مسلم لیگ (ن) کے وفد کی کراچی آمد، ملاقاتیں، ایم کیو ایم اپوزیشن میں نہیں جائے گی!

مسلم لیگ (ن) کے وفد کی کراچی آمد، ملاقاتیں، ایم کیو ایم اپوزیشن میں نہیں ...

  

ڈائری۔ کراچی۔مبشر میر

مسلم لیگ ن کی دوسرے درجے کی قیادت (تمام میڈیا نے اس وفد کو ایسے ہی رپورٹ کیا شاید اس لیے کہ یہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں کرسکتے) جس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وفاقی وزیر چوہدری احسن اقبال نمایاں تھے، کراچی کے دورے پر تھے، ان کے اہداف میں سب سے نمایاں ایم کیو ایم سے ملاقات اور انہیں اپوزیشن میں آنے کی دعوت دینا تھا۔ جہاں تک مجھے ایم کیو ایم کے سیاسی سفر کا اندازہ ہے وہ یہ ہے ک پہلے بھی اور آج بھی اس جماعت سے وابستہ افراد اپوزیشن کی سیاست کو ترجیح نہیں دیتے بلکہ اقتدار میں شامل اپوزیشن بن کے رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ایک اہم عہدیدار نے ایک نجی محفل میں کہا، جسے میں نے براہ راست سنا کہ ہم جماعت اسلامی کی طرز کی سیاست نہیں کرنا چاہتے جو مسلسل اپوزیشن کرتے کرتے کراچی سے اپنا کردار عملاً ختم کروابیٹھی ہے۔ لہذا مسلم لیگ ن کا وفد اگر انہیں اپوزیشن کے طور پر آگے بڑھنے کا مشورہ دینے آیا تھا تو وہ ممکن نہیں تھا۔ تحریک انصاف کو وفاق میں آئندہ چھ ماہ تک تبدیلیئ حکومت کا کوئی خطرہ دکھائی نہیں دیتا۔ صرف اور صرف پاکستان کے حالات ہی پاکستان میں سیاسی تبدیلی کا پیش خیمہ نہیں بن سکتے بلکہ علاقائی حالات اس پر گہرے اثر انداز ہورہے ہیں۔

بھارت اور کشمیر کی موجودہ صورتحال، چین میں کورونا وائرس کا شدید حملہ جس کے نتیجے میں پاک چین کے بہت سے منصوبے رک گئے ہیں، ان میں تجارت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ افغانستان امریکہ معاہدے کے بعد پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کے اندرونی حالات بہت خراب ہیں۔ ایسی صورت میں پاکستان میں کسی بڑی سیاسی ہلچل کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔

وزیراعظم عمران خان نے کراچی کا دورہ کرنا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ملتوی ہوگیا۔ البتہ گرین لائن کے راستے میں بننے والے فلائی اوورز کا افتتاح گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کردیا۔ حیرت کی بات ہے کہ گرین لائن ایک ہی منصوبہ ہے۔ اس کے روٹ پر مختلف فلائی اوورز بنائے گئے ہیں۔ پورے منصوبے کا افتتاح کرنے کی بجائے اس کا پارٹس میں افتتاح کیوں کیا جارہا ہے؟ عوام تو منتظر ہیں کہ گرین اور اورنج لائن منصوبہ جلد از جلد عوام کیلئے کھولا جائے۔ لیکن وفاق، صوبہ اور کراچی میونسپل کارپوریشن کے مل کر کام نہ کرنے سے دشواری ہورہی ہے۔ حقیقت میں یہ منصوبہ تکمیل کے بعد کے ایم سی کے حوالے ہونا چاہیے، اور مختلف کمپنیاں بھی اگر اس پر بسیں چلانا چاہتی ہیں تو ان کو خوش آمدید کہا جائے۔ کراچی کے عوام تینوں سیاسی پارٹیوں کو کریڈٹ دیں گے، لیکن لگتا ہے کہ اس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ ہی کرے گی۔

سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کو شروع کرنے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دے رکھی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی شہر میں ایک بہت بڑا سانحہ ہوگیا، رضویہ گولیمار کے علاقے میں غیر قانونی تعمیر کی گئی تین عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور کم از کم 27 افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ یونیورسٹی پروفیسر اور ان کا پورا خاندان لقمہئ اجل بن گیا۔ وہ غیر قانونی کام جو کراچی کے بلڈرز نے بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی میں مفرور منظور کاکا جیسے لوگوں کے ساتھ کرپشن کرتے ہوئے انجام دیئے، ان کا خمیازہ اب بھگتنا پڑرہا ہے۔ انتہائی ناقص میٹریل سے بنائی گئی عمارات خطرات سے دوچار ہیں۔ سپریم کورٹ ابھی تک کسی کو سزا دیئے بغیر ڈانٹ ڈپٹ سے انہی لوگوں سے کام کروانے کی کوشش کررہا ہے۔ شہر کراچی کے انفراسٹرکچر کو ایک مرتبہ پھر ہدف تنقید بنایا ہے جس کی وجہ سے پورا شہر عذاب میں مبتلا ہے۔ دراصل جو لوگ گذشتہ پچاس برس سے اس شہر کے فیصلے کرتے تھے، ان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان سے پوچھ گچھ بھی ہوگی۔ یہی وجہ کہ غیر قانونی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں، جس کا شکار صوبے کے عام عوام ہوئیہیں۔

نوشہروفیروز سے تعلق رکھنے والے صحافی عزیز میمن کا قتل بھی عدم برداشت اور غیر قانونی کام کرنے والوں کی نشاندہی کرنے کا نتیجہ ہے۔ ابھی تک مظلوم صحافی کے اہل خانہ انصاف کیلئے دہائی دے رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اس کیس کے متعلق بھی متحرک دکھائی نہیں دے رہی۔ جے آئی ٹی بنائی گئی اور پھر بعد میں اس کا سربراہ تبدیل کیا گیا۔ نئے تعینات آئی جی مشتاق مہر صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں ہی کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر رضوان ایس ایس پی کو سیاستدانوں کی رپورٹ بنانے کے واقعہ کے باعث عہدے سے ہٹاد یا ہے جبکہ سابق آئی جی کلیم امام نے انہیں برقرار رکھا تھا۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر پورے ملک میں شوروغل تھا، تمام سیاسی پارٹیوں نے اس تحریک کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی۔ عورت مارچ پورے ملک میں دو طرح کے نظریات کے لوگوں نے کیا لیکن کوئی سیاسی جماعت خواتین کی تنظیموں کو اپنی مرضی سے استعمال نہیں کرسکی۔ سب سے اہم بات جو نظر آ ئی وہ یہ تھی کہ اگر چہ سیاسی رہنماؤں نے عورت مارچ کے حق میں بیانات دیئے۔ چند ایک نے شرکاء کی حیثیت سے شرکت بھی کی لیکن کسی سیاسی رہنما کو اسٹیج پر جگہ نہ مل سکی۔

جماعت اسلامی کے ا میر سراج الحق نے اپنے نقطہ نظر کو فروغ دینے کے لیے کراچی میں ہی خواتین کا جلسہ کیا۔ کراچی مارچ کے شرکاء میں پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضی وہاب اور شرمیلا فاروقی موجود تھے، لیکن اسٹیج تک رسائی میں کامیاب نہ ہوسکے۔ گویا خواتین کی تنظیموں نے اس مارچ کی قیادت اپنے ہاتھ میں رکھی ہے۔ نوجوان خواتین کی اپنے خاندان کی سینئر خواتین کے ہمراہ شرکت بھی خوش آئند تھی، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت کم از کم اس نظریے اور طبقے کی خواتین کے لیے متاثر کن نہیں۔

اس ہفتے کے آغاز سے ہی اسٹاک مارکیٹ ریت کی دیوار کی طرح گر گئی۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے مطابق ملک میں مہنگائی کم ہوجائے گی کیونکہ تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوسکتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ بھی ہورہا ہے، یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ معیشت میں بہتری، سیاست میں بھی بہتری کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -