عالمی یوم خواتین، امن سے گزر گیا، لاہور میں بھی بڑا مظاہرہ

عالمی یوم خواتین، امن سے گزر گیا، لاہور میں بھی بڑا مظاہرہ

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

عالمی یوم خواتین پوری دنیا میں منایا گیا کہ یہ خواتین کے حقوق کے لئے متعین کیا گیا۔ دنیا بھر میں خواتین نے بڑے بڑے جلوس نکالے تو پاکستان میں بھی ایسا کیا گیا۔ ہمارے ملک میں پہلے اتنے بڑے پیمانے پر یہ دن نہیں منایا جاتا تھا لیکن اس بار کچھ زیادہ شور، حتیٰ کہ ہنگامی صورت پیدا ہوئی کہ گزشتہ برس جب پہلی بار خواتین سڑکوں پر آ کر ”حقوق“ مانگنے لگیں تو کچھ نہ ہوا، اسی سے حوصلہ پا کر رواں برس میں زیادہ تیاری کی گئی۔ اس میں بعض این جی اوز نے بھی حصہ لیا اور سول سوسائٹیز کے نام سے تنظیموں نے پبلسٹی بھی کی۔ تاہم اس بار دوسری طرف سے بھی معترض حضرات میدان میں آ گئے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (ف) نے یہ دن تکریم اور احترام خواتین کے حوالے سے منایا اور موقف اختیار کیا کہ دین میں خواتین کے حقوق کا تحفظ زیادہ بہتر انداز میں کیا گیا۔ اس کے مطابق خاتون شمع محفل نہیں زینت خاندان ہے۔ اس سلسلے میں کئی حضرات نے مختلف اعلیٰ عدالتوں سے بھی رجوع کیا کہ خواتین کے مظاہروں کو روکا جائے لیکن عدالتوں کی طرف سے آئین کی رو سے پر امن اور جائز مطالبات کے لئے مظاہروں اور تقریر و تحریر کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے اجازت دے دی گئی اور قرار دیا کہ دل آزار اور غلط نعرے اور کارروائی سے گریز کیا جائے۔

معاشرے میں یہ تقسیم گزشتہ برس کے دوران اس پلے کارڈ کی وجہ سے ہوئی جس پر نعرہ ”میرا جسم، میری مرضی“ تحریر تھا اور اس پر بحث بھی ہوتی چلی گئی بہرحال اجازت کے بعد پھر پورے ملک میں خواتین کے مظاہرے ہوئے۔ جماعت اسلامی کی مظاہرین عبایہ اور حجاب والی تھیں جبکہ سول سوسائٹیز والی خواتین جدید فیشن والی بھی تھیں لاہور میں ان خواتین نے پریس کلب سے اسمبلی ہال تک مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقع سے بچنے کے لئے حفاظتی اتنظامات بھی کئے اور پریس کلب کی طرف آنے والے راستوں کو نہ صرف کنٹینر لگا کر محفوظ کیا بلکہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی اس میں شاید پہلی بار خواتین پولیس کے ”اینٹی رائٹ“ دستے موجود تھے۔ اس کے باوجود وقت مقررہ پر خواتین کی بھاری تعداد جمع ہو گئی۔ اگرچہ بعض پر جوش خواتین جن کا متعلق شوبز سے ہے۔ صورت حال دیکھ کر واپس بھی چلی گئیں۔ اس کے باوجود بھاری تعداد میں خواتین نے جلوس نکالا۔ ان میں ہر رنگ کی خواتین شامل تھیں۔ انتہائی جدید فیشن کی حامل اور چند عبا پوش بھی تھیں۔ پلے کارڈوں پر مردوں کے مساوی حقوق کے مطالبات درج تھے۔ تاہم متنازعہ پلے کارڈ نظر نہیں آیا۔ البتہ ان خواتین نے ”ہم کیا مانگیں، آزادی“ جیسے نعرے ضرور لگائے۔ اب آزادی سے مراد کیا تھی۔ یہ نہیں بتایا گیا، بہر حال ان خواتین کے مطالبات کی بھی حمایت تو ہوئی۔

اس سلسلے میں جماعت اسلامی نے جس مظاہرے کا اہتمام کیا اس سے سکریٹری جنرل امیر العظیم اور محترم لیاقت بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ ان حضرات نے مغربی معاشرت سے متاثر ہو کر فیشن اختیار کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ دین میں خواتین کو ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کے حوالے سے بہت حقوق دیئے گئے ہیں۔ خواتین کو یہ پورا حق ہے کہ وہ معاشرے میں اپنی اہلیت کے مطابق خدمات انجام دیں۔ تاہم اس کی حدود بھی متعین ہیں اور وہ ہے پردہ اور گھر کا انتظام۔ خواتین کی گود میں مجاہد، سائنس دان، عالم اور ماہرین پرورش پاتے ہیں اور اسے عظیم مقام حاصل ہے جماعت اسلامی اور دوسری دینی جماعتوں کی طرف سے یہ موقف بھی دہرایا گیا کہ جو حضرات عورت کی کھلی آزادی کی حمایت کر رہے ہیں وہ خود خواتین کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے۔

اسی شہر لاہور میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس سے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا۔ انہوں نے سرکاری موقف بیان کیا اور کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت خواتین کو ان کے مکمل حقوق دینے کے حق میں ہے اور ان کا تحفظ کیا جائے گا ملک میں خواتین کی حفاظت کے لئے قوانین موجود ہیں اور معاشرے کی اہم ترین ارکان ہونے کی وجہ سے ان کو حقوق بھی حاصل ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ہم آئین، قانون، معاشرے اور روایات کا بھی احساس کریں اور اخلاقی اقدار کے دائرہ کار میں رہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے بھی حقوق نسواں کی پوری پوری حمایت کی۔ بہر حال یہ یوم بھی تنازعات کے باوجود پر امن طور پر گزر ہی گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جب سے سیاست میں سرگرم ہوئے انہوں نے پہلی بار لاہور میں قریباً ایک عشرہ قیام کیا اور یہاں متعدد اجتماعات سے خطاب کیا، ان میں تنظیمی اجلاس، میڈیا سے ملاقاتیں اور کئی مجالس مذاکرہ بھی شامل ہیں۔ بلاول کی یہ مصروفیات پنجاب میں پیپلزپارٹی کی احیاء نو کے لئے ہیں اور وہ اب ساہیوال، اوکاڑہ اور پاکپتن کے دورے پر ہوں گے۔ پیپلزپارٹی پنجاب کی ایک مقبول جماعت تھی اور بانی جماعت ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے بعد ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کی پذیرائی بھی یہیں ہوئی لیکن پھر وہ دور آ گیا۔ جب پنجاب پی پی کے ہاتھ سے نکل کر مسلم لیگ (ن) کے پاس چلا گیا اور سابقہ انتخابات میں اس میں سے تحریک انصاف نے اپنا حصہ وصول کر لیا، پیپلزپارٹی ایک ضمنی جماعت بن کر رہ گئی۔ جو طبقہ پیپلزپارٹی کے لبرل (اعتدال پسند) رویے اور پروگرام کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ساتھ تھا اس نے تحریک انصاف کو ترجیح دی یوں پنجاب میں برائے نام جماعت رہ گئی، بلاول اس کے لئے کئی پروگرام بنا کر لاہور آئے۔ تاہم کوئی بڑا بریک تھرو نہ کر پائے اور اب تو ان کا حق ہی یہ تھا۔ لیکن بظاہر لاہور کا قیام غیر منطقی منصوبہ بندی کے باعث وہ تحرک پیدا نہ کر سکا جس کی اہمیت سمجھی گئی۔ بلاول نے جہاں حکومت پر تنقید کی اور الزام لگایا کہ حکومت نے ملک کو آئی۔ ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ وہاں انہوں نے عوامی مسائل کی نشان دہی کر کے جیالوں کو متحرک ہونے اور عوام سے حمایت کی اپیل بھی کی۔ تاہم انتظام کی کیفیت یہ تھی کہ کارکنوں سے ملاقات کے لئے جس تقریب کا فیصلہ ہوا وہ لاہور کے صدر الحاج عزیز الرحمن چن نے اپنی رہائش پر رکھی۔ جگہ محدود ہونے کیو جہ سے کارکنوں کو اندر نہ آنے دیا گیا عام کارکن باہر روک دیئے گئے جنہوں نے زبردست نعرہ بازی کی۔ بہتر ہوتا بلاول یہ اجتماع بلاول ہاؤس، بحریہ ٹاؤن میں کرتے اور ایک پورا دن کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیال میں گزارتے۔

لاہور میں ینگ ڈاکٹرز پھر سے میدان میں ہیں۔ پیر کو گرینڈ ہیلتھ الائنس نے فیصل چوک میں مظاہرہ کیا تو پولیس سے تصادم ہو گیا لاٹھی چارج اور دھکم پیل سے دو ڈاکٹر زخمی اور متعدد خواتین (نرسیں) بے ہوش ہو گئیں۔ الائنس نے اب مزید احتجاج کا اعلان کر دیا اور ہڑتال کر دی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -