ٹریفک ہیڈ کوارٹرز پشاور میں خصوصی دربار کا انعقاد

      ٹریفک ہیڈ کوارٹرز پشاور میں خصوصی دربار کا انعقاد

  

پشاور(کرائمز رپورٹر) کیپٹل سٹی پولیس آفیسر محمد علی گنڈا پور کی سربراہی میں گزشتہ روز ٹریفک ہیڈ کوارٹرز پشاور میں خصوصی دربار کا انعقاد کیا گیا، اس موقع پر ایس ایس پی ٹریفک وسیم احمد خلیل سمیت دیگر ٹریفک پولیس افسران وجوانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی،ٹریفک ہیڈ کوارٹرز میں دربار کا مقصدپولیس افسران و جوانوں کے مسائل سے آگاہی حاصل کرکے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا تھا جس میں ٹریفک پولیس اہلکاروں نے عرض و معروض سمیت ان کو درپیش مختلف مسائل کی بھی نشاندہی کی،سی سی پی او محمد علی گنڈا پور نے دربار کے دوران پیش کئے گئے مطالبات و تجاویز کے متعلق موقع پر ہی خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کے دوران واضح کیا کہ پولیس اہلکاروں کے مسائل حل کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دربار کا مقصد جوانوں کے مسائل سے آگاہی سمیت ان سے رابطے میں رہنا ہے، انہوں نے شہر میں جاری منصوبے بی آر ٹی کے دوران ٹریفک مسائل پر قابو پانے اورگرد و غبار و آلودگی کوبالائے طاق رکھتے ہوئے کنٹرول مسائل کو حل کرنے پر ٹریفک پولیس اہلکاروں کو خصوصی طور پر داد تحسین سے نوازا، سی سی پی او نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کی جانشفانی اور فرائض کی ادائیگی کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا کہ ٹریفک پولیس اہلکار پہلے سلام پھر کلام کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہیں جس کی زندہ مثال شہید سب انسپکٹر اجمیر شاہ کی شہادت ہے جنہوں تھانہ بھانہ ماڑی کی حدو د میں ڈکیتی کی کوشش ناکام بنانے کی خاطر جان کی قربانی دی، دربار کے دوران ایس ایس پی ٹریفک وسیم احمد خلیل نے سی سی پی او محمد علی گنڈا پور کو ٹریفک پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جس پر سی سی پی او نے ٹریفک پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مزید بہتری کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی، انہوں نے نادرن بائی پاس سمیت شہر کے دیگر شاہراہوں پر ون ویلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاون کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کریک ڈاون میں مزید تیزی لانے کی ہدایت کرنے سمیت ٹریفک ایجوکیشن کو مزید توسیع دیتے ہوئے ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر باہمی اشتراک سے کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -