عوام بحران سے کب نکلیں گے؟

عوام بحران سے کب نکلیں گے؟
عوام بحران سے کب نکلیں گے؟

  

وزیر اعظم عمران خان کا یہ اعلان خوش آئند ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتیں مزید نہیں بڑھائی جائیں گی۔ جس رفتار سے قیمتیں بڑھائی جا رہی تھیں، لگتا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پانچ برسوں میں دوگنا ہو جائیں گی۔ جب شدید بارش ہو رہی ہو تو تھوڑی دیر کے لئے بارش کا رکنا بھی اطمینان کا باعث بنتا ہے، اس لئے وزیر اعظم کا یہ اعلان اطمینان بخش ضرور ہے،مگر اسے عوام کے دکھوں کا مداوا قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ جتنی قیمتیں بڑھ چکی ہیں، وہ بھی عوام کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔ انہیں ریلیف تو اس وقت مل سکتا ہے، جب قیمتیں کم کی جائیں۔ گیس کے بل کئی سو گنا زیادہ آ رہے ہیں۔ سینکڑوں روپے بل ادا کرنے والے ہزاروں روپے بل ادا کرنے پر مجبور ہیں۔یہ واردات سلیب سسٹم بنا کر کی گئی ہے۔ ایک یونٹ بھی گیس مزید چل جائے تو تین سو والا بل تین ہزار ہو جاتا ہے۔ یہ تو کھلی زیادتی اور دھوکہ دہی ہے۔لوگ ترازو لے کر تو میٹر کے پاس نہیں بیٹھ سکتے کہ ایک سلیب سے دوسرے سلیب میں جانے سے پہلے جان سکیں …… پھر قیمت میں رفتہ رفتہ تبدیلی آنی چاہئے، نہ کہ ایک ہندسہ اوپر جانے سے سینکڑوں میں آنے والا بل ہزاروں میں بدل جائے۔ بجلی کے بلوں میں ایف اے سی کا ڈرامہ رچا کر اور گیس کے بلوں میں سلیب سسٹم کی چور بازاری متعارف کرا کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ بجلی کے بلوں میں کبھی نہیں دیا جاتا، البتہ قیمتیں بڑھیں تو سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عوام کی معاشی حالت بہت خراب ہے۔ وزیر اعظم عمران خان یہ تسلی تو دیتے ہیں کہ مشکل وقت گزر چکا ہے، لیکن عوام کو ریلیف دینے کا کوئی پروگرام ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ احساس پروگرام ہو یا صحت کارڈ سکیم، یہ مجموعی ریلیف کے ذرائع نہیں بن سکتے۔ مجموعی ریلیف اس وقت ملے گا، جب عوام کو مہنگے بلوں سے نجات ملے گی۔ دنیا بھر میں ایک بحران ہے جو کرونا وائرس سے پیدا ہوا ہے، اسی بحران کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بڑی تیزی سے حیران کن حد تک گری ہیں۔ معاشی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ بہت اچھا موقع ہے کہ حکومت عوام کو بڑا ریلیف دے سکے۔ نہ صرف پٹرولیم مصنوعات کو سستا کرکے، بلکہ بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی لا کر، کیونکہ فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج کی مد میں حکومت کو جو فائدہ ہوگا، اس میں عوام کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ ہوتا یہ آیا ہے کہ حکومت کے معاشی ماہرین عوام کو فائدہ پہنچانے کے وقت تو ہاتھ کھینچ لیتے ہیں، لیکن بوجھ ڈالنا ہو تو ساری مٹھی کھول کے عوام کی درگت بنا دیتے ہیں۔ اس وقت بجلی اور گیس کی قیمتیں اپنی انتہائی سطح پر ہیں۔ پاکستان میں کبھی بھی بجلی اور گیس کے نرخ اتنے نہیں رہے، جتنے آج ہیں، اب ظاہر ہے، اس کے بلا واسطہ اور بالواسطہ اثرات عوام پر پڑتے ہیں۔ صنعت کار ہوں یا بڑے بڑے سرمایہ دار، وہ اپنا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کہاں جائیں، کس پر اپنا بوجھ منتقل کریں؟ ان کی آمدنی محدود ہے، جبکہ اخراجات بغیر کوئی اضافی سہولت لئے بڑھ گئے ہیں،اس کا مقابلہ وہ کیسے کریں؟

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشتوں میں جو بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے، اس کے اثرات پاکستان پر بھی لازماً مرتب ہوں گے۔ ابھی سے معیشت کو جھٹکے لگنے لگے ہیں، اسٹاک مارکیٹ کریش ہوئی ہے اور ڈالر کو بھی پر لگ گئے ہیں۔ پتہ نہیں حکومتی معاشی ٹیم کی اس پر بھی نظر ہے یا نہیں؟ اس سے نمٹنے کے لئے اس نے کیا منصوبہ بندی کی ہے اور کیا اس منصوبہ بندی میں اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ ”مرے کو مارے شاہ مدار“ کی طرح عوام پر اس کا مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ ڈالرز کے ذخائر اگر وافر مقدار میں موجود ہیں اور انہیں برآمدات کے لئے اڑایا بھی نہیں جا رہا تو کیا وجہ ہے کہ انٹربینک میں ڈالر کا ریٹ بڑھ رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پھر وہی مافیا کرونا وائرس کے بحران سے فائدہ اٹھانے کے لئے سرگرم ہو چکا ہے،جس نے پہلے بھی ڈالر بحران سے اربوں روپے کمائے اور جس کی آج تک پکڑ نہیں ہو سکی۔ موجودہ معیشت میں مزید جھٹکے سہنے کی سکت نہیں، پہلے ہی کئی بحرانوں نے عوام کو ادھ موا کر رکھا ہے، حتیٰ کہ آٹے، چینی اور دالوں کے بحران نے انہیں اربوں روپے سے محروم کیا۔انہیں اب بھی ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ کسی وقت بھی ان پر کون نئی افتاد ٹوٹ سکتی ہے۔

پنجاب حکومت کا یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اس کے سخت اقدامات کی و جہ سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، حالانکہ اس میں پھلوں اور سبزیوں کی فصلوں کا بھی تعلق ہو سکتا ہے۔ ٹماٹر اگر تین سو روپے سے تیس روپے کلو پر آ گیا ہے تو اس کی وجہ ٹماٹر کی نئی فصل ہے۔ اب یہ کریڈٹ بھی لیا جا رہا ہے کہ پنجاب میں آٹے کا کوئی بحران نہیں اور آٹا چالیس روپے کلو مل رہا ہے۔ یہ تو نارمل حالات کی باتیں ہیں، جو بات ابھی تک نہیں کھل سکی، وہ یہ ہے کہ آٹے کا بحران پیدا کیسے ہوا، کس نے پیدا کیا، اربوں روپے کس نے لوٹے، عوام کو لائنوں میں آٹا لینے پر کس نے مجبور کیا؟ تحقیقات کا دائرہ تو وسیع ہونے کی خبریں آتی ہیں، لیکن مجرم سامنے نہیں آ رہے۔ اگر حکومت نے انہیں کسی مصلحت کے تحت چھوڑ دیا، انہیں قانون کے کٹہرے میں نہ لائی، تو پھر کسی نئے بحران کے لئے تیار رہنا چاہئے،کیونکہ جہاں مافیاز مضبوط ہو جائیں، حکومتی صفوں میں گھس جائیں اور نظام کو بے بس کر دیں، وہاں کسی بھی انہونی کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

وزیر اعظم گیس اور بجلی کی قیمتیں نہ بڑھانے کی خوشخبری ضرور سنائیں، مگر اس سے عوام کو کچھ مل نہیں سکتا۔ ملے گا تو اس وقت جب عملاً کسی ریلیف کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ بجلی و گیس کی ان قیمتوں کے ساتھ عوام ایک خوشحال اور اطمینان بخش زندگی گزار رہے ہیں، حقیقت تو اس کے برعکس ہے اور ان قیمتوں کی وجہ سے عوام کی معاشی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ کئی دیگر عوامل بھی ہیں جو عوام کو مشکلات میں مبتلا کئے ہوئے ہیں، مثلاً حد درجہ بڑھتی ہوئی بے روز گاری…… حکومت کا ایک کروڑ نوکریاں دینے کا اعلان بھی تو ایک پھانس بن کر عوام کے دلوں میں اٹکا ہوا ہے۔ روز گار کے مواقع پیدا ہونے کی بجائے کساد بازاری اور بُری معاشی حالت کے باعث بے روز گاری میں اضافہ ہوا ہے۔ اب میڈیا کے کارکنوں ہی کو دیکھ لیں۔ ہزاروں صحافیوں کو بے روز گاری کا سامنا ہے۔ ملتان میں کئی اخبارات اپنی دکان بڑھا گئے ہیں،سینکڑوں صحافیوں کو نکال دیا گیا ہے۔ اب اگر حکومت یہ کہتی ہے کہ اس سے اس کا کیا واسطہ ہے، تو غلط کہتی ہے، کیونکہ ہمیشہ سے سرکاری اشتہارات اخبارات کے لئے آکسیجن کا کام دیتے رہے ہیں۔ پھر حکومتوں کی طرف اربوں روپے کے واجبات ہیں، وہ بھی رکے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ان حالات میں اخبارات کے دفاتر اگر بند ہو رہے ہیں تو اس سے حکومت بری الذمہ نہیں ہو سکتی، دیگر شعبوں کے حالات بھی دگرگوں ہیں، فیصل آباد میں کارخانے بند ہو رہے ہیں اور گزشتہ دنوں گورنر پنجاب کی موجودگی میں فیکٹریاں اور دکانوں کو تالے لگانے کی باتیں ہو چکی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان ملک کے بحران سے نکل آنے کی بات کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عوام کب بحران سے نکلیں گے؟ کب انہیں سکھ کا سانس لینا نصیب ہوگا؟

مزید :

رائے -کالم -