نئے پاکستان میں آمریت اور فسطائیت کا بھی نیا روپ سامنے آگیا: بلاول بھٹو زرداری

نئے پاکستان میں آمریت اور فسطائیت کا بھی نیا روپ سامنے آگیا: بلاول بھٹو ...

  

لاہور(نامہ نگار) پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ نئے پاکستان کی صورت میں نئی آمریت اور فسطائیت کی نئی شکل سامنے آئی ہے اور عوام کے جو حقوق مشرف اور ضیاء کے دور حکومت نے نہیں چھنے تھے وہ اس حکومت نے چھین لئے ہیں،آئین نے عدلیہ کو آزاد اور خود مختار ادارہ بنایا، وکلا آمریت کے خلاف ایک آہنی دیوار بن چکے ہیں۔گزشتہ روزیہاں لاہور ہائیکورٹ بار میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ وکلا نے آمریت کیخلاف جدوجہد کی، ملک کا پہلا آئین جمہوری دور میں منظور کیا گیا، وکلا ہمیشہ آمریت کے خلاف آہنی دیوار بنے رہے اور ڈٹ کرکے آمریت کا مقابلہ کیا، آمروں نے آئین کو مسخ کیا۔ آمرانہ قانون کا سب سے پہلانشانہ قانون کی حکمرانی ہوتی ہے۔ ایک وکیل قائداعظم نے پاکستان بنایا اور ایک وکیل ذولفقار علی بھٹو نے پاکستان کو آئین دیا۔پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے۔ بھٹو کی شہادت کا کیس آج بھی عدالت میں زیر التواء ہے۔ بار سے اپیل ہے بھٹو کا انصاف دلوائیں۔ اگر بینظیر بھٹو کو انصاف نہیں ملے گا تو عام آدمی کو کہا ں انصاف ملے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو کسی نے قبول نہیں کیا۔ آصف زرداری کو بغیر کسی وجہ کے جیل میں رکھا گیااور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرکے انہیں قید رکھا گیا۔1994 ء میں 5 خواتین ہائیکورٹس کی ججز تھیں، جنسی تفریق کی وجہ سے کسی کو سپریم کورٹ نہیں بھیجا گیا۔ میری تجویز ہے کہ خواتین ججز کی تعداد بڑھائی جائے۔بینظیر بھٹو کی خواہش تھی کہ خواتین ججز کوبھی اعلیٰ عدلیہ میں ہونا چاہیے۔

بلاول

مزید :

صفحہ اول -