بھارت کا مکروہ چہرہ

بھارت کا مکروہ چہرہ
بھارت کا مکروہ چہرہ

  

نریندر مودی جب سے بھارت کے وزیراعظم بنے ہیں، تب سے اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بھارت میں ایک مخصوص فضا قائم کی جا رہی ہے۔ نریندر مودی جب گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے وہاں ہزاروں مسلمانوں کو ہندو دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید کرایا۔جب وزیراعظم کے منصب پر فائض ہوئے تو خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید اتنے بڑے منصب کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے ان میں وہ پہلے والی بات نہ رہی ہو،شاید ان کی انتہا پسندی کم ہو گئی ہو یا ان میں کوئی شرم کوئی حیا پیدا ہو گئی ہو، لیکن یہ سب مفروضے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب ان کے وزیراعظم بنتے ہی بعض ریاستوں میں گائے کا گوشت بیچنے، اسے پکانے یا گائے کو حلال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ مودی کے دور حکومت میں سینکڑوں مسلمانوں کو اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ وہ گائے کا گوشت بیچ رہے تھے،یا ان کے پاس سے گائے کا گوشت برآمد ہوا تھا۔ اس دوران ہجوم کی جانب سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا اور مسلمانوں کو صرف ان کے حلئے یا شناختی کارڈ پر نام کی بناء پر ہندو انتہا پسندوں نے قتل کر دیا…… برصغیر پر مسلمانوں نے تقریباً ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے…… اس کا قلق آج تک انتہا پسند ہندوؤں کے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکا۔

مودی جو گجرات کی وزات اعلیٰ سے مسلمان دشمنی کا عزم لے کر وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچے تھے،انہوں نے ملک کو ہندو شناخت دینے کا فیصلہ کیا تا کہ مسلمانوں کے خلاف ان کے ذہن میں جو بغض پایا جاتا ہے، اس کو پایہء تکمیل تک پہنچا سکیں۔ سب سے پہلے تو انہوں نے آسام اور بنگال کے اضلاع میں ہندو شہریت ثابت کرنے کے لئے ایک قانون پاس کیا کہ جس کے پاس باپ دادا کی پیدائش کا ثبوت نہ ہوا،وہ بھارتی شہریت کا اہل نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لئے این آر سی کا متناعہ قانون لایا گیا۔ جب آسام میں انیس لاکھ لوگ اس کی زد میں آئے اور ان میں سے 13 لاکھ ہندو بھی نکلے تو انہوں نے سوچا یہ قانون تو اُلٹا ہمارے ہی گلے پڑ گیا ہے، ہندو ووٹر ہمارے خلاف ہو جائے گا۔

مودی اور اس کے حواری پھر مل کر بیٹھے اور اس قانون کا توڑ لانے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ ہندوؤں کو مطمئن کیا جا سکے کہ مودی حکومت صرف مسلمانوں کے خلاف ہے، ہندوؤں کے نہیں۔ اس کے بعد سٹیزن ایکٹ کے نام سے ایک نیا قانون لایا گیا، جس میں صرف ہندو، سکھ،جین،پارسی اور عیسائیوں کو شہریت دینے کی بات کی گئی،مسلمانوں کو شہریت دینے سے انکار کیا گیا۔ جب اس قانون کے خلاف بھارت بھر کے ہوش مند طبقوں اور مسلمانوں نے احتجاج شروع کیا تو کئی ریاستوں نے اس متنازع قانون کو منظور کرنے سے انکار کر دیا…… دہلی میں مسلمان خواتین نے دھرنے دیئے اور طلبہ نے اس قانون کے خلاف ریلیاں نکالیں تو انتہا پسند ہندوؤں نے دہلی میں مسلمانوں کے محلوں پر دھاوا بول دیا اور درجنوں مسلمانوں کو صرف مسلمان ہونے کی بنا پر نشانہ بنایا گیا،ان کے مال و اسباب کو یا تو جلا دیا گیا یا پھر لوٹ لیا گیا……اس کے علاوہ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی اور وہاں بھی تقریباً گزشتہ سات ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔اس دوران سینکڑوں کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار ا گیا۔ یہ سب واقعات اور مودی کی چیرہ دستیوں کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کر لیتا ہے، اسی طرح بھارت میں انتہا پسند ہندو حکومت جب بھی اقتدار میں آتی ہے تو مسلمانوں کے خلاف محاذ کھول لیتی ہے۔مودی حکومت کے خلاف جس طرح کشمیر میں آئے روز کرفیو کے باوجود مظاہرے ہو رہے ہیں اورکشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ کشمیر اس وقت ایک آتش فشاں بن چکا ہے،جس روز بھارتی حکومت نے کشمیر سے کرفیوکو ہٹایا، یہ آتش فشاں ایسا پھٹے گا کہ پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔بھارت میں اس وقت علیحدگی کی درجنوں تحریکیں چل رہی ہیں اور ان سب میں بڑی تحریک کشمیر کی ہے۔

پاکستان پر عسکریت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کے الزامات لگانے والے بھارت کے جارحانہ طرزِ عمل کی وجہ سے اس کی سرزمین پر لاتعداد علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل ہیں۔ پنجاب میں خالصتان تحریک ایک بار پھر متحرک ہو رہی ہے اور سکھ بھی اپنے الگ ملک کے لئے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں ……بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں جنہیں سیون سسٹرز بھی کہا جاتا ہے، جن میں ارونا چل پردیش، آسام، میگھالیہ، منی پور، میزورام، ناگا لینڈ اور تری پورہ شامل ہیں، جہاں اس وقت علیحدگی کی تحریکیں بڑے زور و شور سے جاری ہیں۔ان میں سے چار ریاستیں بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ منسلک ہیں ……اگر ہم صرف آسام ہی کی بات کریں جو بنگلہ دیش کی سرحد سے منسلک بھارت کی اہم ریاست ہے، اس وقت ریاست آسام میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ، نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ، برچھا کمانڈوز، یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا،مسلم ٹائیگر فورس، آدم سینا، حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد، گورکھا ٹائیگر فورس اور پیپلز یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ بھارت سرکار کے خلاف مزاحم ہیں اور ان سے نمٹنا بھارت کے لئے درد سر بنا ہوا ہے ……واپس مسلمانوں پر ہونے والے تشدد پر آتے ہیں کہ جس طرح دہلی میں مسلمانوں پر تشدد روا رکھا گیا، ان کی عزتوں پر حملہ کیا گیا، انہیں شہید کیا گیا اور مودی سرکار کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ تشدد ریاستی سرپرستی میں ہوا ہے،جس کے بارے میں بھارتی مسلمانوں کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کو اپنے لئے الگ ملک یا اپنی الگ شناخت کے لئے اب ایک ہونا ہو گا،کیونکہ بابری مسجد کیس میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ قانونی طور پر بھی مسلمانوں کو وہاں سے انصاف ملنے کی توقع نہیں ہے۔اب تو بھارت میں ایک نوجوان ہندو لڑکی نے بھی مسلمانوں کے سٹیج سے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا دیا ہے، جس کے بارے میں وہاں کی مقامی مسلمان قیادت کو سوچنا چاہئے اور بھارت کے خلاف ایک ہو کر آواز اٹھانا چاہئے۔ان تمام حالات و واقعات کو مد نظر رکھیں تو ایسے میں دہلی میں ہونے والا تشدد اگر مسلمانوں کے لئے تحریک بن گیا تو بھارت میں ایک اور پاکستان بننا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -