قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے ہماری حکومت اور قیادت مخلص اور پر عزم ہے: محمود خان

قبائلی اضلاع کی ترقی کیلئے ہماری حکومت اور قیادت مخلص اور پر عزم ہے: محمود ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت قبائلی اضلاع کے عمائدین کا مشاورتی جرگہ منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ جرگے میں ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور وہاں پر عوامی مسائل کے فوری حل کے لئے آئندہ کی حکمت عملی اور دیر پا ترقی پر سیر حاصل مشاورت ہوئی۔ جرگے میں ضم شدہ اضلاع سے منتخب ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، سنیٹرز اور قبائلی مشران کے عمائدین، صوبائی وزراء،ا علیٰ سرکاری حکام اور سینئر صحافیوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لئے دس سالہ ترقیاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ عمائدین کو تیز رفتار ترقیاتی پروگرام اور معمول کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کر دیا گیا۔ بریفینگ کے دوران بتایا گیا کہ دس سالہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ضم شدہ قبائلی اضلاع میں 1325 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔ قبائلی اضلاع کے تمام منصوبے قبائلی عوام کی باہمی مشاورت سے شروع کئے جائیں گے۔ ضم شدہ اضلاع کی تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کے لیے علاقے کے منتخب نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں، اور ان منصوبوں پر عملدرآمد کی نگرانی کے لئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے۔مزید بتایا گیا کہ صحت انصاف کارڈ سکیم کے تحت قبائلی اضلاع کے 12 لاکھ افراد کو علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ انصاف روزگار سکیم کے تحت ضم شدہ اضلاع کے لئے 1.1 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔جرگے کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 22 ہزار لیوی اہلکاروں کو باقاعدہ طور پر پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ 8 ہزار لیوی اہلکاروں کو بہت جلد پولیس میں ضم کر دیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں میں کمی اور خامیوں کو دور کرنے کے لئے 3 ارب 86 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں۔ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے ہسپتالوں کو ضروری سہولیات کی فراہمی کے لئے 2 ارب 60 کروڑ روپے بھی منظور کئے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے میں قبائلی اضلاع کے لئے 2 ہزار 333 نئی آسامیاں بھی منظور کی گئی ہیں جبکہ تعلیم کے شعبے کے لئے 5 ہزار 500 نئی آسامیاں منظور کی گئی ہیں۔ ان تمام نئی آسامیوں پر بھرتیوں کا عمل جون 2020 تک مکمل کیا جائے گا۔ قبائلی اضلاع کے ہونہار طلباء کو سکالرشپ دینے کے لئے 75 کروڑ سے زائد کا فنڈ رکھا گیا ہے جبکہ ضم شدہ اضلاع میں بجلی کی فراہمی کے مختلف منصوبوں کے لئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ضم شدہ اضلاع کے تمام گرڈ اسٹیشنز کو 66 کے وی سے 132 کے وی تک اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عمائدین کی طرف سے اٹھائے گئے تمام معاملات کے حل کے لئے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔اُنہوں نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے سارے ترقیاتی منصوبے قبائلی عوام کی مشاورت سے مکمل کئے جائیں گے اور اس سلسلے میں قبائلی عوام کیساتھ رابطہ مہم مزید تیز کیا جائیگا، جبکہ قبائلی عوام کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا۔محمود خان نے کہاکہ قبائلی اضلاع کے منظور کردہ تمام آسامیوں پر مقامی افراد کو بھرتی کیا جائے گا۔ اپنے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے کہاکہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے ہماری قیادت اور حکومت مخلص اور پر عزم ہے۔ قبائلی عوام کی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کام کریں گے۔ اُنہوں نے کہاکہ پہلے پولیٹکل ایجنٹ قبائلی علاقوں کے بادشاہ ہوتے تھے اب ڈپٹی کمشنرز قبائلی عوام کے خادم ہیں اور عوام کی حقیقی خدمت کررہے ہیں۔محمود خان نے کہاکہ قبائلی عوام منفی پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں۔ہم نے قبائلی اضلاع میں تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنا ہے اور قبائلی بچوں کے ہاتھ میں بندوق کی بجائے قلم کتاب دینا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ خطے میں امن کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے کیونکہ امن ہی کسی علاقے کی ترقی کا ضامن ہو تا ہے۔ اس موقع قبائلی عمائدین نے ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور مسائل کے حل میں ذاتی دلچسپی لینے پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان کے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاہے کہ جتنے ترقیاتی فنڈز اس دور حکومت میں قبائلی اضلاع کے لئے دیئے جا رہے اتنے فنڈز پوری تاریخ میں نہیں دیے گئے۔ عمائدین نے اپنے اپنے علاقوں میں لوگوں کو درپیش اجتماعی نوعیت کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -