اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 105

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 105
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 105

  

ایک روز ایک عورت سر پر دودھ کا مٹکا رکھے ہوئے حضرت علی ہجویریؒ کے سامنے سے گزری۔ آپ نے اس عورت کو بلا کر کہا ’’کہ یہ دودھ ہمیں دے دو اور تم اس کی قیمت لے لو۔‘‘

عورت نے واب دیا کہ یہ دودھ مَیں نہیں دے سکتی، چونکہ یہ دودھ ہم کو مجبوراً رائے راجو جوگی کو دینا پڑتا ہے۔ اگر نہ دیں تو اس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ جانوروں کے تھنوں سے بجائے دودھ کے خون نکلنے لگتا ہے۔‘‘

آپ اس عورت کی بات سن کر مسکرائے اور فرمایا ’’اگر تم یہ دودھ ہمیں دے دو گی تو اللہ کے فضل سے تمہاری گائیں بہت سا دودھ دیں گی اور جانوروں پر کوئی اثر نہ ہوگا۔‘‘ چنانچہ اس عورت نے آپ کو دودھ دے دیا۔ آپ نے اس دودھ میں سے تھوڑا سا دودھ تو پی لیا باقی دودھ دریا میں ڈال دیا۔

جب بوڑھی عورت گھر واپس آئی اور شام کو جانوروں کو دو ہاتو جانوروں ںے اس قدر زیادہ دودھ دیا کہ سارے برتن بھرگئے اور دودھ ختم نہیں ہوا۔

یہ خبر آناً فاناً قرب و جوار کے دیہاتوں میں پھیل گئی۔ لوگ دور دور سے اپنے جانوروں کا دودھ آپ کے پاس لانے لگے۔ آپ کا یہ دستور تھا کہ آپ تھوڑا دودھ ان کے مٹکے میں سے پی کرباقی دودھ دریامیں پھینک دیا کرتے تھے اور جب ان لوگوں نے گھر جاکر اپنے اپنے جانوروں کو دوہا تو انہوں نے بھی بے حساب دودھ دیا۔ اس کے بعد کسی نے بھی جوگی رائے راجو کی طرف رُخ نہ کیا۔

جب رائے راجو کو بات کا پتہ چلا تو بہت پریشان ہوا۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر بولا کہ دودھ تو آپ نے ہمارا بند کرادیا ہے۔ اب میں آپ کا کوئی اور کمال دیکھنے آیا ہوں۔ آپ نے فرمایا ’’میں کوئی جادوگر تو نہیں جو کمالات دکھاسکوں۔ مَیں تو ایک عاجز و مجبور انسان ہوں۔ باقی تم میں اگر کوئی کمال ہے تو دکھاؤ۔‘‘

چونکہ اس جوگی نے بڑی بڑی ریاضتیں کی تھیں اور مجاہدہ میں زندگی گزاری تھی اس لئے آپ کے سامنے اس نے کئی کرشمے دکھائے۔ حتیٰ کہ ہوا میں اُڑنے لگا۔ جب وہ ہوا میں اُڑرہا تھا تو آپ نے اپ نی جوتی مبارک اس کی طرف پھینک دی۔ چنانچہ جوتیاں اس کے سر پر لگنے لگیں۔

جب حق کے سامنے باطل کی کوئی پیش نہ گئی تو اس نے آپ کی خدمت میں پیش ہوکر اسلام قبول کرلیا اور آپ کے دست حق پر بیعت ہوگیا۔ آپ نے اس کو شیخ ہندی کا خطاب دیا تھا اور اس شیخ ہندی کی اولاد ایک عرصہ تک آپ کے مزار مبارک کی مجاورت کرتی رہی۔

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 104 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک ہندو دریوش باوا سیتل داس کھیتل کے تالاب بدھ کیار کے کنارے اپنی انتڑیاں نکال کر صاف کیا کرتے تھے اور عوام اسے سیتل کی کرامت سمجھتے تھے۔

ایک روز حضرت شاہ کمال قادریؒ کیتھلی نے جنگل سے آتے ہوئے یہی ماجرا دیکھا تو باوا صاحب سے فرمایا ’’اس کھیل سے محض شہرت مقصود ہے تو اور بات ہے۔ ورنہ قلب سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ ‘‘ اور پھر مسکراتے ہوئے وہاں سے تشریف لے آئے۔

ازاں بعد جب درویش نے آنتوں کو اندر ڈالنا چاہا تو وہ ٹھیک نہ بیٹھیں۔ جس کی وجہ سے انہیں تکلیف ہوئی۔ آپ کے الفاظ اس درویش کے کانوں تک پہنچ چکے تھے۔ سیتل داس نے تاڑ لیا کہ ضرور صاحب نظر ہیں بے قرار و بے تاب ہوکر آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضر ہوا اور معافی مانگی۔

آپ نے کمال لطف و عنایت سے اُسے دیکھا اور اُن کے سینے کو نور الہٰی سے معمور کردیا۔ حتیٰ کہ خرقہ خلافت سے نوازا۔

***

فتح موصلیؒ کے بعض مصاحبین سے مروی ہیں، فرماتے ہیں کہ ایک دن میں فتحؒ کے ہاں گیا تو انہیں روتا ہوا پایا۔ ان کے آنسو زردی مائل تھے۔

میں نے کہا ’’تمہیں قسم ہے اللہ کی کیا خون کے آنسو روئے ہو۔‘‘

آپ نے فرمایا’’اگر تو قسم نہ دیتا تو مَیں نہ بتلاتا۔ آنسوؤں سے بھی رویا ہوں اور خون کے آنسوؤں سے بھی۔‘‘

میں نے پوچھا ’’آنسوؤں سے کیوں روئے ہو‘‘

جواب دیا ’’خدا سے دور رہنے پر۔‘‘

پھر میں نے پوچھا خون کے آنسوؤں سے کیوں روئے ہو۔ جواب میں فرمایا ’’اس لیے کہ شاید آنسوؤں سے رونا قبول نہ ہوا ہو۔‘‘

راوی کہتے ہیں کہ جب ان کی وفات ہوئی تو میں نے انہیں خواب میں دیکھا۔ میں نے سوال کیا کہ حق تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا کیا

آپ نے فرمایا ’’مجھے بخش دیا گیا ہے۔ حق تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا ’’فتح تم یہ سارا رونا کیوں روئے تھے جس پر مَیں نے جواب دیا۔ خداوندا! تیرے حق سے کوتاہی کرنے پر۔‘‘

پھر فرمایا ’’خون کیوں روئے تھے۔‘‘

عرض کیا ’’پروردگار! اس لیے کہ شاید میری گریہ وزاری قبول نہ ہوئی ہو۔‘‘

فرمایا ’’اے فتحؒ ! یہ تو نے کیوں کیا۔ تیرے محافظ فرشتے چالیس برس تک تیرا صحیفہ میرے پاس لاتے رہے اور اس میں کوئی گناہ تیرا نہ تھا۔‘‘

***

غلام خلیل نامی شخص نے خود کو صوفی مشہور کررکھا تھا۔ وہ ہمیشہ صوفیاء کی برائیاں خلیفہ وقت کے سامنے کرتا رہتا تھا اور جس وقت حضرت شمعونؒ کو شہرت حاصل ہوئی تو ایک عورت نے آپ سے نکاح کی درخواست کی لیکن جب آپ نے اس کو رد کردیا۔ تو وہ عورت حضرت جنیدؒ کی خدمت میں پہنچی۔ تاکہ وہ سفارش کریں لیکن انہوں نے بھی اس عورت کی کوئی بات نہ سنی۔ اس پر اس عورت نے غلام خلیل کیپاس جاکر حضرت شمعونؒ پر زنا کا الزام لگادیا۔

اس الزام کی بناء پر خلیل نے خلیفہ وقت سے آپ کے قتل کی اجازت لے لی لیکن جس وقت جلاد کے ہمراہ آپ دربار خلافت میں پہنچے اور خلیفہ نے قتل کا حکم دینا چاہا تو اس کی زبان بند ہوگئی اور اسی شب اس نے خواب میں کسی کو یہ کہتے سنا کہ اگر تم نے شمعونؒ کو قتل کروادیا تو پوراملک تباہی کی لپیٹ میں آجائے گا۔

چنانچہ صبح کو معذرت کے ساتھ آپ کو رخصت کردیا گیا۔ مگر خلیل بدنیتی کی وجہ سے کوڑھی ہوگیا۔(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 106 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے