یہ امر باعثِ اطمینان ہے کہ اس کے جو ہتھیار اور سازوسامان (Equipment) رشین اورجن (Origin) کی اساس پر تیار کیا گیا تھا وہ اب چینی اورجن کا روپ دھارنے لگا ہے۔ مگ۔21 اور ایس یو 30کو اگر JF-17نے مات دے دی ہے تو یہ امر چین اور اس کے دوستوں کے لئے باعثِ سرخوشی ہے۔

رابعاً: پاکستان کی نئی نسل ایک عرصے سے انڈیا کو ایک برتر ملک، ایک بہتر معاشرہ اور فوجی لحاظ سے ایک مضبوط تر حریف سمجھنے کی طرف جا رہی تھی۔

لیکن اس حالیہ سٹینڈ آف نے یقیناًاس پراسس کو Arrest کر دیا ہے اور یقیناًانڈیا کی پبلک کا مورال ڈاؤن اور پاکستان کا اَپ ہوا ہے۔ اخلاقی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستانی سیاسی قیادت کی فیاضی ، دریا دلی، تحمل اور برداشت کے مقابلے میں ہندوستانی سیاسی قیادت کی تنگ نظری ،کوتاہ اندیشی، بے صبری اور بے قراری بہت نمایاں ہو کر نہ صرف پاکستان کی نئی نسل بلکہ ہندوستان کی نئی نسل کے سامنے بھی واشگاف ہو چکی ہے۔

ہماری آبادی 21کروڑ ہے اور انڈیا کی 131کروڑ یعنی پاکستان سے چھ گنا سے بھی زیادہ ۔ اس لئے جب ہماری اخلاقیات کا گراف ہندوستان کی اخلاقی قدروں کے گراف کے سامنے رکھا جاتا ہے تو یہ فرق چھ سات گنا زیادہ انلارج ہو جاتا ہے۔ بزدلی اور بہادری کی ٹریننگ کسی ٹریننگ سنٹر میں نہیں دی جاتی، یہ قوم کے اجتماعی اور انفرادی عمل اور ردعمل کی آئینہ دار ہوتی ہے اور یہ منظر آہستہ آہستہ اور بتدریج ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔

خامساً: پاکستان کو نیشنل ایکشن پلان پر فی الفور عمل کرنے کا سنہری موقع ہاتھ آ گیا ہے۔

اگر ہندوستان یہ سرجیکل سٹرائیک نہ کرتا اور جیش محمد کے ٹریننگ ہیڈکوارٹر کو بالاکوٹ میں فضائی حملے کا نشانہ نہ بناتا تو پاکستانی عوام کے بعض اذہان میں یہ شک بیدار نہ ہوتا کہ یہ خیراتی ادارے (Charities) کے پی کے ایک الگ تھلگ اور دشوار گزار علاقے میں کیا فلاحی کارنامے انجام دے رہے تھے۔

نہ ہی حکومت کو یہ ’’مجال‘‘ ہوتی کہ وہ ان کالعدم تنظیموں کے سینکڑوں سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کو اپنے کنٹرول میں لاتی۔ حتیٰ کہ بڑی بڑی مساجد اور خانقاہوں پر قبضہ کرکے ان کے پیش اماموں کی جگہ ’’سرکاری پیش امام‘‘ مقرر کرتی۔ اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ سب کچھ عارضی اقدامات ہیں اور ان کو مستقل بنیادوں پر روبہ عمل نہیں لایا جائے گا تو کم از کم یہ تو ہو گا کہ ہمارے اور فارن میڈیا کو اس کایا پلٹ کی مانیٹرنگ کا موقع مل جائے گا۔

نیشنل ایکشن پلان کے بہت سے اور نکات بھی ہیں جو ہنوز تشنہ ء تکمیل ہیں، ان ’’نیند کے ماتوں‘‘ کو بھی اب جگانا پڑے گا۔ گزشتہ 4،5 برس سے ہم گویا سوئے ہوئے تھے، اس پلواما اور بالاکوٹ نے کم از کم یہ تو کیا ہے کہ حکومت کو ان کے گرد پوشوں کی گرد جھاڑنے کا موقع دے دیا ہے۔ ان مساجد، مدارس، تعلیم و صحت کے مراکز اور ان کا انتظام و انصرام چلانے والوں کو اپنی تحویل میں لے لینا ایک ایسا بڑا کارنامہ ہے جس کا اثر آملہ خوری کی طرح اگرچہ بہت دیر بعد ہو گا لیکن ہوگا ضرور۔۔۔ عمران خان کو بھی اب سمجھ آ رہی ہو گی کہ ان تعلیمی، تدریسی اور طبی مراکز کی فنڈنگ کے سورس کا پتہ چلائیں اور ان فلاحی اداروں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے اقدامات کریں۔

یہ مدارس جن مخیر حضرات کی فنڈنگ پر چل رہے ہیں، ان حضرات سے اپیل کی جا سکتی ہے کہ مقصد اگر قوم کے نونہالوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنا ہے تو اس کا اہتمام بھی کرنا ہو گا کہ یہ کثیر التعداد طبقہ جب ان مدارس سے فارغ ہو گا تو کہاں جائے گا؟ کون ان کو روزگار مہیا کرے گا؟ کیا ریگولر حکومتی سکولوں اور کالجوں میں پڑھ کر فارغ التحصیل ہونے والے نوجوانوں کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟۔۔۔ اگر نہیں تو پھر ان نوجوانوں نے کہیں نہ کہیں جا کر تو اپنا پیٹ پالنا ہے۔

ان کے سامنے دو راستے کھلے ہوتے ہیں یا قومی دھارے میں شامل ہو کر معاشرے کی تعمیر کریں یا اس دھارے سے باہر نکل کر اسی معاشرے کی تخریب کا سامان بن جائیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس انڈو پاک ملٹری سٹینڈ آف نے پاکستان کو درپیش ایک دیرینہ مسئلے کے حل کی طرف راغب ہونے کا ایک قیمتی موقع فراہم کر دیا ہے، اس سے فائدہ نہ اٹھانا پرلے درجے کی خود فراموشی ہو گی۔

سادساً: انگیزی محاورے کے مطابق یہ پوائنٹ آخری تو ہے لیکن اس کی اہمیت آخری نہیں۔ دونوں ملکوں کی اس حالیہ کشیدگی نے سوشل میڈیا کے ایک نئے ورشن سے قوم کو ’’ہمکنار‘‘ کیا ہے۔ ایسے ایسے وڈیو کلپ منظر عام پر آئے ہیں جو کسی بھی ملٹری ہسٹری بُک میں دیکھے یا پائے نہیں جاتے اور ایسے تبصرے کئے جا رہے ہیں جو نوشگفتہ شگوفوں سے زیادہ جاذب توجہ ہیں۔

اس میڈیائی ورشن (Version) کی رسائی چونکہ عالمگیر ہے اس لئے دنیا میں جس جس جگہ بھی کوئی بھارتی یا پاکستانی رہ رہا ہے اور اسے وائی فائی اور واٹس آپ کی سہولت میسر ہے تو وہ اس سے مستفید بلکہ محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی سوشل میڈیا کے طفیل، ایسی ایسی سنجیدہ، وقیع اور قابلِ عمل تجاویز و آراء سے بھی شناسائی ملی ہے جو بیک ڈور ڈپلومیسی سے کم نہیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسی ایسی عسکری اصطلاحیں، الفاظ اور مرکبات ایک اوسط فہم والے سویلین قاری کو پڑھنے، سننے اور دیکھنے کو ملے ہیں جو اس کی فکر کو انگیخت کرتے ہیں اور جو اسے یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اس ’’علم و فن‘‘ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے۔

مثال کے طور پر انڈیا کی جو کلواری کلاس آبدوز پاکستانی پانیوں میں ڈھونڈ نکالی گئی تھی اس کی تفصیل سنتے اور پڑھتے ہوئے کئی ایسی اصطلاحیں بھی سامنے آئیں جو اس سے پہلے عام قاری کو شائد ہی دیکھنے اور پڑھنے کو ملی ہوں۔ ان کی تفہیم اکثر سروں کے اوپر سے گزر گئی ہوگی۔ تاہم بعض حضرات نے ان کے معانی جاننے کی کوشش ضرور کی ہو گی۔ میرا اشارہ اس کوشش کی طرف ہے۔

جب اس انڈین آبدوز کے ’کرتوتوں‘ کی تفصیل بعض ٹی وی چینلوں پر آئی تو اکثر ناظرین و سامعین کے لئے یہ گویا ایک نئی اور حیران کن خبر تھی۔ لیکن اکثر ناظرین کے لئے بعض الفاظ بالکل اجنبی تھے۔ مثلاً:

1۔Signature

2۔Nautical Mile

3۔ASW (Anti-Sub Warfare)

4۔EEZ

5۔Depth Charge

6۔Periscope

7۔Sonar

8۔Propulsion

9۔Torpedo

10۔Meritime Assets

درج بالا الفاظ ایسے ہیں جن کا اردو ترجمہ کیا جائے گا تو وہ اور زیادہ اجنبی بن جائے گا۔ اگر کسی کو کوئی شک ہو اور وہ اردو زبان کا کچھ زیادہ ہی مویّد ہو تو کوشش کرکے دیکھ لے۔ ہاں اگر آپ نے کسی واقعی آبدوز کی ساخت اور اس کی کارکردگی (Performance) کو سمجھنا ہے تو ان کے علاوہ ، ان جیسی کئی اور اصطلاحوں کو بھی سمجھنا پڑے گا۔ آپ ان اصطلاحوں کو جوں کا توں املا کرکے اردو میں لکھ تو سکتے ہیں لیکن ان کا ترجمہ نہیں کر سکتے۔ یہ اصطلاحیں ایسی ہیں جن کی جب تک تشریح نہ کی جائے، ان کو سمجھنا مشکل ہے۔

اس لئے میں ایک عرصے سے لکھ رہا ہوں کہ متعلقہ سروس ہیڈکوارٹر کو اپنے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں کے نام اور ان کی تشریح کی ایک اردو لغات شائع کرنی چاہیے تاکہ یہ معلومات ایک عام سویلین قاری تک پہنچ سکیں۔

سروس (آرمی، ائر فورس ، نیوی) کا ذریعہء تدریس بے شک انگریزی زبان میں ہو لیکن اس کی تشریح اور وضاحت کے لئے ایک با تصویر انگلش، اردو تشریحی لغت کی از بس ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ مواد عام دستیاب ہے۔ پاکستان میں نفاذِ اردو کے ضمن میں یہ پہلو اربابِ اختیار کی از بس توجہ چاہتا ہے!

مزید : رائے /کالم