ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود پر قاتلانہ حملہ ،ملزم سخی قریشی گرفتار ،تفتیش کا دائرہ وسیع

ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود پر قاتلانہ حملہ ،ملزم سخی قریشی گرفتار ،تفتیش کا ...

ملتان (خبرنگارخصوصی )لوہاری گیٹ پولیس نے پرووائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود پر فائرنگ کرنے والے مدنی عرف سخی قریشی نامی ملزم کے خلاف اقدام قتل(بقیہ نمبر32صفحہ7پر )

کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا ہے ،پولیس گرفتار ملزم سے مصروف تفتیش اور اسلحہ برآمد کرنے کے لئے مصروف بتائی جاتی ہے۔ادھر نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود پر قاتلانہ حملہ،ڈاکٹری تنظیموں نے میرٹ پر تفتیش کرنے کی مانگ کر دی، دو روز قبل نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر و سربراہ شعبہ کینسر نشتر ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود کو اندرون لوہاری گیٹ میں محمد مدنی عرف سخی قریشی نے گولیاں مار کر زخمی کر دیا تھا جبکہ ملزم موقع سے فرار ہو گیا تھا،بعدازاں ملزم کی جانب سے اعترافی ویڈیو سامنے آئی تاہم ویڈیو سامنے آئی ہے ۔اس حوالے سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن ملتان،ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز ملتان،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان،پائینرز یونٹی ملتان اور طلبا تنظیموں کے عہدیدران پروفیسر ڈاکٹر مسعود الروف ہراج،پروفیسر ڈاکٹر شاہد راو،پروفیسر ڈاکٹر مہناز خاکوانی،ڈاکٹر میاں عدنان،ڈاکٹر ساجد اختر ،ڈاکٹر ذوالقرنین ،ڈاکٹر فاران اسلم ،ڈاکٹر خضر حیات کا کہنا تھا کہ ملزم نے تمام عمل سوچی سمجھی سکیم کے تحت کیا اور ہو سکتا ہے ملزم کو کسی نے اس بات پر اکسایا ہو،ملزم کی اعترافی ویڈیو میں بار بار کوئی شخص ملزم کو لقمے دے رہا ہے کہ وہ ویڈیو کے دوران کونسے الفاظ کا استعمال کرے،اس حوالے سے سب سے پہلے میرٹ پر تفتیش کرنا ہو گی جس کے بعد ہی قاتلانہ حملہ کرنے کے اصل محرکات سامنے آ سکتے ہیں۔ جبکہ پرو وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود نے کہا ہے کہ قاتلانہ حملے میں ملوث ملزم سخی قریشی کی بیوی کینسر کی مریضہ صائمہ انکے پاس زیر علاج تھی جو کو چھاتی کے کینسر کی آخری اسٹیج پر تھی مریضہ کو بچانے کے لئے تمام تر کوشش بروئے کار لائی گئی تاہم ملزم کی جانب سے ایسا کیوں گیا پولیس اس کو میرٹ پر تفتیش کر کے سچ اور ملزم کے پیچھے کون کون ہے سامنے لائے،نشتر ہسپتال کے آئی سی یو میں زیر علاج پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود نے کچھ دیر ہوش میں آنے کے بعد گزشتہ روز میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دوستوں کے ساتھ کھانا کھا کر واپس آ رہا تھا کہ تھانہ کپ کے پیچھے ملزم سخی قریشی نے ہاتھ پکڑ کر روکا اور ٹانگ پر فائر کیا گرنے پر ایک مرتبہ اور اسی ٹانگ پر فائر کیا جبکہ میرے ساتھ موجود دوستوں پر پسٹل تان کر دھمکاتا ہوا فرار ہو گیا،پروفیسر احمد اعجاز مسعود نے بتایا کہ ملزم کی بیوی صائمہ انکے پاس زیر علاج تھی اور اسٹیچ فور کے چھاتی کے کینسر میں مبتلا تھی جس کا علاج جاری تھا،تاہم ملزم کی جانب سے نہ تو کوئی زبانی یا تحریری شکایات سامنے آئی اور نہ ہی کبھی اس سے قبل تو تکار ہوئی،پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود نے کہا مقدمہ درج کروا دیا ہے پولیس میرٹ پر تفتیش کرے اور اس واقعے کے پیچھے کوئی اور محرکات ہیں تو ان کو بھی سامنے لائے،ادھر دوسری جانب ینگ ڈاکٹرز ریفارمرز کے ڈاکٹر میاں عدنان،ڈاکٹر زبیر رفیقی،ڈاکٹر سلمان لاشاری،ڈاکٹر زبیر صدیقی سمیت دیگر نے کہا کہ ملزم سخی قریشی نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے بعد یہ عمل کیا ہے،جبکہ مقدمے میں سرعام اسلحہ کی نمائش کرنے کے باوجود 7 اے ٹی اے نہیں لگائی گئی،ادھر پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود کو نشتر ہسپتال کے آئی سی یو منتقل کر کے علاج جاری ہے،ڈاکٹرز کے مطابق ایک ہفتے بعد دوبارہ معائنہ کر کے دوسری سرجری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ۔پاکستان پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال ملتان(شاہین یونیٹی )کا اہم اجلاس صدر ایسوسی ایشن اقبال طائر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں رانا عامر علی،وسیم سلیم،فرحان گل،راو محمد اکبر،راو رفیق احمد،نوید قریشی،یعقوب مھتاب،محمد عادل،محمد عبید،اور ملک احمد یار بھٹی کے علاوہ پیرامیڈیکس کی کثیر تعداد نے شرکت کی آغاز تلاوت قرآن مجید سے کیا گیا جس کے بعد جنرل سیکریٹری ایسوسی ایشن رانا عامر علی نے اجلاس کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی اور سب سے پہلے پرو وائیس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی و ہسپتال ملتان ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود پر حملے کے حوالے سے مذمتی قرار داد پیش کی جسے شرکاء نے منظور کرتے ہوئے کھا کہ پروفیسر ڈاکٹر احمد اعجاز مسعود پر حملہ ایک بزدلانہ عمل ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ اس کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے ٹیچنگ ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنل ایکٹ لانے کے بارے میں مذمتی قرار منظور کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور کہا گیا کہ موجودہ حکومت بھی گزشتہ حکومت کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور نہ صرف غریب عوام سے مفت اور سستے علاج کی سہولتیں چھیننے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ غریب ملازمین سے ان کے روزگار چھیننے کے بھی درپے ہے جو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کے لئے ہم کسی بھی حد تک جائیں گے اور اس غیر انسانی عمل کو پوری طاقت کے ساتھ روکا جائے گا جس کے لئے نشتر ھیلتھ الائینس کے پلیٹ فارم سے جلد کوئی مضبوط مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور اس ملازم کش عمل کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے ،حکومت وقت اپنے مذموم عزائم سے باز رہے اس کے بعد الائیڈ ھیلتھ پروفیشنلز کے مسائل کے حل کیلئے جلد ایم ایس نشتر ہسپتال سے ملاقات کی جائے گی اور نچلی سطح پر ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے جو طرز عمل اپنایا جا رہا ہے اس پر ایسوسی ایشن اپنے تحفظات کا اظہار بھی ایم ایس نشتر ہسپتال سے کرے گی اور اس عمل کو روکنے کی درخواست کرے گی اور اگر ایسوسی ایشن کے تحفظات دور نہ ھوے تو ایسوسی ایشن جلد اس پر بھی اپنا لائحہ عمل مرتب کرے گی۔

حملہ‘ ملزم گرفتار

مزید : ملتان صفحہ آخر