”شفاف الیکشن، سسٹم مضبوط“ سیاسی جماعتیں ملکر پارلیمانی نظام کو مستحکم بنائیں: علی محمد خان 

”شفاف الیکشن، سسٹم مضبوط“ سیاسی جماعتیں ملکر پارلیمانی نظام کو مستحکم ...

  

اسلام آباد (آئی این پی)قومی اسمبلی کی پارلیمنٹری کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر پارلیمانی نظام کو مستحکم بنائیں صاف شفاف الیکشن سے نظام مضبوط ہو گا کمیٹی نے "انتخابات(ترمیمی)بل، 2020پر غور کیا۔رکن کمیٹی چوہدری محمود بشیر ورک نے بل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بل وزیر اعظم کے مشیر کاہے جو وزیر قانون نہیں ان کو بل کے مسودے پر دستخط کرنے کے مجاز نہیں کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں وزیر قانون، مشیر وزیر اعظم اور الیکشن کمیشن کے حکام کو طلب کر لیا۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی کی پارلیمنٹری کمیٹی کا اجلاس چئیرمین کمیٹی مجاہد علی کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں "انتخابات (ترمیمی)بل، 2020پر غور کیاگیا اجلاس میں الیکٹرانک بل 2020کی مخالفت کرتے ہوئے رکن کمیٹی بشیر محمود ورک نے کہا بل پر مشیر وزیر اعظم بابر اعوان کے دستخط ہیں جو وزیر قانون نہیں وہ مجاز نہیں کہ بل پیش کریں انہوں نے کہاکہ ان کے پاس بل منتقل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کے طریقہ کار اور کاروباری طرز عمل کے قواعد میں بیان کردہ صرف وزیر ہی حکومتی بل کو منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کے سامنے اپنی تحریری تحریر بھی پیش کی ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی گئی ہے کہ وزیر قانون و انصاف اور موور کو آئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے تاکہ کمیٹی کو مذکورہ معاملے کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ فیصلہ کرنے کے لئے تمام فریقین کے نمائندوں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی کو اس معاملے کو بھیجنا زیادہ مناسب ہوگا۔ وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ یہ معاملہ ان کے پاس آیا تھا کہ اس مسئلے پر نئی پارلیمانی کمیٹی بنائی جا سکتی ہے مگر حتمی فیصلہ اسی کمیٹی نے کرنا ہے اگر کمیٹی چاہے تو وہ معاملہ ذاتی طور پر اسپیکر اسمبلی کے پاس لے جانے کو تیار ہیں۔کمیٹی نے بل کے ایجنڈے پر بریفنگ اگلے اجلاس تک موخر کردی۔اجلاس میں رکن کمیٹی جنید اکبر نے انتخابات (ترمیمی)بل، 2020پر غور کیا۔"بل میں تجویز کیا گیاجو پارٹی الیکشن میں ایک فی صد ووٹ لے اسے الیکشن میں نشان نہ الاٹ کیا جائے ،تفصیلی غور و خوض کے بعدکمیٹی کی متفقہ رائے تھی کہ اس بل کو منظور نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ آئین میں درج بنیادی حقوق کی سراسر نفی ہے کمیٹی کی رائے پر محرک نے نے بل واپس لے لیا۔

پارلیمانی کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -