مقبوضہ کشمیر ، بھارتی تحقیقاتی ادارے میں میر واعظ کی طلبی پر سرینگر میں مکمل ہڑتال

مقبوضہ کشمیر ، بھارتی تحقیقاتی ادارے میں میر واعظ کی طلبی پر سرینگر میں مکمل ...

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے حریت فورم کے چےئرمین میرواعظ عمرفاروق کو پوچھ گچھ کے لیے نئی دلی طلب کرنے کے خلاف اتوار کے روز سرینگر کے مختلف علاقوں میں مکمل ہڑتال کی جارہی ہے ۔کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال بیوپار منڈ ل مہاراج گنج، ٹریدرس اینڈ مینوفیکچررز کوآرڈی نیشن کمیٹی اور جامع مارکیٹ ٹریدرس فیڈریشن سمیت سرینگر میں قائم مختلف تاجر تنظیموں نے دی ہے۔ سرینگر میں ڈاؤن ٹاؤن کے علاقوں میں تمام دکانیں اورکاروباری مراکز بند جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ کوآرڈی نیشن کمیٹی کے چےئرمین نذیر شاہ نے کہاکہ میرواعظ کو طلب کرنا براہ راست مذہب پر حملہ ہے جو تاجر برادری کے لیے ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر طلبی کو واپس نہ لیا گیا تو تاجراحتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔ نذیر شاہ نے کہاکہ میرواعظ خاندان لوگوں کی مذہبی رہنمائی کررہا ہے اور ان پر حملہ کشمیریوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت سماجی و مذہبی تنظیموں اور قیادت پر حملے کرکے کشمیریوں کو آگ میں جھونک رہا ہے ۔ دریں اثناء مقبوضہ کشمیر میں ضلع شوپیان کے علاقے کیلر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارتی فوج علاقے میں بے گناہ لوگوں کو مسلسل ہراساں کررہی اور تشدد کا نشانہ بنارہی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق علاقے کے لوگوں نے کہا کہ بھارتی فوج لوگوں پر بلاجوازتشدد کرتی ہے اور ان سے موبائل فون اور شناختی کارڈ چھین لیتی ہے۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور شناختی کارڈ چھین لینے کے بعد لوگوں کو مست پورہ فوجی کیمپ پر حاضر ہونے کے لیے کہا جاتا ہے جہاں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ میسر احمد کھانڈے ولد غلام قادر کھانڈے پر کئی بار تشددکیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ فوجیوں نے چند دن پہلے تین بھائیوں سے موبائل فون اور شناختی کارڈ چھین لیے اورانہیں فون اور کارڈ واپس لینے کے لیے کیمپ پر حاضر ہونے کا کہاگیا اور جب وہ کیمپ پر گئے تو ان پر تشددکیاگیا۔ مقامی لوگوں نے کہاکہ گزشتہ رات چوہان کیلر کے ایک اور نوجوان عمرڈارپر بھارتی فوجیوں نے تشدد کیا جس کو ہسپتال میں داخل کرانا پڑا ہے۔ خواتین اوربچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اورانصاف کی فراہمی کے حق میں نعرے لگائے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر