لاہور اور کراچی میں 60کے قریب فلموں کی تیاری خوش آئند، فنکار

    لاہور اور کراچی میں 60کے قریب فلموں کی تیاری خوش آئند، فنکار

  

لاہور(فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ ان دنوں لاہور اور کراچی میں 60کے قریب فلمیں زیر تکمیل ہیں۔جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔سال رواں میں 50فلمیں عام نمائش کیلئے پیش کی جانے کی توقع ہے۔لاہور میں درجن بھر پنجابی فلموں کی دن رات شوٹنگ جاری ہے۔ان فلموں کی شوٹنگ کی وجہ سے بہت سارے تکنیک کاروں کو کام مل رہا ہے اور ایک بار پھر ان کے گھروں کے چولہے جلنا شروع ہوگئے ہیں۔پاکستانی فلموں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا تو نتائج سب کے سامنے ہیں، جس سے ثابت ہوگیا کہ فلم بینوں کو ایک ایسی فلم پسند آتی ہے جس کی کہانی جاندار، میوزک شاندار اور جدت کے انداز منفرد ہوں شوبز شخصیات نے کہا کہ کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایک شخص جو اپنی فیملی کے ساتھ ٹکٹ خرید کر سینما گھر میں بیٹھتا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھتا ہے کہ اس نے دو سے تین گھنٹے میں بہترین تفریح حاصل کرنی ہے اور اپنے اداس چہروں پر مسکراہٹ لے کر باہر نکلنا ہے، جب اسے وہ رزلٹ ملتا ہے تو وہ بار بار سینما گھروں کا رخ کرتا ہے ۔شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیممایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خرم شیراز ریاض،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم،نیلم منیر خان اور نجیبہ بی جی نے کہا کہ عید الفطر کے موقع پر لگنے والی پاکستانی فلموں کو شائقین نے پسند کیا اور اب وہی لوگ بار بار سینما گھروں میں نظر آرہے ہیں جس کو کامیابی کے جانب پاکستانی فلم کا پہلا قدم قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

بالی ووڈ میں اپنی فلم کو کامیاب بنانے کے لئے جس طرح تشہیری مہم پر پیسہ خرچ کیا جاتا اور فنکار وقت نکالتے ہیں اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہوتا ہے کہ ہر کوئی فلم کی ریلیز کا شدت سے انتظار کرتا ہے اور جب وہ فلم مارکیٹ میں آتی ہے تو پھر سینما گھروں میں ٹکٹ لینا مشکل عمل بن جاتا ہے۔ ہمیں بھی اپنی ڈائریکشن کو درست سمت میں آگے بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ اسی میں پاکستانی فلم، سینما اور فنکاروں کا مستقبل محفوظ ہے۔شوبز شخصیات نیکہا ہے کہ صرف عید کے تہواروں پر فلمیں ریلیز کرنے سے فلم انڈسٹری کی ترقی اور اس کے عروج کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔

مزید :

کلچر -