سید بادشاہ!

سید بادشاہ!
سید بادشاہ!

  

آج کے زمانے میں شریف آدمی ہونا کوئی لائق تحسین یا قابل فخر بات نہیں، لیکن میرے دوست عارف نوناری اس کے باوجود شرافت کی پگڑی سر پر رکھے پھرتے ہیں۔ لکھنے پڑھنے کے سوا کوئی کام نہیں کرتے۔ اب تک انہوں نے جتنے کالم لکھ لیے ہیں ان کی پاداش میں انہیں کوئی نہ کوئی بڑا انتظامی یا سیاسی عہدہ مل جانا چاہئے تھا تاکہ ان کے اشہب قلم کو روکا جاسکتا۔ کیونکہ ہمارے ہاں کالم نگاروں کو راہ پر لانے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسے کسی حکومتی عہدے پر بٹھا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ لو بَچُّو! اب لکھ کر دکھاؤ کالم۔ ہمارے کئی بڑے کالم نگاروں کی موت انہی سرکاری عہدوں کی کرسیوں پر متمکن ہونے کے بعد واقع ہوئی ہے۔ اب وہ ملک کے گھمبیر سیاسی، معاشی، سماجی، اقتصادی اور عوامی مسائل پر لکھنے کے بجائے شادی بیاہوں، کھابا پارٹیوں، جگت بازوں اور بھانڈوں کے بارے میں لکھتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ عارف نوناری اپنے ایک کالم ”مزاح نگار اور طنز و مزاح“ میں یونہی روا روی میں یا یوں کہیئے کہ بے دھیانی میں ایک بہت بڑی بات کر گئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کسی بھی سیاسی شخص سے مذاق نہ کریں اور نہ (ان کے حوالے سے) مزاح پیدا کرنے کی کوشش کریں“

میں نے آغاز میں کہا تھا ناں کہ عارف نوناری ایک شریف آدمی ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ کالم کی قیمت کس طرح لگتی ہے؟ وہ کالم نگاروں کو وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور دیگر سیاسی شخصیات سے مذاق کرنے سے منع کر رہے ہیں، حالانکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ وزیراعظم کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر لطیفے سنانے اور وزیراعلیٰ کی ران پر ہاتھ مار کر قہقہے لگانے والے کتنے ہی لوگ من کی مرادیں پا گئے۔ میرے دوست عارف نوناری اتنے سادہ ہیں کہ انتی سی بات بھی نہیں سمجھ پائے۔ اپنی اس سادگی کی وجہ سے وہ بھی میری طرح، ہر طرح کے علمی، ادبی اور کالمی ہتھیار سے لیس ہونے کے باوجود سڑکوں کے پتھر گنتے نظر آتے ہیں۔ عارف نوناری سید بادشاہ ہیں۔ ہمارے شاعر میرتقی میر نے یہ شعر شاید انہی کے لئے کہا تھا:

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی

نوناری صاحب فرشتوں سے بھی مذاق کرنے سے ڈرتے ہیں۔ کہتے ہیں:

”فرشتوں سے کبھی طنز و مزاح والا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ ورنہ وہ حساب کتاب میں گڑ بڑ کر جائیں گے“۔

ویسے ان کی اس بات سے مجھے صد فی صد اتفاق ہے کیونکہ ہماری قومی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جس نے بھی ”فرشتوں“ سے مذاق کرنے کی کوشش کی اس کے ساتھ گڑبڑ ہوگئی۔ فرشتوں سے تو ہمارا غالب جیسا شاعر بھی ڈرتا تھا، لیکن وہ عارف نوناری کے مقابلے میں کچھ دلیر تھا۔ اس نے کہا تھا:

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا؟

بھولے سید بادشاہ، عارف نوناری کو اب کون بتلائے کہ کالم نگاروں میں ممتاز اور نمایاں ہونے کے لئے تھوڑی سی جرات اور دلیری چاہئے۔ وہ اپنے کالموں میں گدھوں کا ذکر بھی نہایت احترام سے کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

”ایک انگریز کی موت اس لیے ہوگئی تھی کہ جب وہ کھانا کھا رہا تھا تو اس کے ساتھ ایک گدھے نے کھانا کھانا شروع کردیا تھا اور اسی بات پر وہ ہنستے ہنستے مر گیا“۔

یہ جملہ لکھ کر نوناری صاحب نے کاغذ سے قلم اٹھایا اور جیب میں اڑس لیا۔ حالانکہ وہ لکھ سکتے تھے کہ اہل لاہور گدھوں کے ساتھ تو کھانا نہیں کھاتے البتہ کھانا کھاتے ہوئے گدھے کو پلیٹ میں ضرور ڈال لیتے ہیں۔ لیکن شاید وہ گدھوں کے احترام میں کچھ زیادہ نہیں لکھ سکتے۔

نوناری صاحب جب بے ساختہ لکھتے ہیں تو ان پر بے ساختہ پیار آتا ہے کیونکہ وہ بے ساختگی میں سچی اور کھری باتیں لکھ جاتے ہیں۔ جن سے بہت سے لوگ ناراض بھی ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ماضی قریب کے ایک گم شدہ مزاحیہ کالم نگار اور خاکہ نویس کے بارے میں انہوں نے یہ لکھا ہے کہ ان کے پاس انگریزی کی ایک کتاب 10,000 Jokes ہوا کرتی تھی اور اب یہ کتاب چوری ہوگئی ہے۔ اس معاملے میں مجھے نوناری صاحب سے ہرگز اتفاق نہیں، کیونکہ مجھے ابھی اس شہر میں رہنا ہے۔ مزاح نگار سے پنگا لینا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کے لیے شیر کا جگرا چاہئے۔ عارف نوناری کے کالموں میں مزاح کی لہر کے ساتھ ساتھ، درد مندی بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ وہ عام لوگوں کے مسائل کو دیکھ کر جی ہی جی میں کڑھتے نہیں، بلکہ ان پر اپنی رائے بھی دیتے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں انہوں نے تھر کے لوگوں کی پیاس کو موضوع بنایا ہے۔ وہ جانتے بھی ہیں کہ ان کے کالم لکھنے سے تھر کے لوگوں کی پیاس نہیں بجھنے والی، لیکن وہ اپنے حصے کا کنکر گرا کر فرض سے سبکدوش ہونے کے آرزو مند ضرور ہیں۔

پستول سے آپ ایک وقت میں ایک گولی چلا سکتے ہیں جبکہ کلاشنکوف سے ایک ہی وقت میں بہت سی گولیوں کی بوچھاڑ کر سکتے ہیں۔ عارف نوناری کا کالم بھی کلاشنکوف کی طرح ہوتا ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں کئی لوگوں اور اداروں کو اپنے نشانے پر رکھ لیتے ہیں۔ ایک ہی کالم میں وہ تعلیم، صحت، روزگار، پانی کی فراہمی اور ہمارے ملکی سیاسی نظام پر یوں کلاشنکوف چلاتے ہیں کہ کشتوں کے پشتے لگ جاتے ہیں۔ میرا جی چاہ رہا ہے کہ تھر جانے سے پہلے وہ ایک بار لاہور شہر کے دل میں واقع تاریخی تعلیمی ادارے گورنمنٹ دیال سنگھ کالج میں بھی آئیں اور دیکھیں کہ طلبہ و طالبات کس طرح سارا دن تشنہ لب رہ کر اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ میں چاہوں گا کہ وہ ایک بے ساختہ کالم لکھیں اور ممکن ہے کہ ہمارے ہر دلعزیز گورنر چودھری محمد سرور صاحب ان کا یہ کالم پڑھ کر دیال سنگھ کالج کے دو کیمپسز میں دو واٹر فلٹر پلانٹ ہی لگوا دیں۔

(برادرم نواز کھوکھر کی دعوت پر گورنر ہاؤس میں سید عارف نوناری کی دو کتابوں کی تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)

مزید :

رائے -کالم -