افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی شروع

افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی شروع

  

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔ امریکی فوجی اپنے وطن واپس جانا شروع ہو گئے ہیں جو فوجی واپس جائیں گے ان کی جگہ تازہ دم دستے نہیں آئیں گے۔ امریکی فوجیوں کا انخلاء ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب افغانستان میں ایک عجوبہ روزگار صورت ِ حال نے جنم لیا ہے۔ اشرف غنی اور ان کے حریف عبداللہ عبداللہ نے الگ الگ تقریبات میں افغانستان کے صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا، دنیا میں یہ اپنی نوعیت کا انتہائی منفرد واقعہ ہے۔ افغانستان کے لئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد چوبیس گھنٹے تک کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح دونوں رہنماؤں میں کوئی معاملہ طے ہو جائے لیکن انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، دنیا کے بہت سے ملکوں میں انتخابی نتائج متنازع ہو جاتے ہیں اور حریف امیدوار اپنی شکست تسلیم نہیں کرتے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ہارنے والے امیدوار نے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پرصدارت یا وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا ہو۔ایسے میں امریکہ کے لئے پیچیدہ صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے کہ امن ڈیل پر پیش رفت کیسے کرے لیکن امریکہ نے اپنی فوجوں کے انخلاء کو افغانستان میں سیاسی استحکام یا پھر بین الافغان امن مذاکرات سے مشروط نہیں کیا اس کی بجائے وہ صرف طالبان سے توقع کرتا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو امریکہ کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کابل میں امریکی کمانڈر اسکاٹ ملر سے کہہ دیا ہے کہ فوجیوں کی تعداد 8600سے کم ہونے کے بعد انخلاء روک کر حالات کا جائزہ لیں اگر حالات بہتر ہوئے تو امریکہ 14ماہ کے اندر تمام فوجی افغانستان سے نکال لے گا۔

صدر اشرف غنی نے حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ طالبان قیدیوں کی رہائی کا طریقہ کار طے پا گیا ہے1500قیدی پہلے مرحلے میں رہا ہوں گے جن میں بزرگ اور بیمار شامل ہیں بعد میں باقی قیدیوں کو بھی رہا کر دیا جائے گا،20مارچ کو باقی قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔ چند دن پہلے انہوں نے کہا تھا کہ طالبان نے معاہدہ امریکہ کے ساتھ کیا ہے ہمارے ساتھ نہیں۔ اس لئے ہم قیدیوں کی رہائی کے پابند نہیں لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ امریکی فوجیوں کے پروگرام کے مطابق انخلاء نے انہیں زمینی حقائق کا ادراک کرا دیا ہے اور انہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا ہے کہ اگر پروگرام کے مطابق امریکی فوجی چلے گئے تو ان کے اقتدار کی حفاظت کون کرے گا؟ کیونکہ وہ کابل کے سینکڑوں ایکڑ رقبے پر پھیلے ہوئے انتہائی سیکیورٹی زون میں واقع جس صدارتی محل میں رہتے ہیں وہاں بھی ان کے حفاظتی دستوں میں امریکی فوجی شامل ہیں اور ملاقات کے لئے جانے والے صحافیوں سے قلم تک دروازے پر رکھوا لئے جاتے ہیں خوف کے اس عالم میں انہیں نہ جانے کس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کر دیں چنانچہ انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ انٹرا افغان ڈائیلاگ کے لئے طالبان قیدیوں کی رہائی ضروری نہیں ہے اور وہ ہر قیدی کی رہائی اس کے کیس کا جائزہ لے کر کریں گے لیکن چند ہی دن میں ان کی ماہیت قلب ہو گئی اور اب وہ کسی شرط کے بغیر طالبان قیدی چھوڑنے پر تیار ہیں، کیونکہ طالبان نے قیدیوں کی رہائی کے بغیر کسی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا تھا اس لئے اشرف غنی کو طوعاً و کرہاً قیدیوں کی رہائی پر آمادہ ہونا پڑا۔

طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاہدے کی پابندی کریں گے چند روز قبل کابل کی تقریب میں تشدد کی جو کارروائی ہوئی طالبان نے اس سے بھی لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ امریکہ کی انٹیلی جنس معلومات کے مطابق بھی طالبان اس واردات میں ملوث نہیں تھے اس لئے اس نے امن ڈیل پر پروگرام کے مطابق عمل شروع کر دیا ہے اور امریکی فوجی واپس جانا شروع ہو گئے ہیں، غالباً اشرف غنی کا خیال ہو گا کہ وہ اگر طالبان قیدیوں کی رہائی سے انکار کردیں گے تو انہیں امریکی تائید بھی حاصل ہو جائے گی لیکن ایسا ممکن نہ ہوا۔ عبداللہ عبداللہ نے صدارت کا علیحدہ حلف اٹھا کر بھی ان کے لئے مشکلات کھڑی کر دیں ان حالات میں سیاسی استحکام کا تو کو ئی تصور نہیں کیا جا سکتا، ایسے میں افغان سیکیورٹی فورسز طالبان کا مقابلہ کس طرح کر سکتی ہیں؟اس لئے بہتر راستہ یہی ہے کہ معاہدے پر صدق دلی سے عمل کیا جائے اور تاویلات میں نہ الجھا جائے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے وہ نہ صرف افغانستان میں امن چاہتا ہے بلکہ اس کی خواہش ہے کہ تمام گروپ مل کر افغانستان میں امن کے لئے کوششیں کرتے رہیں لیکن امریکہ طالبان معاہدے میں جو قوتیں کارنر ہو کر رہ گئی ہیں اور جن کی حالت یہ ہے کہ اب وہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں، وہ نہیں چاہتیں کہ افغانستان میں خونریزی ختم ہو اور امن و استحکام کا دور آئے پاکستان نے امن معاہدے میں سہولت کار کا جو کردار ادا کیا ہے وہ بھی ان قوتوں کو پسند نہیں اس لئے اب ان کی کوشش ہے کہ نہ صرف عدم استحکام قائم رہے بلکہ افغان گروپ باہمی مذاکرات میں بھی کامیاب نہ ہوں اب یہ رہنماؤں پر منحصر ہے کہ وہ بصیرت کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں یا مخالفین کے پھیلائے جال میں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ انہیں اس دام ہمرنگِ زمین کی بھول بھلیوں سے نکل کر ملت افغانستان کے وسیع تر مفاد کے لئے آگے بڑھ کر امن کا راستہ کشادہ کرنا چاہیے، بھارت کو افغانستان میں جو سُبکی ہوئی ہے اس پر بھارتی میڈیا میں بھی نکتہ چینی کا سلسلہ جاری ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ایک وہ وقت تھا جب امریکی صدر ٹرمپ بھارت کو افغانستان میں وسیع تر کردار دینے کی باتیں کر رہے تھے لیکن اب بھارت کو دوحہ مذاکرات کے قریب بھی نہیں پھٹکنے دیا گیا۔ صدر اشرف غنی بھی اسی رنج کا شکار تھے کہ انہیں بھی مذاکرات سے دور رکھا گیا اسی لئے انہوں نے معاہدے کے بعض حصوں پر عملدرآمد سے گریز پائی کا راستہ بھارت کے کہنے پر اختیار کیا لیکن یہ بھی بیک فائر کر گیا اب اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کے باہم متحارب گروپ بین الافغان مذاکرات کی تیاری کریں اور جنگ و جدل کو خیرباد کہہ کر امن کے قیام کے لئے سنجیدہ کوششیں کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -