تعلیم، صحت اور سیاحت کے بعد سپورٹس

تعلیم، صحت اور سیاحت کے بعد سپورٹس

  

خیبرپختونخوا حکومت تعلیم، صحت اور سیاحت کے بعد سب سے زیادہ توجہ کھیلوں پر دے رہی ہے اور اس مقصد کے لئے چھوٹے دیہات و قصبات سے بڑے شہروں کی سطح پر مختلف سپورٹس منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں۔ قبائلی علاقہ جات کے صوبے میں انضمام کے بعد قبائلیوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لئے حکومت نے ان علاقوں میں بھی کھیلوں کو فروغ دینے کی جامع منصوبہ بندی کی ہے، دو روز قبل وزیر اعظم عمران خان کو اسی مقصد کے تحت صوبائی دارالحکومت پشاور میں منعقدہ سپورٹس کے ایک اہم ایونٹ پر بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا۔ وہ سپورٹس کمپلیکس پشاور میں انڈر21گیمز کی تقریب میں شریک ہوئے،،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پشاور آمد پر وزیراعظم کو یادگاری شیلڈ پیش کی،گورنرشاہ فرمان اوروزیراعلیٰ خیبرپختونخواسمیت صوبائی وزرا سمیت سرکردہ افراد تقریب میں شریک ہوئے،سپورٹس کمپلیکس میں انڈر21گیمزکے آغاز پر آتشبازی کا شاندارمظاہرہ کیا گیا، جسے شائقین نے بے حد پسند کیا، پر زور تالیوں اور فلک شگاف نعروں میں آتش بازی سمیت دوسرے فن کے مظاہروں پر خوب داد دی گئی۔ اس موقع پر مختلف کھیلوں کے حوالے سے غبارے بھی فضا میں چھوڑے گئے اور وزیراعظم عمران خان نے کھیلوں کے مقابلوں کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس موقع پر خطاب کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ زندگی مقابلے کا نام ہے اور کھیلیں مقابلہ کرنا سکھاتی ہیں، چیمپئن وہ ہوتا ہے جو ہارنے سے سیکھتا ہے،انسان تب ہارتا ہے جب وہ ہار مان جائے، چیمپئن کو محض شکست نہیں ہراسکتی،وہ ہارنے پر سوچتا ہے کہ کیا غلطی کی،تب وہ اپنی غلطی کو دور کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو انڈر21گیمز کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہا کہ امید ہے ان مقابلوں سے پاکستان کا ٹیلنٹ ابھرے گا،میں نوجوانوں کو سپورٹس کی اہمیت بتاناچاہتاہوں،سپورٹس کا فائدہ انسان کی صحت پر ہوتا ہے، کھلاڑی ایک مرتبہ ہار کے بعد مقابلہ کرنے کیلئے دوبارہ کھڑا ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ میں سپورٹس نہ کھیلتا تو22سال پہلے شکست تسلیم کرچکا ہوتا،مشکل وقت کا مقابلہ کرنا نہ سیکھتاتو حالات کا مقابلہ نہ کرپاتا۔

وزیر اعظم نے قبائلی اضلاع کو قومی دھارے میں لانے کے لئے صوبائی حکومت کی تعریف کی اور بالخصوص کھیلوں کے مقابلوں میں قبائلیوں کو شامل کرنے کو خوش آئند قرار دیا جبکہ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم خیبرپختونخوا محمود خان نے سپورٹس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے صوبائی حکومت کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقی کیلئے

Accelerated Implementation Plan (AIP) کے تحت مجموعی طور پر 168 مختلف منصوبے شروع کئے گئے ہیں۔ ابھی تک AIP کے تحت مختص فنڈز کا 41 فیصد حصہ خرچ کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے تمام بڑے ہسپتالوں میں طبی آلات کی فراہمی کا ایک بڑا منصوبہ منظور کیا گیا ہے اور اگلے دو سے تین مہینوں کے اندر ان ہسپتالوں کو تمام ضروری طبی آلات فراہم کردیئے جائیں۔ قبائلی اضلاع میں تباہ شدہ سکولوں کی بحالی پر عملی کام شروع ہو گیا ہے اور ا س سلسلے میں ورک آرڈرز بھی جاری کردیئے گئے ہیں۔ قبائلی اضلاع میں بعض منصوبوں پر عمل درآمد زمین کی خریداری سے جڑے مسائل کی وجہ سے سست روی کا شکار تھے، تاہم اب لینڈ ایکوزیشن ایکٹ میں ضروری ترامیم کرکے یہ مسئلہ حل کردیا گیا ہے جس سے ان منصوبوں پر عمل درآمد میں خاطر خواہ تیزی آئے گی۔ قبائلی نوجوانوں کی تفریح اور کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے ایک مکمل سپورٹس کمپلیکس تعمیر کرنے کے منصوبے پر بھی کام کیا جارہا ہے۔

ہمیں یہاں وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے پر برادرم اجمل وزیر کو مبارک باد بھی پیش کرنی ہے،وہ اسم با مسمیٰ ہیں، وزیر تو وہ پیدائش سے ہی ہیں اور یہ لفظ ان کے نام کا باقاعدہ حصہ ہے لیکن اطلاعات کے شعبے کا سربراہ بننے کے بعد وہ باقاعدہ ہمارے قبیلے میں بھی شامل ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہی سطور میں یہ تحریر کیا گیا تھا کہ برادرم شوکت یوسف زئی کی جگہ وزارت اطلاعات کسی دوسرے کو دی جا رہی ہے، قرعہ فال اجمل وزیر کے نام نکلا کیونکہ وہ پی ٹی آئی کے دونوں ادوار حکومت میں مشیر اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور اسی تجربے کی بنا پر انہیں اطلاعات کا مکمل قلمدان سونپ دیا گیا ہے، انضمام شدہ قبائلی علاقہ جات کے انچارج مشیر کے طور پر بھی وہ اپنی خدمات جاری رکھیں گے تاہم شوکت یوسف زئی محنت اور سیاحت کے صوبائی وزیر کی حیثیت سے کام کریں گے۔ تقریب سے قبل انہوں نے میڈیا سے اپنی پہلی باقاعدہ گفتگو بھی کی جس میں کہا کہ صوبائی حکومت نے کھیلوں کا اچھوتا ایڈیشن منعقد کرایا ہے جس کے لئے ان کھیلوں کو بتدریج بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کو مزید سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، گزشتہ سال 25اضلاع کے کھلاڑیوں نے شرکت کی جبکہ رواں سال34 اضلاع کے کھلاڑی ان کھیلوں میں شریک ہو رہے ہیں۔کھیلوں کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم کو 1300ملین روپے کی لاگت سے بین الاقوامی ضرورتوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، 25کروڑ روپے کی لاگت سے20سکواش کورٹس پشاور میں بنائے جا رہے ہیں تاکہ سکواش کے کھیل کو دوبارہ کھویا ہوا مقام مل سکے۔ سات ڈویڑنل اضلاع میں خواتین کھلاڑیوں کے لئے الگ سپورٹس جمنازیم 70 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے سائیکلنگ ویلوڈرم کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے جو کہ پاکستان میں اپنی طرز کا پہلا منصوبہ ہے۔آئندہ دو سالوں میں حکومت خیبرپختونخوا7.5 ارب روپے کی لاگت سے سات بڑے سپورٹس کمپلیکس اورچھ چھوٹے سپورٹس کمپلیکس بنا رہی ہے جبکہ نئے ٹیلنٹ کی تلاش کے لئے ایک ارب روپے کی لاگت سے تین سالوں میں سپورٹس کے مقابلے منعقد کئے جا رہے ہیں جس کے لئے رواں سال25 کروڑ روپے کی خطیر رقم جاری کی گئی۔

مزید :

ایڈیشن 1 -