افغان طالبان کا اپنی حکومت بنانے کا اعلان، ملاہیبت اللہ قانونی سربراہ مقرر

افغان طالبان کا اپنی حکومت بنانے کا اعلان، ملاہیبت اللہ قانونی سربراہ مقرر

  

کابل/واشنگٹن/نیویارک(آئی این پی) افغان طالبان نے اپنی حکومت قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ کو افغانستان کا قانونی سربراہ قرار دے دیا۔افغان طالبان نے اعلان کیا ہے کہ ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ ملک کے قانونی سربراہ ہیں اور غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرلی جائے گی۔وائس آف امریکا کی جانب سے شائع کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغان طالبان کا کہنا ہے امریکا کے ساتھ امن معاہدہ کرنے سے ان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آتا، جو افغانستان کے قانونی حکمران ہیں۔ ان کا مذہبی فریضہ ہے کہ غیر ملکی قابض فوج کے انخلا کے بعد ملک میں اسلامی حکومت قائم کریں۔افغان طالبان کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ ملا ہیبت اللہ کی موجودگی میں افغانستان میں کوئی اور قانونی حکمراں نہیں بن سکتا۔ایک قانونی امیر کے حکم پر غیر ملکی حکمرانی کے خلاف 19برس تک جہاد جاری رکھا گیا۔ قبضہ ختم کرنے کے سمجھوتے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اصول باقی نہیں رہا۔طالبان نے تازہ بیان میں وضاحت کی ہے کہ کشیدگی میں کمی کے لیے صرف بین الاقوامی فوج کا انخلا کافی نہیں ہوگا۔ بیان کے مطابق سمجھوتے میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ بدعنوان افغان عناصر کو ساتھ رکھا جائے جنہوں نے غیرملکی حملہ آوروں کا ساتھ دیا، تاکہ وہ آئندہ حکومت کا حصہ بنیں۔افغان طالبان نے مزید کہا ہے کہ جب تک قبضے کی جڑوں کو مکمل طور پر اکھاڑ نہیں پھینکا جاتا اور اسلامی حکومت تشکیل نہیں دی جاتی، تب تک مجاہدین اپنا مسلح جہاد جاری رکھیں گے اور اسلامی شریعت پر عمل درآمد کی کوششیں تیز کریں گے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغان صدر اشرف غنی کے حلف اٹھانے کے بعد ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا ایک متحد اور خودمختار افغانستان کی حمایت کرتا ہے اور ملک میں متوازی حکومت کے قیام کے لیے کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتا ہے،امریکا کابل میں دہشت گرد حملے کی مذمت اور قیام امن کی جدو جہد جاری رکھے گا،سیاسی اختلافات کے حل کے لیے کسی بھی فورس کے استعمال کی بھی مخالفت کرتا ہے،ہم امن و مصالحت کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سیاسی اختلافات کے حل کے لیے کسی بھی فورس کے استعمال کی بھی مخالفت کرتا ہے۔امریکی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے بھی ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے کہا کہ میں نے افغانستان میں ایک مکمل اور قابل قبول حکومت کی تشکیل کے لیے صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو ایک معاہدے پر لانے کی کوششوں میں گزشتہ ہفتے وہاں قیام کیا، ہم اپنے تعاون کو جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ ملک میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں اور ان کے نزدیک امن و مصالحت ترجیح ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کابل میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی اور ایک بیان میں کہا کہ امریکا افغانستان میں مکمل قیام امن کی کوششوں میں مصروف ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے افغان صدر کے مذاکرات جاری رکھنے، افغان طالبان کی رہائی اور انٹرا افغان ڈائیلاگ کے لیے ٹیم تشکیل دینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ باشعور اور امن کے قیام کے خواہش مند افغان عوام کے لیے امریکا دونوں طرف سے معاہدے کی تکمیل کے لیے کام کررہا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنے کی کوششوں پر بھی ثابت قدم رہے گا۔علاوہ ازیں امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ امریکا اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر ووٹنگ کرے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سفارتی ذرائع نے بتایاکہ اس معاہدے کے ذریعے افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہو گی۔سفارتی ذرائع کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مختلف ممالک کے ساتھ تفصیلی گفت گو کے بعد سلامتی کونسل سے اس معاہدے پر ووٹنگ کے لیے کہا گیا ہے۔ مزید برآں افغان صدراشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے انٹرا افغان ڈائیلاگ کیلئے مذاکراتی ٹیم بھی تشکیل دیدی گئی۔افغان خبر رساں ادارے کے مطابق دوسری مرتبہ صدر کا حلف اٹھانے والے افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ خوش قسمتی سے ہم نے ایک فریم ورک حاصل کرلیا ہے، قیدیوں کے تبادلے کے لیے اب افغانستان میں مجموعی طور پر تشدد میں کمی واقع ہوئی ہے۔افغان حکومت کے زیر حراست تقریبا 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی دوحہ میں ہونے والے امریکا طالبان امن معاہدے کا حصہ ہے جو انٹرا افغان ڈائیلاگ کے راہ ہموار کرے گی۔اشرف غنی نے کہا کہ سول سوسائٹی کے ممبران، بااثر حلقوں، خواتین، نوجوان اور علما کے نمائندگان سے مشاورت کے بعد مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زادنے کہاہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان قیدیوں کے تبادلے کا اعلان خوش آئند ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق جاری کیے گئے ایک بیان میں امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے کہا کہ اس اعلان سے بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا افغانستان میں قابلِ قبول حکومت کے لیے کوششیں کر رہا ہے، اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان صلح کی کوششیں جاری رکھیں گے۔زلمے خلیل زاد نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام کے لیے دونوں رہنما بات چیت پر تیار ہیں، افغانستان میں امن و مصالحت دونوں رہنماؤں کی ترجیح ہے۔دوسری جانب امریکا نے افغانستان سے اپنی فوج کے انخلا کا آغاز کردیا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج کے ترجمان کرنل سنی لیگیٹ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فورسز کا انخلا امریکا طالبان امن معاہدے کے تحت کیا جارہا ہے، معاہدے کے135 روز میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم کر کے 8600 کرنے پرقائم ہیں۔

افغانستان

مزید :

صفحہ اول -