چہرے اور نظام

چہرے اور نظام
چہرے اور نظام

  

ہر مرتبہ سینٹ کے الیکشن میں مافیا متحرک ہوجاتا ہے اور پورے نظام کی دھجیاں بکھیرکر رکھ دیتا ہے۔ درحقیقت مسئلہ یہاں کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ احساس ذمہ داری کا ہے پاکستان کا سیاسی و جمہوری نظام پوری دنیا میں مذاق بن کر رہ گیا ہے،حکومت نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح سے اوپن ووٹنگ ہو،لیکن اس کے لئے آئینی ترمیم ضروری تھی جو نہ ہو سکی۔پی ڈی ایم کسی فاختہ کا نہیں بلکہ ایک مضبوط طاقتور سیاسی اتحاد کا نام ہے جو حالات کا دھارا کسی بھی طرف موڑ سکتا ہے۔ حکومت کو اپوزیشن کی اہمیت و افادیت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اس سارے عمل میں جہاں حکومت کو ایک زبردست دھچکا لگا وہاں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو چکا ہو گا کہ حکومت کرنے اور تنقید کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پی ٹی آئی نے جیسا بیج بویا وہ ویسی ہی فصل کاٹ رہی ہے پی ڈی ایم کا یہ رویہ فطری ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی حکومتوں میں جیسی اپوزیشن برداشت کی ویسی ہی اپوزیشن وہ پیش کر رہے ہیں۔ چند روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیو منظر عام پر آئی جس میں ملک کے سابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈرز پر تشدد اور جوتے اچھالے گئے جو میری نظر میں انتہائی قابل مذمت و افسوس ناک ہے اختلاف رائے اپنی جگہ مگر سیاسی و جمہوری اقتدار میں اخلاقی رویوں کی ترویج انتہائی اہم عنصر ہے حکومت کو اس پر سخت نوٹس لینا چاہئے اور ان افراد کو نشان عبرت بنانا چاہیے جو اخلاقیات سے اس حد تک گر چکے ہیں۔

حکومت کو چاہیے ایسا نظام لائیں جو عوام کو ووٹ کے ذریعے طاقت دے جمہوری رویوں کو پروان چڑھائے، کرپشن  بند کرے اور حقیقی عوامی نمائندوں کو ایوان میں لائے کیونکہ اگر اس طرح نہ کیا گیا اور بداخلاقی اور منفی رویے کو حکومتی سطح پر نہ روکا گیا تو اس کے اثرات بہت دور تک جائیں گے۔ شاید اب وقت آ چکا ہے کہ  چہروں کی بجائے نظام کو بدلا جائے، اخلاقیات کا پرچار کیا جائے اور اپوزیشن کرنے کے بھی قواعد و ضوابط طے کیے جائیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -