اسلام میں عورتوں کے حقوق اور ان کا تحفظ

اسلام میں عورتوں کے حقوق اور ان کا تحفظ
اسلام میں عورتوں کے حقوق اور ان کا تحفظ

  

اسلام میں عورتوں کے حقوق متعین ہیں،ہمارا دین ان کے ساتھ نیک برتاؤ اور بہترین حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے۔ صنفی مساوات ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد ہے اور یہ مساوات اسلام نے 1441سال قبل واضح کر دی تھی۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ”اور عورتوں کا حق مردوں پر ویسا ہی ہے، جیسا مردوں کا عورتوں پر ہے،البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے“…… حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آنے والا پہلا مرد ہی تھا،پھر ان کی پسلی سے عورت کو بنایا گیا،تاکہ وہ اس کے دل کے قریب رہ سکے اور اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت میں ایک مضبوط رشتہ قائم کیا،تاکہ ایک خوبصورت معاشرہ تشکیل پا سکے۔ اسلام میں عورت اور مرد کے حقوق و فرائض کا تعین موجود ہے، جس کے بعد خواتین کے حقوق کے لئے کسی تحریک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی، یہ الگ بات ہے کہ بشمول پاکستان، بعض ممالک میں خواتین کے حقوق پر صحیح معنوں میں عمل درآمد نہیں ہو رہا جو ہونا چاہیے تھا ……اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق عورتوں کے حقوق پرکام کیا جاتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔

خواتین کی اکثریت کا سب سے بڑا مسئلہ وراثت کا ہے، جس کاا نہیں جائز اور قانونی حق حاصل ہے،مگر قوانین ہونے کے باوجود تادم تحریر اس پر صحیح عمل نہیں ہوسکا،لہٰذا ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس سے کسی بھی حوالے سے متاثر ہونے والی خواتین کی حقیقی معنوں میں داد رسی ہوسکے اور ان پر تشدد اور ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔ یہ بجا کہ عورتوں پر ہمارے معاشرے میں ظلم ہوتا ہے،مگر اس کا حل اسلام میں موجود ہے۔ ہمارے دین مبین نے عورت کوعزت و تکریم دی ہے۔ رسول کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ جو باپ اپنی تین بیٹیوں کو اچھی تربیت دے گا، وہ جنت کا حقدار ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ حضور کریم ﷺ نے فرمایا، جس نے دو لڑکیوں کی کفالت کی تو مَیں اور وہ جنت میں اس طرح داخل ہوں گے…… اپنی اس کیفیت کا اظہار کرنے کے لئے انہوں نے اپنی دو انگلیوں،یعنی شہادت اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کر کے اشارہ کیا۔

خداوند کریم نے بھی اپنی مخلوق سے اپنے پیار کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مَیں اسے سات ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہوں، جو عورت کی عظمت اورحرمت کا واضح ثبوت ہے۔پھریہ کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے جو عورت کی عزت و تکریم میں مزیداضافہ کرتا ہے،اس بات کا متقاضی ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کی گئی مملکت خداداد پاکستان میں عورت ہو یا مرد، ہر دو کے حقوق و فرائض پر اسلامی تعلیمات کے مطابق قوانین کو عملی طور پر یقینی بنایا جائے، تاکہ فروعی اور غیر اسلامی تحریکوں اور مارچوں کو پپننے کی جگہ ہی نہ مل سکے۔ ویسے بھی ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو،جو پاکستان کو ریاست مدینہ کے تصور کی عملی تصویر بنانا چاہتے ہیں، اس طرف خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ صرف باتوں سے کام نہیں چلتے۔ حصول مقصد کے لئے کچھ کرنا پڑتا ہے۔ وہ اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی یہ کام لے سکتے ہیں یا اسلامی قوانین کے نفاذ کے لئے کوئی خاص ٹاسک فورس بھی قائم کی جا سکتی ہے،جس میں ہر مکتب فکر کے جید علماء کو شامل کیا جائے،پھر بتدریج ملکی قوانین کو اسلامی اصولوں کے مطابق ڈھالا جائے۔حال ہی میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وطن عزیز میں آزادی مارچ کے حوالے سے جلوس نکالے گئے، جو مختلف الخیال خواتین پر مشتمل تھے۔ ان میں نام نہاد آزاد اور روشن خیال خواتین کا جلوس بھی تھا، جس کانعرہ تھا…… ”میرا جسم، میری مرضی“ یہ نعرہ بذات خود بنیادی طور پر ہی غلط ہے، جہاں تک جسم کا تعلق ہے تو یہ خداوندکریم کی عنایت ہے، اس نے ہی یہ عطا کیا اور وہ جب چاہے گا اسے خاک میں ملا دے گا۔ نہ زندگی ہمارے بس میں ہے اور نہ ہی موت۔نہ ہم اپنی مرضی سے اس دنیا میں آئے ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی سے دنیا سے جائیں گے۔ یہ سب کچھ رب العزت کے قبضہء قدرت میں ہے، علاوہ ازیں اس نعرے کا معنی و مفہوم جو سمجھ میں آتا ہے، وہ صریحاً گمراہی اور بے حیائی کا آئینہ دار ہے، جوکسی بھی طرح اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ہمارے ملک پاکستان کی بنیادی اساس کے ہی خلاف ہے۔

با عمل یا بے عمل جو بھی ذی روح اسلام، ایک خدا اور نبی آخر الزمان ﷺ پر یقین رکھتا ہے، وہ خواتین کی طرف سے لگائے گئے اس بے ہودہ نعرے کی زبردست مذمت کرتا ہے، اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتا اور وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یہ نعرہ اسلام کے خلاف ہے، جسے کسی بھی طور پرقبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ غیر مسلم ممالک میں مسلم خواتین حجاب کے لئے اور مسلم ممالک، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، عورتیں حجاب اتارنے اور بے حیائی کے لئے بر سر پیکار ہیں۔ اس سے پہلے کہ بے حیائی کی یہ لہر کرونا وائرس کی شکل اختیار کرلے، ایسی گمراہ کن تحریکوں اور نعروں کا سد باب وقت کا اہم تقاضا ہے…… ”میرا جسم میری مرضی“…… کا بے ہودہ نعرہ لگانے والی خواتین کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔ ان خواتین کے بارے میں مبینہ طور پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ بیرونی ایجنڈے پر کام کررہی ہیں، جن کا مقصد پاکستان میں بے حیائی کو فروغ دے کر ہماری معاشرتی اقدار کو تباہ کرنا ہے، جس کی روک تھام کے لئے حکومت کو سنجیدہ اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے،تاکہ یہ ناسور فروغ نہ پا سکے۔

یہاں اس کا تذکرہ بھی بے محل نہیں ہوگا کہ 2019ء میں عالمی سطح پر خواتین کا عالمی دن منایا گیا تھا،جس کا مقصد خواتین کے جائز حقوق کو اجاگر کرنا تھا، نا کہ بے حیائی کو۔ اسلام کے وضع کردہ خواتین کے حقوق کے اصولوں کے دائرہ کار میں رہ کر بھی ان کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکتا ہے۔جہاں تک پاکستانی خواتین کا تعلق ہے تو انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں، خواہ وہ کھیلوں کی سرگرمیاں ہوں یا معاشرتی اقدار، وہ قرآن و سنت کی لافانی تعلیمات کے اندر رہتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہی ہیں۔ ایسا وہ آزادی سے لے کر اب تک 72سالوں سے کررہی ہیں، اس میں کسی نام نہاد آزادی مارچ کا کوئی کردار نہیں، یہ سب اسلامی تعلیمات کا فیضان ہے۔

مزید :

رائے -کالم -