کورونا وائرس،جنوبی پنجاب کے مریضوں کیلئے ترکی ہسپتال کو مختص کرنے کی اطلاعات!

کورونا وائرس،جنوبی پنجاب کے مریضوں کیلئے ترکی ہسپتال کو مختص کرنے کی ...

  

ملتان سے قسور عباس

چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس عالمی وباء کی شکل اختیار کرتے ہوئے دنیا کے103ممالک میں پھیل کر ایک لاکھ سات ہزار سے زائد افراد کو متاثر کرچکا ہے جبکہ تادم تحریر 3ہزار 6سو 60افراد اس کا شکار ہوکر زندگی کی بازی بھی ہار چکے ہیں،(کراچی میں مزید نو میں علامات ملیں) جوکہ خوش آئند ہے اور حکومت نے وائر س کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے آگاہی مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اس کیلئے بجٹ بھی مختص کردیا ہے اور گورنمنٹ ہسپتالوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کو عملی جامہ پہنایا جارہا ہے،جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے ضلع مظفر گڑھ میں موجود 2010ء کے سیلاب کے بعد اسلامی ملک ترکی کی مدد سے 100بیڈز پر مشتمل بننے والا رجب طیب اردوان المعروف ترکی ہسپتال کو جنوبی پنجاب کے وائرس سے متاثرہ مریضوں کیلئے مختص کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں جس پر ضلع مظفر گڑھ کے عوام تحفظات کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ آخر حکومت پنجاب کو ایسی کونسی مجبوری آن پڑی ہے کہ وہ صحت کی بہتراور معیاری سہولیات فراہم کرنے والے ہسپتال کو کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کیلئے مختص کررہی ہے جبکہ وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتالوں میں موجود وارڈ ز کی آئسولیشن کر کے انہیں کورونا کے مریضوں کیلئے مخصوص کرسکتی تھی جیسا کہ پہلے ڈینگی کے بڑھتے ہوئے مرض کے پیش نظر کیا گیا تھا، دنیا میں جس تیزی سے یہ مرض بڑھ رہا ہے اس کیلئے پیشگی اقدامات بہت ضروری ہیں ہاں اگر واقعی حکومت پنجاب ترکی ہسپتال کی سو بیڈ ز پر مشتمل پرانی عمارت کو کورونا سے متاثرہ افراد کیلئے مخصوص کرچکی ہے تو اس کیلئے کیلئے انہیں سخت حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کیونکہ یہ وہ خطرناک وائرس ہے جو متاثرہ مریض کے سانس لینے سے بھی دوسروں کو لاحق ہوسکتا ہے، حکومت جلد عوامی تحفظات کو دور کرتے ہوئے ان کا اعتماد حاصل کرے تاکہ وہ جو فیصلہ کرچکی ہے اسے پورا کرسکے جبکہ دوسری جانب وزیر اعظم کے معاؤن خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرز ا یہ خوشخبری سنا چکے ہیں کہ درجہ حرارت کے بڑھنے سے کورونا وائرس ختم ہوجائے گا۔اللہ کرے ایسا ہی کیونکہ پاکستان جیسا کمزور معیشت کا حامل ملک جس کے سرکاری ہسپتالوں میں مریض پہلے ہی صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت کو گلے لگانے پر مجبور ہورہے ہیں اس موذی مرض میں مبتلا ہوکر کیسے اپنی زندگی کی بازی جیت پائیں گے۔؟

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دورہ ملتان کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں پولیس کی نگرانی میں مسلمانوں کی املاک کو جلایاگیا، مسیحی برادری پر بھی حملہ ہوا، پرتشددواقعات کونہ روکا گیا تو پورابرصغیر لپیٹ میں آجائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی پارلیمنٹ میں بھارت کی انتہا پسندی پر بات ہوگی،پوری میاں محمد نواز شریف کے حوالے سے کہا، طے ہوا تھا کہ نواز شریف صحت سے متعلق پنجاب حکومت کو آگاہ رکھیں گے،نواز شریف کی جانب سے وعدہ پورا نہ ہونے پر پنجاب حکومت نے خط لکھا ہے، جنو بی پنجاب صوبے کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے گفتگو میں کہاکہ جنوبی پنجاب صوبہ ہمارا خواب ہے،سیکر ٹر یٹ کے صدر مقام پر اتفاق نہیں ہوپایا، کچھ لوگ بہاولپور اور کچھ ملتان میں سیکرٹر یٹ بنوانا چاہتے ہیں، وزیراعظم اگلے ہفتے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ سے متعلق اجلاس بلارہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلے ہفتے وزیر اعظم کے سیکرٹریٹ کے متعلق بلائے گئے اجلاس میں کیا فیصلے ہوتے ہیں اورسیکرٹریٹ کے قیام کیلئے صدر مقام کا اعزاز حاصل کرنے میں ملتان کامیاب ہوتا ہے یا پھر بہاولپور جس کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ادھر جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان نے جامعہ قاسم العلوم میں کہا کہ مسلم لیگ(ق) کو سامنے دکھایا گیا، بات کسی اور کی مانی، وعدے کی پاسداری نہ کی گئی تو نام سامنے لائیں گے، کسی سے ڈرنے والے نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر اپوزیشن آج بھی ایک صف پر آجائے تو بہت کم عرصے میں لوگوں کو حقیقی جمہوریت دے سکتے ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان کا یہ کہنا ہے کہ آزادی مارچ میں مسلم لیگ (ق)کو سامنے دکھایا گیا بات کسی اور کی مانی،وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو نام سامنے لائیں گے کا بیانیہ سیاسی حلقوں میں گردش کررہا ہے کہ آخر وہ کون تھے جن کی بات مانتے ہوئے مولانا صاحب نے اپنا آزادی مارچ ختم کرتے ہوئے کارکنان کو واپس لوٹ جانے کا کہا تھا۔اس کے بارے میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن ہی بہتر طور پر بتا پائیں گے۔

ایک کہاؤت ہے کہ جب محافظ ہی لٹیرے بن جائیں تو پھر تباہی و بربادی کو کوئی بھی نہیں روک پاتاکچھ اسی طرح کا واقعہ اتوار کی شام چوک قذافی کے قریب واقع نجی بینک میں ہوا ڈیوٹی پر موجود نجی سیکیورٹی کمپنی کے گارڈواجد اور اس کے دو ساتھیوں نے شام کی ڈیوٹی پر آنے والے ساتھی گارڈ نواز کو اسے رسیوں سے باندھ کر واش روم میں بند کر دیا ملزمان گیس کٹر اور دیگر آلات کی مدد سے سونے سے بھرے لاکرز کو کاٹ کر بھاری مقدار میں شہریوں کا سونا لوٹ کر فرار ہوگئے۔ 66 لاکرز میں سے 39 لاکرز کا سونا لوٹا گیااور واجد نامی سیکورٹی گارڈ نجی سیکورٹی کمپنی کا ملازم تھا اور گزشتہ15 روز سے بینک میں ڈیوٹی کررہا تھا جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بنک سے چار کروڑ روپے مالیت کا سونا لوٹا گیا ہے۔ملتان کے نجی بنک میں سیکورٹی گارڈ ز کی سونے کی ڈکیتی کے واقعہ نے صارفین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -