جعلی اکاﺅنٹس کیس،اسلام آبادہائیکورٹ نے شرجیل میمن کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست منظور کرلی

جعلی اکاﺅنٹس کیس،اسلام آبادہائیکورٹ نے شرجیل میمن کی ضمانت قبل ازگرفتاری ...
جعلی اکاﺅنٹس کیس،اسلام آبادہائیکورٹ نے شرجیل میمن کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست منظور کرلی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے جعلی اکاﺅنٹس کیس میں شرجیل میمن کی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواست منظور کرلی ،عدالت نے نیب کو شرجیل میمن کی گرفتاری سے روک دیا

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں شرجیل میمن کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت ہوئی،چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی،عدالت نے استفسار کیاکہ ملزم کی طرف سے تفتیش میں تعاون ہو تو گرفتاری کیوں چاہیے؟،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب ملزم کی تضحیک کیوں کرنا چاہتا ہے؟ ۔

عدالت نے کہا کہ بہت سے کیسزمیں سامنے آیاہے کہ افسرجاکرتفتیش نہیں کرتا،نیب مکمل تفتیش کرے اورملزم کوعدالت سے سزادلوائے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نیب نے ملزم کوگرفتارکرکے اس کی تضحیک لازمی کرنی ہے،چیف جسٹس ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ شرجیل میمن کے خلاف اس کیس کی تفتیش کب شروع ہوئی؟یہ نہ بتائیں کہ نیب اسلام آبادیانیب کراچی،نیب نیب ہے، نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ 2016میں انکوائری کا حکم ہوا، 2017میں انوسٹی گیشن میں تبدیل ہوئی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ جب دوسرے کیس کی انوسٹی گیشن 2017میں ہو رہی تھی تو تفتیش کیوں نہیں کی گئی؟،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ کیا تفتیشی افسر نااہل ہیں؟ ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے،کسی کو تو ذمہ لینا ہے نیب ہیڈکوارٹرز کو نااہل تفتیشی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ نیب ملزم کو اس لیے گرفتار کرنا چاہتا ہے کہ وہ اعتراف کر لے،عدالت نے کہا کہ نیب 2016 سے انکوائری لے کر بیٹھا ہے اور اب نیب کو اچانک خیال آ گیا کہ انہیں گرفتار کرنا ہے۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہاکہ فروری 2019 میں شرجیل میمن کے خلاف نئی انکوائری کا آغاز ہوا،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیانیب یہ انتظار کر رہا تھا کہ شرجیل میمن کو ضمانت مل جائے پھر تفتیش کریں گے،اگر شرجیل میمن کی ضمانت نہ ہوتی تو نیب ان سے انکوائری نہ کرتا۔

عدالت نے کہاکہ کیاتفتیشی افسر نے شرجیل میمن اور ان کے بچوں کے اثاثوں کا ریکارڈ ایف بی آر سے لے لیا ہے،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ ایک اچھے تفتیشی کا تو یہ کام ہے کہ پہلے ملزم کا مکمل ریکارڈ لے، نیب کا تفتیش کا طریقہ نیب کے رویے پر سوالات اٹھا رہا ہے،نیب کے تفتیشی یہ چاہتے ہیں کہ وہ خود کچھ نہ کریں اور ملزم خود آ کر انہیں سب کچھ بتائے۔عدالت نے شرجیل میمن کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی اور نیب کو گرفتاری سے روک دیا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -