اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 142

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 142

  

اسی دن میں نے رخت سفر باندھا۔ گھوڑے پر کھانے پینے کی چیزیں رکھیں اور لکھنو سے خاندلیس کی طرف چل دیا۔ برہان پور آج کل کے بھارت میں مدھیہ پردیش میں ہے۔ برہان پور بھارت کا وسطی علاقہ ہے جہاں سے جنوب کی طرف آندھرا پردیش کا علاقہ شروع ہ وجاتا ہے۔ فیروز شاہ تغلق کے عہد میں یہ علاقہ اس سلطنت میں شامل تھا۔ سلطان نے برہان پور تک ایک سڑک تعمیر کرائی تھی جس کے ہر دس کوس پر سرائے آتی تھی، میں اسی سڑک پر دن کو سفر کرتا اور رات کسی سرائے میں پڑ کر گزار دیتا۔ اسی طرح سفر کرتے کرتے آخر میں برہان پور پ ہنچ گیا۔ ایک پہاڑ کے دامن میں آباد یہ شہر بڑا پرفضا تھا اور ایک دریا بھی بہتا تھا۔ میں ایک سرائے میں اتر گیا۔ رات آرام کرنے کے بعد صبح دریا کے کنارے کنارے پرانی گھاٹ پر پہنچا تو دور اوپر پہاڑی کی ایک چٹان پرمجھے گپھا دکھائی دی۔ میں یہ گپھا دیکھ کر واپس کارواں سرائے میں آگیا۔ چاند کی دسویں تاریخ کو میں وہاں پہنچا تھا، مجھے پانچ دن مزید انتظار کرنا تھا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 141 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

چاند کی پندرہویں رات تھی۔

جب چاند کا دوسرا پہر ہوا تو میں گھوڑے پر سوار ہوکر کارواں سرائے سے نکلا اور جلتے چراغوں کی روشنی میں شہر سے گزرتا ہوا دریا کے کنارے آگیا۔ چاندنی کی مہک رچی ہوئی تھی۔ دریا کی سطح چاندنی میں دودھیا ہورہی تھی۔ پرانے گھاٹ پر پہنچ کر میں نے گھوڑا ایک درخت کے ساتھ باندھا اور پہاڑی کی چڑھائی چڑھنے لگا۔ چاندنی میں راستہ صاف نظر آرہا تھا۔ چڑھائی دشوار گزار تھی۔ آخر میں اس چٹان کے پہلو میں پہنچ گیا جہاں سادھو کی گپھاہ تھی۔ میں نے دیکھا کہ ایک انسانی سایہ گپھاہ کے سامنے چٹان کے باہر کو نکلتے ہوئے چبوترے پر سمادھی لگائے بیٹھا ہے۔ میں ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا اور سادھو کے گیان سے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ آدھی رات کے بعد جاکر سادھو کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر آسمان کی طرف چہرہ اٹھا کر ایک اشلوک پڑھا اور گمبھیر آواز میں بولا

’’کون ہو تم؟ یہاں کیا لینے آئے ہو؟‘‘

میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر نمسکار کیا اور کہا

’’کوروجی مہاراج! پیر جی نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔‘‘

سادھو کے جسم پر ایک لنگوٹ تھا۔ داڑھی اور سر کے بال بڑھے ہوئے تھے۔ جسم پر سیندور ملا تھا جو چاندنی میں شعلے کی طرح چمک رہا تھا۔ پیر جی کا سن کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنے قریب بلایا اور کہا

’’بیٹھ جاؤ! ہم ابھی معلوم کرتے ہیں کہ ہمارا دوست ہم سے کیا خدمت لینا چاہتا ہے۔ میں چبوترے کے آگے خاموشی سے بیٹھ گیا۔ سادھو نے آنکھیں بند کرلیں۔ اس کے بائیں جانب ایک سیاہ رنگ کا کرمنڈل اور ترشول پڑا تھا۔ چند ثانے کے لئے وہ آنکھیں بند کئے ساکت رہا۔ پھر آنکھیں کھول دیں اور بولا

’’پیر جی ہمارے دوست ہیں۔ ان کی خدمت کرکے ہمیں دلی مسرت ہوگی۔‘‘

سادھو نے ایک بار پھر چپ سادھ لی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ مہاراج میرے لئے کیا حکم ہے۔ سادھو نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اپنی لال لال آنکھیں کھولے چاندنی رات کے ساکت خلاؤں میں کسی موہوم شے کو تک رہا تھا۔ میں نے پھر کوئی سوال نہ کیا، وقت گزرگیا۔ پھر سادھو نے اپنے کرمنڈل میں سے ایک کیل اور مور پنکھ نکال کر مجھے دیا اورکہا

’’یہ کیل او رمور کا پنکھ اپنے پاس رکھو۔ یہاں سے اتر کی طرف سات کوس کے فاصلے پر ایک پہاڑی گاؤں ہے۔ اس گاؤں کے باہر ایک شمشان بھومی ہے۔ جہاں ہندو لوگ مردوں کو جلاتے ہیں۔ تم وہاں چھپ کر بیٹھ جاؤ۔ جب لوگ وہاں کسی مردے کو جلانے کے لئے لائیں تو تم آنکھ کے آگے یہ مور پ نکھ لگا کر اس مردے کی شکل کو دیکھنا۔ اگر اس کی شکل تمہیں کسی جانور کی طرف کی نظر آئے تو اس مردے کے جلنے کا انتظار کرنا۔ مردے کے رشتہ دار اس کی چتا کو آگ لگا کر چلے جائیں تو اس کے پاؤں کی طرف آگے میں یہ کیل ٹھونک دینا۔ اسی وقت بہت سی بلائیں تمہیں ڈرانے کے لئے نمودار ہوں گی مگر ڈرنا ہرگز نہیں۔ وہ تمہارے قریب نہ آسکیں گی۔ اگر تم ڈرگئے تو یاد رکھو زندہ نہ رہوگے۔ جب کیل سارا کا سارا زمین میں دھنس جائے گا تو ساری بلائیں چیختی چلاتی چلی جائیں گی۔ پھر ایک چھوٹے قد کا سیاہ فام بونا تمہارے پاس آکر کھڑا ہوجائے گا۔ وہ اشارے سے بلائے گا۔ تم اس کے پیچھے پیچھے چلے جانا۔ وہ تمہیں اس کالے جادو کے اثر سے آزاد کرادے گا جس نے تمہاری طاقت چھین رکھی ہے۔‘‘

اس کے بعد سادھو نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں اور گیان دھیان میں مشغول ہوگیا۔ میں نے مور پنکھ اور کیل سنبھال کر رکھ لی۔ ہاتھ جوڑ کر سادھو کو نمسکار کیا اور واپس پہاڑی کی چڑھائی اتر کر دریا کے کنارے گھاٹ پر آکر گھوڑے پر سوار ہوا اور شہر کی طرف چل لیا۔ مجھے سادھوں کی باتوں پر پورا یقین تھا۔ میرا دل کہہ رہا تھا کہ جس طرح سادھو نے کہا اگر میں نے اسی طرح کیا تو میری کھوئی ہوئی ناقابل شکست طاقت مجھے واپس مل جائے گی اور میں نے دل میں پکا ارادہ کرلیا کہ میں اس طلسمی عمل میں ثابت قدم رہوں گا۔

رات میں نے کاروان سرائے میں بسر کی۔ دن چڑھا تو گھوڑے پر بیٹھ کر سادھو کے بتائے ہوئے پہاڑی گاؤں کی طرف چل پڑا۔ سات کوس کے بعد ایک گاؤں آگیا۔ جہاں چند ایک کچے پکے دیہاتی مکان بنے ہوئے تھے۔ گاؤں سے باہر ایک جگہ پتھر کی چار دیواری تھی۔ یہاں کچھ ہندو لوگ ایک جگہ چبوترے پر بکھری راکھ میں سے ہڈیوں کے پھول نکال نکال کر پیتل کی گاگر میں ڈال رہے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ رات کو یہاں کوئی مردہ جلایا گیا تھا۔ اسے میں آنکھ پر مور پنکھ لگا کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اب میں کسی دوسرے مردے کی ارتھی کی راہ دیکھنے لگا۔ دوپہر کے بعد کچھ لوگ ماتم کرتے ایک ارتھی کو لے کر شمشان بھومی میں داخل ہوئے۔ چبوترے پر لکڑیاں لگا کر مردے کی ارتھی کو لاش سمیت اس پر رکھ دیا گیا۔ مور پنکھ میرے ہاتھ میں تھا۔ میں نے ایک طرف کھڑے ہوکر مور پنکھ آنکھ سے لگای اور مردے کی شکل کی طرف دیکھا۔ مردے کی شکل میں کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ انسانی شکل ہی تھا۔

اسی طرح میں نے اس شمشان بھومی میں چار روزگ گزاردئیے۔ پانچویں روز ایک ارتھی آئی۔ چتا پہلے سے تیار تھی۔ یہ کسی امیر ہندو کی لاش تھی۔ رشتے دار ساتھ گھی اور چندن بھی لائے تھے۔ میں نے موقع پاکر مور پنکھ اپنی آنکھ کے آگے رکھا اور مردے کے چہرے کو دیکھا۔ حیرت سے میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ اس مردے کی شکل انسان کی بجائے لومڑ کی بنی ہوئی تھی۔ میں نے مور کا پر آنکھوں سے ہٹایا تو مردے کی شکل انسانی شکل اختار کرچکی تھی۔ دوبارہ مور کا پنکھ آنکھ سے لگا کر دیکھا تو ارتھی پر ایک لومڑ والا انسانی مردہ لیٹا ہوا تھا۔ 

مجھے اس مردے کی تلاش تھی۔ میں نے مور کا پر جیب میں رکھ لیا اور ایک طرف ہٹ کر درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ ارتھی چتا پر رکھی تھی۔ ساتھ آئے ہوئے لوگ اشلوک پڑھ رہے تھے۔ ارتھی کو اس کے رشتے داروں نے آگ دکھادی۔ خالص گھی نے آناً فاناً آگ پکڑلی اور چتا دھڑا دھڑ جلنے لگی۔ جب چتا انگاروں کا ڈھیر بن گئی تو شام کے سائے زمین پر اترنا شروع ہوگئے تھے۔ میر کے عزیز واقارب اور رشتے دار دوسرے روز ٹھنڈی چتا کے پھول چننے کے بعد روتے دھوتے واپس چلے گئے۔

جب شمشان بھومی میں ایک مہیب سناٹا چھاگیا تو میں درختوں سے نکل کر چتا کی طرف بڑھا۔ چبوترے پر چتا کے انگارے دہک رہے تھے اور ان میں سے سینک اٹھ رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں کیل اور دوسرے ہاتھ میں ایک پتھر تھا۔ میں چتا کے پاؤں کی طرف ہوکر زمین پر بیٹھ گیا۔ کیل کی نوک زمین پر رکھی اور اس پر پہلی ضرب لگائی ہی تھی کہ زمین ایک بھیانک چیخ سے لرز اٹھی۔ پتھر میرے ہاتھ سے چھٹ گیا اور مارے دہشت کے سمٹ گیا۔ مجھے سادھو کی ہدایت یاد آگئی کہ اگر تم ڈرگئے تو جان سے ہاتھ دھونا پڑ جائے گا۔ کیل تھوڑی سی ٹھک چکی تھی۔ چیخ کی آواز مسلسل بلند ہورہی تھی۔ میں نے دوسری ضرب لگائی تو اس چیخ کی آواز میں دوسری آوازیں بھی شامل ہوگئیں اور وہاں بھیانک چیخوں کا کہرام مچ گیا۔ میں نے تیسری ضرب لگائی تو چتا کے انگاروں میں سے ہیبت ناک ڈراؤنے پیکر نکل کر میرے اردگرد گردش کرنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں لمبے لمبے ترشول تھے اور وہ انہیں میری جانب بڑھارہے تھے جیسے مجھے ترشول سے چھلنی کردینا چاہتے ہوں۔ ان کے چہرے انگاروں کی طرح لال تے اور زبانیں شعلوں کی طرح لہرارہی تھیں۔ خوف سے میری جان آدھی نکل چکی تھی مگر میں زور زور سے پتھر کی ضربیں لگائے جارہا تھا۔ کم بخت زمین سخت تھی۔ کیل آہستہ آہستہ زمین میں دھنس رہی تھی۔ جب کیل زمین کے برابر ہوگئی تو اچانک وہ بھیانک پیکر دلدوز آوازیں بلند کرتے غائب ہوگئے۔ چاروں طرف پھر وہی موت جیسا سناٹا چھاگیا۔ میرے ماتھے سے پسینے ٹپک رہے تھے۔(جاری ہے)

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 143 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار