صوبے پہلے غربت کا اندازہ لگائیں پھر این ایف سی ایوارڈ جاری کرینگے: عمران خان

      صوبے پہلے غربت کا اندازہ لگائیں پھر این ایف سی ایوارڈ جاری کرینگے: عمران ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وزیراعظم عمران خان نے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء کیلئے شرط عائد کردی، انہوں نے کہا کہ صوبے پہلے غربت کا اندازہ لگائیں، پھر این ایف سی ایوارڈ جاری کریں گے، پیسا اب وہاں خرچ ہوگا جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے، طاقتور کے کہنے پرنہیں بلکہ اضلاع میں ضرورت کے مطابق بجٹ تقسیم ہوگا۔ انہوں نے پورٹل دیٹا فار پاکستان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت غربت کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔غربت کیخلاف ہمارا جہاد ہے۔ پہلے پورے پنجاب کا بجٹ لاہور پر لگا دیا جاتا تھا، پنجاب کا 55 فیصد بجٹ لاہور پر خرچ ہو رہا تھا۔ جبکہ باقی علاقے پیچھے رہ جاتے تھے۔ لیکن اب لوگوں سے ڈیٹا فار پاکستان کے ذریعے معلوم کریں گے کہ پیسا کہاں خرچ کیا جائے؟ ڈی جی خان پر پیسا لگنا چاہیے وہ بہت پیچھے رہ گیا۔عثمان بزدار کا تعلق پسماندہ علاقے سے ہے۔عثمان بزدار نے اپنے علاقے پر پیسا خرچ کرنا شروع کیا تو شور مچ گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پیسا اب وہاں خرچ ہوگا جہاں اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ صوبے پہلے غربت کا اندازہ لگائیں، پھر این ایف سی فنڈ جاری کریں گے۔ پہلی بار ایسا بجٹ بنائیں گے تو میرٹ پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غربت بیماری ہے، بیماری کی جب تشخیص ہوگی تو علاج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ طاقتور کے کہنے پر نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق اضلاع میں بجٹ تقسیم ہوگا۔ بدقسمتی سے فنڈز کے اجرائکے وقت پسماندہ علاقوں کو نہیں دیکھا جاتا۔ پالیسی سازوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ کس علاقے میں پیسے کی زیادہ ضرورت ہے۔ پیسا ہمیشہ طاقتور کے کہنے پر خرچ کیا جاتا تھا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے انتظامی سطح پر برتی جانے والی مجرمانہ غفلت کی قیمت عوام کے ہر طبقے نے چکائی ہے،جامع منصوبہ بندی کا فقدان دراصل ماضی حکمرانوں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے تاہم موجودہ حکومت عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے ملکی ضروریات اور شرح نمو کو مد نظر رکھتے ہوئے مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے تمام متعلقہ محکموں کے درمیان باہمی رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اعلی حکام کو ہدایت کی کہ جامع منصوبہ بندی اور حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ ترسیل و متفرق اخراجات میں ممکنہ حد تک کمی لائی جا سکے اور عوام کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے حوالے سے اعلی سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں کارفرما عوامل، موجودہ طریقہ کار، اور اس حوالے سے ایک منظم اور جامع حکمت عملی اختیار کرکے قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے تفصیلی غورو خوص کیا گیا اجلاس میں وزیر توانائی عمر ایوب، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر، معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر و سینئر افسران شریک ہوئے، اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم کو پٹرولیم مصنوعات کی درآمد اور انکی قیمتوں پر کارفرما ہونے والے مختلف عوامل اور اخراجات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کے دوران وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی طلب و رسد کے حوالے سے ماضی کی حکومتوں کی جانب سے نہ تو مناسب حکمت عملی اختیار کی گئی اور نہ ہی ترسیل اور دیگر متفرق اخراجات کو کم کرنے کے حوالے سے کوئی مناسب اقدامات کیے گئے جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اور عوام پر اضافی بوجھ پڑتا رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، جدید علوم اور خصوصا ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے ایسے افراد کی قابلیت سے استفادہ کرناملکی مفاد میں ہے، انہوں نے ان خیالات کا ظہار منگل کو وزیر اعظم ہاؤ س میں برطانیہ میں مقیم سائنسدانوں کے وفد سے ملاقات کے دوران کیا ملاقات میں وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد احمد بھی موجود تھے۔، اس موقع پر وزیراعظم کو بتایا گیا کہ برطانیہ کے مختلف مایہ ناز تعلیمی اورتحقیقاتی اداروں سے تعلق رکھنے والے ستر سائنسدانوں کاوفد پاکستان میں موجود ہے جو کہ ایگریکلچر نیوٹریشن، ہیلتھ کیئر اور بائیو ٹیکنالوجی کے فروغ کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ میں شرکت کر رہا ہے، اس ورکشاپ کا مقصد ان شعبہ جات میں جدیدعلوم، تجربات اورمعلومات کا تبادلہ خیال ہے اور اس ضمن میں متعلقہ پاکستانی اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان روابط اور پارٹنرشپ کا قیام ہے،وزیر اعظم نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیوزیرِ اعظم آج بدھ کو وزارتِ ہاؤسنگ کی جانب سے بیس ہزار گھروں کی تعمیر کے سات منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان سات منصوبوں کی مالیت سو ارب روپے ہے۔چھ منصوبے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ فانڈیشن جبکہ ایک منصوبہ پاکستان ہاسنگ اتھارٹی فاؤنڈیشن سے متعلق ہے۔ گھر و ں کی تعمیر و فر ا ہمی معا شی تر قی اور معا شر تی استحکام کے حوالے سے ملکی معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے۔

وزیر اعظم

مزید :

صفحہ اول -