روشن خیالی کتاب دوستی کے ذریعے ہی فروغ پاسکتی ہے، ڈاکٹر انوار احمد

روشن خیالی کتاب دوستی کے ذریعے ہی فروغ پاسکتی ہے، ڈاکٹر انوار احمد

  

ملتان(اے پی پی)نامور ماہرتعلیم،محقق اورمقتدرہ قومی زبان کے سابق سربراہ ڈاکٹر انواراحمد نے کہاہے کہ کتاب کے ساتھ محبت کوفروغ دینااساتذہ اورقلمکاروں کی ذمہ داری ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے گورنمنٹ کالج سول لائنزمیں سرائیکی کے (بقیہ نمبر9صفحہ12پر)

پہلے منظوم سفر نامے”کوہ غم“ اور ”شفیق الرحمن حیات وخدمات“کے نام سے شائع ہونے والی ڈاکٹرریاض حسین کی تحقیقی کتابوں کی تعارفی تقریب سے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹرصلاح الدین حیدرتھے۔جبکہ مہمانان اعزازمیں پروفیسر شوکت مغل،پروفیسر انورجمال اورشاکر حسین شاکر شامل تھے۔اس موقع پرڈاکٹراسلم عزیزدرانی،ڈاکٹر مختار ظفر، پروفیسررفعت عباس،پروفیسرڈاکٹرمقبول گیلانی،ڈاکٹرمحمد آصف،رضی الدین رضی،ڈاکٹرسجاد نعیم اورکالج کے پرنسپل ابرارعبدالسلام نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹرانواراحمد نے مزیدکہاکہ گورنمنٹ کالج سول لائنزملتان کے ان کالجوں میں سے ایک ہے جہاں نامور علمی وادبی شخصیات تدریس کے شعبہ سے منسلک رہی اوراسی کالج میں پڑھنے والے بہت سے لوگ آج علم وادب کے بڑے نام ہیں۔ معاشرے میں روشن خیالی کو فروغ دیناوقت کی اہم ضرورت ہے اوریہ روشن خیالی کتاب دوستی کے ذریعے ہی فروغ پاسکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ سول لائنز کالج میری بھی مادرعلمی ہے،یہ ملتان کاایساکالج ہے جہاں کے اساتذہ نے جرات مندی کادرس دیا۔قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں لیکن اصولوں پرسمجھوتہ نہیں کیا۔پروفیسررفعت عباس نے کہاکہ ڈاکٹرریاض حسین نے قاضی محمد عارف کے منظوم سفرنامے کی تحقیق وتدوین کے ذریعے سرائیکی ادب کو گراں قدرتحفہ دیاہے۔انہوں نے کہاکہ ڈیڑھ سوسال پہلے کے اس سفرنامے میں شاعر کی دھرتی کے ساتھ محبت اوروابستگی جھلکتی ہے؛یہ سفرنامہ ڈیڑھ سوسال پہلے کی سرائیکی زبان، ثقافت اورتہذیب کاآئینہ دارہے۔پروفیسر انورجمال نے کہاکہ مصنف نے کرنل شفیق الرحمن پر تحقیق کے دوران ان کی زندگی کے نئے زاویوں سے ہمیں آگاہ کیا۔کالج کے پرنسپل ڈاکٹرابرارعبدالسلام نے کہاکہ کالج کی لٹریری سوسائٹی کے زیراہتمام مزیدادبی تقریبات بھی منعقدکی جائیں گی جبکہ ہم کالج کی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لئے مختلف قلم کاروں کی خدمات حاصل کررہے ہیں۔اس کے علاوہ سول لائنز کالج کے سابق طلباء کی تنظیم کو بھی فعال کیاجائے گا۔

ڈاکٹرانوار

مزید :

ملتان صفحہ آخر -