بھارتی فوج کا ضلع شوپیاں میں گھر پر مارٹر گولوں سے حملہ، 2نوجوان شہید

  بھارتی فوج کا ضلع شوپیاں میں گھر پر مارٹر گولوں سے حملہ، 2نوجوان شہید

  

سرینگر،کوالالمپور(نیوز ایجنسیاں)مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان کے خواجہ پورہ ریبن امام صاحب علاقے میں فورسز نے دو مقامی نوجوانوں کو شہید کر دیا جبکہ ایک رہائشی مکان کو بھی نقصان پہنچا۔شام کو مکمل ہڑتال کے باوجود نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد دونوں شہید نوجوانوں شبیر احمد ملک اور عامر احمد ڈار کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں آبائی علاقوں میں اسلام و آزادی کے حق میں فلک شگاف نعروں کے درمیان آبائی علاقوں میں سپرد خاک کردیا گیا۔عالمی میڈیا کے مطابق شوپیان کے خواجہ پورہ ریبن امام صاحب علاقے میں بھارتی فوج نے سوموار کی صبح علاقے کومحاصرے میں لے لیا۔فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا۔فوج نے مکان کے ملبے سے 2مقامی نوجوان شبیر احمد ملک ساکنہ ٹنگڈو کولگام اور عامر احمد ڈار ساکنہ ونڈونہ ملہورہ شوپیان کی نعشیں برآمد کیں۔فورسزنے الزام لگایا کہ ان دونوں کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ادھر مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکام کشمیری طلبا کو تحریک آزادی کی سرگرمیوں سے حصہ لینے سے روکنے کے لئے وادی کشمیر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا شروع کردئیے ہیں۔ اس منصوبے پر بھارتی حکام کے ایک اعلی سطحی اجلاس میں غور کیا گیا اور سری نگر کے کالجوں میں ترجیحی بنیادوں پر کیمرے لگانے کا فیصلہ کیاگیاتاکہ طلباء کی نگرانی کی جائے۔ایک سینئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ متعلقہ یونیورسٹیوں اور کالجوں نے تنصیب کا عمل شروع کردیا ہے اور ایک کنٹرول روم میں ویڈیو فوٹیج کا ڈیٹا بیس محفوظ کیا جائے گا۔یہ سب طلباء کی سرگرمیوں پر نظررکھنے اور نگرانی کے لئے کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کلاس رومز میں بھی سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں گے لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ کلاس رومز کے اندر نصب کیمروں میں مائیکروفون بھی ہونگے یا نہیں۔دوسری جانب کوالالمپور میں قائم غیر سرکاری تنظیم ملائیشین مشاورتی کونسل نے بھارت میں مسلمانوں کے حالیہ قتل عام اور مقبوضہ کشمیرمیں جاری غیر انسانی لاک ڈاؤن پر شدید غم و غصہ اور سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ محمد عظمی عبدالحمید کی سربراہی میں مشاورتی کونسل نے کوالالمپور سے جاری ایک بیان میں بھارتی حکومت سے نئی دلی میں بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام اور انکی املاک کو تباہ اور مساجد کو نذر آتش کرنے میں ملوث انتہا پسند ہندوؤں کے خلاف فوری سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔مشا و رتی کونسل نے مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ رکھنے پر بھارتی میڈیا اور پولیس کے کردار اوراپنے نفرت پر مبنی تقسیم اور ظلم و جبر کے ایجنڈے کو فروغ دینے کیلئے حکومت کے ساتھ ساز باز کی بھی مذمت کی۔ بیان میں کہاگیا ہے کہ بھارتی حکومت نے غیر منصفانہ پالیسیوں، قوانین اور اقدامات کے ذریعے دانستہ طورپر ایک مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنایا اور اس سے بھارت میں سیاست،معاشرت اور معیشت بے قابو ہوجائے گی۔مشاورتی کونسل نے ملائیشیا میں مذہبی رہنماؤں، سیاست دانوں، اسکالرز اور سماجی کارکنوں کے علاوہ تمام مسلمانوں،ہندوؤں اور دیگر عقائد کے ماننے والوں پر زوردیا کہ وہ مل کر بھارت سے تشدد رکوانے اور ہندو بلوائیوں کا نشانہ بننے والے بے گناہ لوگوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔ایشیا کی علماء اسمبلی کے سیکرٹریٹ، مسجد الاقصی کے دفاع کیلئے عالمی مسجد اتحاد، مسلم یوتھ موومنٹ آف ملائیشیا، ملائیشین اسکالرز ایسوسی ایشن، عالمی امن مشن، ملائیشین پیپلز ویلفیئر ایسوسی ایشن، ملائیشین اخوان المسلمین ایسوسی ایشن، جماعی پیرک، سٹیزن انٹرنیشنل، آئی ریچ ملائیشیاء اور دیگر تنظیموں نے اس بیان کی توثیق کی ہے۔

مقبوضہ کشمیر

مزید :

صفحہ اول -