طالبان کا اسلامی حکومت بنانے کا اعلان، ملا ہیبت اللہ سربراہ مقرر، امریکہ اشرف غنی کا حامی

طالبان کا اسلامی حکومت بنانے کا اعلان، ملا ہیبت اللہ سربراہ مقرر، امریکہ ...

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ نے واضح طور پر عبداللہ عبداللہ کے مقابلے پر اشرف غنی کو افغانستان کا صدر تسلیم کیا ہے کیونکہ امریکی نمائندوں نے صرف ان ہی کی کابل میں حلف برادری کی تقریب میں شرکت کی ہے اس کے علاوہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے بھی اشرف غنی کے صدر بننے کا خیر مقدم کیا گیا ہے اس دوران 29 فروری کے افغان امن سمجھوتے میں کئے گئے وعدے کے مطابق کابل سے امریکی افواج کے انخلاء کے شروع ہونے کی بھی تصدیق ہو گئی واشنگٹن کے پینٹاگون ذرائع نے بتایا ہے کہ 29 فروری کے امن سمجھوتے کے تحت افغانستان میں امریکی فوج کی موجودہ تعداد تیرہ ہزار کو 135 دن کے اندر کم کر کے آٹھ ہزار چھ سو کی سطح پر لانا ہے جس کے بعد وزیر دفاع مارک ایسپر نے تمام نمائندوں کو انخلاء کرنے کا حکم دے دیا تھا تازہ اطلاعات کے مطابق افغانستان سے فوجوں کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک تازہ بیان میں یقین ظاہر کیا ہے کہ امن عمل سے متعلق دوسرے فریق بھی اپنے وعدوں پر عمل کریں گے تا کہ افغانستان میں پائیدار دیرپا امن قائم ہو سکے وزیر خارجہ نے ایک متحدہ اور خود مختار افغانستان کی پرزور حمایت کی ہے اور صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب کے موقع پر کابل میں صدارتی محل پر دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی۔ امریکی وزیر خارجہ نے صدر اشرف حنی کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا کہ افغانستان میں تمام فریقوں کی شمولیت سے نئی حکومت کے قیام کے لئے آئندہ دو ہفتوں میں بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا امریکی وزیر خارجہ نے صدر اشرف غنی کے اس بیان کو بھی سراہا کہ وہ دس مارچ کو طالبان قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلانکریں گے اور انٹرا افغان مذاکرات کے لئے ایک قومی ٹیم تشکیل دیں گے امریکی وزیر خارجہ نے ڈاکٹر عبداللہ کی طرف سے بھی ایسے بیانات کا خیر مقدم کیا انہوں نے کہا کہ امریکہ افغان عوام کی امن کی خواہش کو سمجھتے ہوئے کوشش کر رہاہے کہ تمام فریق جامع سمجھوتہ طے کر لیں امریکہ اس مقصد کے حصول کیلئے تمام فریقوں کو آمادہ کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔امریکی وزیر خارجہ نے ایک متوازی حکومت قائم کرنے کی کارروائیوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اخلافات ختم کرنے کیلئے طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن سمجھوتے اور امریکہ اور افغانستان کے مشترکہ اعلامیے کے ذریعے ایک تاریخی موقع پیدا ہوا ہے اس ملک کے مستقبل اور خصوصاً امن کے مقاصد کیلئے تمام فریقوں کی شمولیت سے ایک متحدہ حکومت کا قیام سب کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔

امریکہ حمایت

کابل/واشنگٹن/نیویارک(آئی این پی) افغان طالبان نے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ کو افغانستان کا قانونی سربراہ قرار دے دیا۔افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ ملک کے قانونی سربراہ ہیں اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرلی جائے گی۔وائس آف امریکا کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کا کہنا ہے امریکا کے ساتھ امن معاہدہ کرنے سے ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا، جو افغانستان کے قانونی حکمران ہیں۔ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں اسلامی حکومت قائم کریں۔افغان طالبان کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی موجودگی میں افغانستان میں کوئی اور قانونی حکمراں نہیں بن سکتا۔ایک قانونی امیر کے حکم پر غیر ملکی حکمرانی کے خلاف 19برس تک جہاد جاری رکھا گیا۔ قبضہ ختم کرنے کے سمجھوتے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اصول باقی نہیں رہا۔طالبان نے تازہ بیان میں وضاحت کی ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے صرف بین الاقوامی فوج کا انخلا کافی نہیں ہوگا۔ بیان کے مطابق سمجھوتے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بدعنوان افغان عناصر کو ساتھ رکھا جائے جنہوں نے غیرملکی حملہ آوروں کا ساتھ دیا، تاکہ وہ آئندہ حکومت کا حصہ بنیں۔افغان طالبان نے مزید کہا ہے کہ جب تک قبضے کی جڑوں کو مکمل طور پر اکھاڑ نہیں پھینکا جاتا اور اسلامی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی، تب تک مجاہدین اپنا مسلح جہاد جاری رکھیں گے اور اسلامی شریعت پر عمل درآمد کی کوششیں تیز کریں گے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغان صدر اشرف غنی کے حلف اٹھانے کے بعد ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایک متحد اور خودمختار افغانستان کی حمایت کرتا ہے اور ملک میں متوازی حکومت کے قیام کے لیے کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے،امریکا کابل میں دہشت گرد حملے کی مذمت اور قیام امن کی جدو جہد جاری رکھے گا،سیاسی اختلافات کے حل کے لیے کسی بھی فورس کے استعمال کی بھی مخالفت کرتا ہے،ہم امن و مصالحت کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سیاسی اختلافات کے حل کے لیے کسی بھی فورس کے استعمال کی بھی مخالفت کرتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے افغانستان میں ایک مکمل اور قابل قبول حکومت کی تشکیل کے لیے صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو ایک معاہدے پر لانے کی کوششوں میں گزشتہ ہفتے وہاں قیام کیا، ہم اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں اور ان کے نزدیک امن و مصالحت ترجیح ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کابل میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور ایک بیان میں کہا کہ امریکا افغانستان میں مکمل قیام امن کی کوششوں میں مصروف ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے افغان صدر کے مذاکرات جاری رکھنے، افغان طالبان کی رہائی اور انٹرا افغان ڈائیلاگ کے لیے ٹیم تشکیل دینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ باشعور اور امن کے قیام کے خواہش مند افغان عوام کے لیے امریکا دونوں طرف سے معاہدے کی تکمیل کے لیے کام کررہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششوں پر بھی ثابت قدم رہے گا۔علاوہ ازیں امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ووٹنگ کرے

افغانستان

مزید :

صفحہ اول -