جماعت اسلامی رواں ماہ ”مار گئی مہنگائی“مہم شروع کریگی

  جماعت اسلامی رواں ماہ ”مار گئی مہنگائی“مہم شروع کریگی

  

لاہور(پ ر)امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکراللہ مجاہدنے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے لاہور میں مارگئی مہنگائی مہم کے آغاز کا اعلان کر دیا۔ 28 مارچ کو سینیٹر سراج الحق کی قیادت میں لاہور میں مارگئی مہنگائی روڈ کارواں ہوگا۔ مدینہ کی ریاست اور تبدیلی کے دعویدار حکمرانوں نے عوام سے دو وقت کی روٹی بھی چھین لی ہے۔ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ بے لگام مہنگائی ہے۔کمرتوڑ مہنگائی اور غربت کی وجہ سے 20لاکھ سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہیں۔غریب آدمی بھوک و فاقہ کی وجہ سے خود کشی کر رہا ہے۔

جبکہ نوجوان اپنی ڈگریاں جلانے پر مجبور ہیں۔غریب عوام علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہیں۔ نت نئے ٹیکسوں نے عوام کا جینا دو بھرکر دیاہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امراء جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین، افتخار احمد چوہدری، اظہر بلال، ڈپٹی سیکرٹریز جماعت اسلامی لاہور چوہدری محمودالاحد، عبدالعزیز عابد،عمر شہباز،

سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی لاہور اے ڈی کاشف سمیت دیگر قائدین نے شرکت کی۔ڈاکٹرذکر اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ تبدیلی کے دلفریب نعروں نے پوری قوم کو شدید مایوس کردیا ہے۔ سابقہ حکومتوں کی طرح موجودہ حکمران ان کا تسلسل ثابت ہوئے ہیں۔ موجودہ حکومت نے 18 ماہ میں ادویات کی قیمتوں میں 200، حج اخراجات میں 63 فیصد، گیس کی قیمتوں میں 91 فیصد، چینی کی قیمت میں 38 فیصد، سبزوں میں 80 سے 100 فیصداضافہ کر کے غربیوں کی کمر توڑ دی ہے اور آئی ایم ایف کی ایما ء پر735 ارب کے نئے ٹیکس لگا کر غربیوں کی کمر توڑ دی ہے جبکہ گردشی قرضے 11440 ارب سے بڑھ کر ملکی تاریخ میں ریکارڈ 11900 ارب روپے ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکامی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے 95.2 ارب ڈالر سے 111 ارب ڈالر اضافہ سے فارن ریزرو 8 ارب ڈالر رہ گئی ہے۔ مسائل کم ہونے کی بجائے ان میں کئی گناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ نااہل حکومتی ٹیم بیان بازی اور نعروں اور دعووں سے ملکی مسائل کرنے کیلئے کوشاں ہیں جبکہ عوام فاقوں اور خودکشیاں کرنے پر مجبور ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ذکراللہ مجاہد نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سے سودی نظام کو ختم کیا جائے۔ٹیکسوں کی شرح کو کم کیا جائے تاکہ غریب سکون کا سانس لے۔غیر پیداواری خرچے کم کئے جائیں تاکہ ترقیاتی بجٹ بڑھ سکے۔ وزیراعظم سمیت تمام پارلیمانی ممبران کی تنخواہوں کے بل کو واپس لیا جائے۔مہنگائی میں کمی کے لئے حکومت سبسڈی کا اعلان کرے۔بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے تاکہ پیداواری خرچے کم ہوں۔ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔کسان کو سستے نرخوں پر بیج، کھاد اور ادویات کی فراہمی کی جائے۔تعلیم کومفت کیا جائے تاکہ غریب کا بیٹا تعلیم حاصل کر سکے صحت اور علاج معالجہ کی سہولیات کو مفت کیا جائے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -