اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد کیا حالات ہیں؟ انتہائی تشویشناک معلومات سامنے آگئیں

اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد کیا حالات ہیں؟ انتہائی تشویشناک معلومات ...
اٹلی میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد کیا حالات ہیں؟ انتہائی تشویشناک معلومات سامنے آگئیں

  

روم(مانیٹرنگ ڈیسک) چین سے پھیلنے والا کورونا وائرس دنیا کے 105سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ چین کے بعد اس وباءسے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں اٹلی بھی شامل ہے جہاں یہ وائرس انتہائی سرعت سے پھیل رہا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق اٹلی میں وائرس کے مریضوں کی تعداد10ہزار 149تک پہنچ گئی ہے اور اب تک اس کے سبب 631افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اطالوی حکومت وباءکے پھیلاﺅ کو روکنے کے لیے انتہائی کڑے اقدامات کر رہی ہے۔ اس وائرس سے اٹلی کا شمالی علاقہ زیادہ متاثر ہے۔ حکومت نے 6کروڑ آبادی پر مشتمل اس علاقے کو سیل کر دیا ہے اور باقی ملک سے اس کا رابطہ کاٹ دیا ہے۔ یہ علاقہ اٹلی کا امیر ترین علاقہ ہے اور ملک کا معاشی حب ہے جس کا رابطہ منقطع کرنا انتہائی مشکل فیصلہ تھا، کیونکہ اس سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اٹلی میں لوگوں کے ایک دوسرے سے کم از کم 3فٹ کا فاصلہ رکھنے کی پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

اس پابندی کی وجہ سے مارکیٹوں اور دیگر ایسے مقامات پر لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں کیونکہ لوگ ایک دوسرے کے قریب کھڑے نہیں ہو سکتے۔ اٹلی کے سیاحتی مقامات سنسان ہو چکے ہیں اور میلن اور روم وغیرہ کی آرٹ گیلریز اور دیگر تفریحی مقامات جو لوگوں سے کھچاکھچ بھرے ہوتے تھے، اب خالی پڑے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ہر اس شخص کو گھر میں رہنے کا بھی حکم دے دیا گیا ہے جسے عام قسم کا بخار بھی ہو۔ ایمرجنسی کے علاوہ ہر قسم کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی ہے، حتیٰ کہ شادیوں اور کسی مرنے والے کی تدفین کے لیے بھی لوگوں کو جمع ہونے سے روک دیا گیا ہے۔گزشتہ روز روم میں ایک آدمی کی موت پر لوگوں جمع ہو گئے اور اس قانون کی خلاف ورزی کر ڈالی جس پر ان تمام لوگوں کو بھاری جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی لوگوں کو ایک دوسرے سے فاصلہ رکھنے کو کہا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہر تین مسافروں والی سیٹ پر صرف ایک شخص بیٹھا ہوتا ہے۔ شہروں میں پولیس مسلسل گشت کر رہی ہے اور ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہی ہے۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ان لوگوں کو بیڈ مہیا کرنے میں مریضوں کی عمر اور ان کے بچنے کے امکانات کو مدنظر رکھیں۔ ملک میں وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اس ہوشربا شرح سے اضافہ ہو رہا ہے کہ ڈاکٹروں کو خود بھی زندگی یا موت کے فیصلے کرنے پڑرہے ہیں کہ کس مریض کو انتہائی نگہداشت میں علاج کی سہولت دی جائے گی اور کس کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔

مزید :

بین الاقوامی -