مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، شہباز شریف کی جلد واپسی کا مطالبہ

  مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، شہباز شریف کی جلد واپسی کا مطالبہ

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں متعدد ارکان نے شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہکر دیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں متعدد ارکان نے سینیئر رہنماؤں سے شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینٹرز اور سینیئر قیادت شہباز شریف کو وطن واپس آنے کا کہیں۔ مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سینیٹر پیر صابر شاہ نے پارٹی کی پالیسیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی پر مسلم لیگ (ن) کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا تاہم قائد کے بیانیہ کو پس پشت ڈال کر نقصان اٹھایا ہے، ہماری پارلیمان میں کارکردگی پر عوام افسوس کررہے، ہمیں نواز شریف کے بیانیہ پر چلنا ہوگا ورنہ عوام بھی ساتھ چھوڑ جائیں گے۔دوران اجلاس جاوید لطیف نے کہا کہ 4 لوگ عقل کل نہیں، پارٹی میں مشاورتی دائرہ کار کو بڑھایا جائے، ایک غلطی کرچکے ہیں جس کا آنے والے وقت میں ادراک ہوگا، لیڈرشپ کے بعد آپ لوگوں کو تلخ باتیں سننا پڑیں گی، کڑوی باتیں سن کر فیصلے کریں گے تو جماعت کے لیے اچھا ہوگا، ہم نے آگے بڑھنا ہے، احتجاج کے لیے جماعت کو تیار کریں۔خواجہ آصف نے کہا کہ جوانی میں ہم بھی بڑی بڑھکیں مارتے رہے ہیں، کوئی فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کیا، سب پارٹی قیادت کی ہدایت پر کیا جاتا ہے۔ پارلیمانی پارٹی نے ملک میں مہنگائی اور معاشی تباہی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ہی دن میں 6.02 فیصد سٹاک مارکیٹ کا گرنا معاشی تباہی کی نئی تاریخ ہے، یہ معاشی تباہی کا الارم ہے، معاشی کشتی ڈوب گئی تو کچھ نہیں بچے گا، سویت یونین کے انجام سے سبق سیکھنا ہوگا، عمران خان پاکستان کا گوربا چوف ہے۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق، قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سیکرٹری جنرل احسن اقبال، رانا تنویر، مشاہد اللہ خان، ایاز صادق، چوہدری برجیس طاہر، رانا ثنااللہ سمیت دیگر سینیئر قائدین نے اجلاس میں شرکت کی۔ پارلیمانی پارٹی نے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان پر لندن میں قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ڈاکٹر عدنان کے سر پر فولادی ڈنڈے سے وار کیاگیا، زخمی ہونے کے باوجود تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اجلاس نے کہاکہ امید ہے لندن پولیس ڈاکٹر عدنان کو انصاف فراہم کرے گی۔ اجلاس میں مقبوضہ جموں وکشمیر اور فسلطین کی صورتحال اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور فیصلوں کو پامال کیاجارہا ہے اور عالمی برادری چپ سادھے خاموش ہے۔ مقبوضہ فلسطین میں مروجہ امن فارمولے کی جگہ یک طرفہ اقدامات نے مشرق وسطی کے امن کو اسی طرح خطرے سے دوچار کردیا ہے جس طرح بھارت کی موجودہ قاتل جنونی حکومت نے 5 اگست 2019 کو اپنے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کئے۔ اجلاس نے واضح کیا کہ اگر اس طرح عالمی مسلمہ تنازعات پر عالمی قانون اور ضابطے ردی کی ٹوکری میں پھینکے جائیں گے تو یہ عالمی امن اور عالمی اداروں کی بقاکے لئے بڑا خطرہ ہے جس سے دنیا کے امن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اجلاس نے بھارت کے اندر شہریت اور نیشنل رجسٹر کے نام پر متعصبانہ، یک طرفہ اور مسلمان دشمن قانون سازی اور بے گناہ مسلمانوں کے قتل عام، مساجد کی بے حرمتی، مسلمانوں کی دکانوں، مکانوں اور املاک کو جلانے اور نقصان پہنچانے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہاکہ آج بھارت کے اندر سے دو قومی نظریہ کی سچائی کی گواہی دی جارہی ہے۔۔ اجلاس میں کہاگیا کہ ملک اور عوام غریب ہورہے ہیں جبکہ عمران خان اور ان کے حواریوں کی دولت میں اضافہ ہورہا ہے، ملک اور عوام ڈوب رہے ہیں اور کرپٹ حکمران قوم کو الٹی پٹیاں پڑھا رہے ہیں، ایف آئی اے کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں، یہ چینی چوروں کو بچانے کے لئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا حربہ ہے، حکومت میں بیٹھے چینی چوروں اور ان کے سرغنہ کو بچانے کے لئے کہانی بنائی گئی۔ آٹا چینی چوری کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیٹی اب تک تشکیل نہیں دی گئی جبکہ چوروں کے بارے میں رپورٹ بھی عمران نیازی نے اپنے دراز میں چھپائی ہوئی ہے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ اس وقت کمر توڑ مہنگائی عوام کی برداشت سے باہر ہے۔ لوگوں کے لئے جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا ہے۔ 14 فیصد کی مہنگائی کی بلند ترین شرح، بجلی اور گیس کے ہوشربا بلوں نے عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔ غریب، نادار اور متوسط طبقات کے لئے سفید پوشی برقرار رکھنا ناممکن ہوچکا ہے۔ اجلاس نے قرار دیا کہ ملک میں کوئی معاشی حکمت عملی موجود نہیں۔ صرف لٹیروں کا گروہ ہے جو من مانی قیمتیں وصول کرکے اپنی تجوریاں بھرنے میں مصروف عمل ہے۔ ملک پر بدترین اور تیز ترین قرض کا بوجھ لاد دیاگیا ہے۔ 12000 ارب روپے کا بوجھ آنے والی نسلوں کو ادا کرنا ہوگا۔ ریکارڈ قرض لینے، بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے، خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو ریکارڈ بلند ترین سطح تک بڑھانے کے بعد بھی حکومت کا بجٹ خسارہ بڑھتا جارہا ہے۔

مسلم لیگ ن

مزید :

صفحہ اول -