کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین کا اصل ہتھیار

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین کا اصل ہتھیار
کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں چین کا اصل ہتھیار

  



لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) پوری دنیا میں کورونا وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن چینی حکومت نے اس وائرس کے انسداد میں حیران کن کامیابی حاصل کی ہے اور اب وہاں نئے مریض سامنے آنے کی شرح انتہائی کم رہ گئی ہے۔ چین جہاں سے یہ وائرس پھیلا تھا، آخر اس نے ایسا کون سا حربہ استعمال کیا کہ اس وباءپر قابو پا لیا؟ اس حوالے سے ایک برطانوی ماہر نے حیران کن انکشاف کر دیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق امریکہ کی ییل یونیورسٹی کے پروفیسر نکولس اے کرسٹکس نے بتایا ہے کہ ”سماجی ایٹمی ہتھیار (Social Nuclear weapon)وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعے چینی حکومت کورونا وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوئی۔چین کی آمرانہ طرز کی حکومت نے کچھ ایسے کڑے اقدامات اٹھائے، جن پر عمل کرنا مغرب کے جمہوری ممالک کے لیے انتہائی مشکل ہے۔چینی حکومت نے وباءپھیلنے کے بعد فوری طور پر متاثرہ شہروں اور علاقوں کو سیل کر دیا اور اس پر اس سختی سے عمل کروایا کہ جمہوری ممالک شاید ایسا نہ کروا پائیں۔ جس طرح چین نے 93کروڑ آبادی کے حامل صوبوں میں لوگوں کی نقل و حمل کو کنٹرول کیا،ایسا کرنا مغربی و یورپی ممالک کے لیے آسان نہیں ہے۔“

پروفیسر نکولس کا کہنا تھا کہ ”بازار اور مارکیٹیں تو ایک طرف، چینی حکومت نے رہائشی عمارتوں کی لفٹس میں بھی پیلی ٹیپ لگا کر چار خانے بنا رکھے ہیں اور لوگوں کو پابند کر رکھا ہے کہ ایک وقت میں صرف 4لوگ لفٹ میں سوار ہوں گے اور ایک ایک خانے میں ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑے ہوں گے۔اس کے ساتھ لفٹس میں نوٹ چسپاں کیے گئے ہیں جن پر چینی زبان میں تحریر کیا گیا ہے کہ ”آئیں ہم اس مشکل وقت میں متحد ہو کر وائرس کے خلاف جنگ لڑیں۔“

چین ایک منفرد اجتماعیت پسند ثقافت کا حامل ملک ہے اور اس اجتماعی ثقافت نے بھی ان اقدامات پر عملدرآمد کرانے میں چینی حکومت کی بہت مدد کی ہے۔ کمیونٹی کی سطح پر لوگوں کو تنہاءکرنا چینی حکومت کی کامیابی کا راز ہے اور اس میں چینی شہریوں کا بہت بڑا اور اہم کردار ہے۔ حکومت اور چینی میڈیا کی طرف سے لوگوں کو تنہاءکرنے کے اس عمل کو ’کلوزڈ آف مینجمنٹ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔اس عمل میں مختلف کمیونٹیز میں داخل ہونے والے لوگوں کے جسم کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے۔ گاڑیوں وغیرہ کو سپرے کرکے ان سے وائرس کا خاتمہ کیا جاتا ہے، اشیائے خورونوش کے لیے گھر سے نکلنے کی اجازت محدود افراد کو دی جاتی ہے اور اس تعداد کا انحصار گھر میں موجود افراد کی تعداد پر ہوتا ہے۔“

پروفیسر نکولس کا کہنا تھا کہ ”میرے خیال میں چین نے 23جنوری کو ہی کورونا وائرس کے خلاف جنگ جیت لی تھی جب اس نے 93کروڑ کی آبادی کو سیل کر دیا تھا اور اس آبادی کے اندر ایک ایک کمیونٹی میں لوگوں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی۔“

مزید : برطانیہ