چیئر مین سینیٹ، ازبک وزیر خارجہ کی تفصیلی ملاقات”کوئی بھوکا نہ سوئے“ پروگرام کا افتتاح، 3کروڑ خاندانوں کو مالی معاونت دینگے: وزیراعظم

    چیئر مین سینیٹ، ازبک وزیر خارجہ کی تفصیلی ملاقات”کوئی بھوکا نہ سوئے“ ...

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے وزیراعظم عمران خان کو امیدوار کی نامزدگی کا اختیار دیدیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی اتحادی جماعتوں کی قیادت سے مشاورت میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنما شریک نہ ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے جی ڈی اے کی قیادت سے ٹیلیفون پر مشاورت کی۔ اتحادیوں نے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھرپور انداز سے لڑنے کا عزم کیا۔اتحادیوں کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان ڈپٹی چیئرمین کیلئے جس کو بھی نامزد کریں گے، فیصلہ قبول ہوگا۔ ادھر ذرائع کا بتانا ہے کہ وزیراعظم کا ڈپٹی چیئرمین سینیٹ خیبر پختونخوا سے لانے پر زور ہے اور تحریک انصاف کے مرزا آفریدی ہاٹ فیورٹ امیدوار ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے مرزا آفریدی کے نام پر اتحادیوں سے مشاورت کی ہدایت کر دی ہے جبکہ فیصل جاوید، اعجاز چوہدری اور ولید اقبال بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ حکومتی ذرائع کا بتانا ہے کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے ایسا امیدوار ہو گا جو اتحادیوں سے بھی ووٹ لے سکے۔دوسری جانب عمران خان سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی جس میں مختلف امور زیر غور آئے۔وزیراعظم نے سنجرانی پراعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب اتحادی اورحکومت آپ کیساتھ کھڑی ہے، پرامید ہوں انشااللہ آپ کامیاب ہوں گے۔عمران خان سے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے بھی ملاقات کی۔ا س موقع پرفواد چوہدری بھی شریک تھے۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان سے ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبد العزیز کاملوف نے بھی ملاقات کی،جس میں افغان مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعے پر امن حل ضروری ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور اقتصادی ترقی دیرینہ تنازعات کے پرامن حل سے ہی ممکن ہے،پاکستان ازبکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دیگا،پاکستانی بندرگاہیں وسطی ایشیائی ممالک کے لئے سمندری تجارت کا مختصر ترین راستہ ہیں۔ جمہوریہ ازبکستان کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم کے لئے صدر شوکت مرزیوف کی طرف سے نیک خوہشات کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں پاکستان کے دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے بیجنگ اور بشکیک میں صدر میرزیوف کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر تے ہوئے ازبکستان کے صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک کے مابین تاریخی اور تہذیبی روابط کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کووسعت دینے کا خواہش مند ہے۔ملاقات میں ازبکستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر کاملوف نے صدر میرزیوف کا خط وزیر اعظم عمران خان کو پیش کیاجس میں انہیں جولائی 2021 میں تاشقند میں ہونے والی وسطی ایشیا۔ جنوبی ایشیا رابطہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی جس وزیر اعظم عمران خان نے اس دعوت پر ا ن کا شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم 

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت 3کروڑ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی، کسانوں کے لیے بھی براہ راست سبسڈی کا پروگرام لا رہے ہیں۔ بدھ کووزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد پناہ گاہ کا دورہ کر کے کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا آغاز کر دیا۔انہوں نے مزدوروں کے لیے قائم پناہ گاہوں کو نعمت قرار دیتے ہوئے کہا پناہ گاہیں اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام فلاحی ریاست کا آغاز ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا 3 کروڑ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی کا آغاز جون سے ہوگا، 3 کروڑ خاندانوں کا مطلب آدھی سے زائد آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔انھوں نے کہا ملک میں کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں لوگوں کو 2 وقت کا کھانا نہیں ملتا، جہاں سب سے زیادہ بھوک ہے وہاں کھانا فراہم کیا جائے گا، کھانا فراہم کرنیوالے موبائل ٹرک پورے پاکستان میں جائینگے، پاکستان میں جہاں جہاں غریب ہیں وہاں یہ موبائل ٹرک جائیں گے۔وزیر اعظم نے کہا پناہ گاہیں ان علاقوں میں ہونگی جہاں مزدور ہوں، بہت سارے مخیر حضرات اس پروگرام میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں، کے پی، پنجاب اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈ بھی جاری ہوں گے، جس سے عوام کسی بھی اسپتال سے 10لاکھ روپے کا علاج کرا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پناہ گاہیں اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام فلاحی ریاست کا آغاز ہے، ماضی میں اس طرح کا کوئی پروگرام نہیں لایا گیا، احساس پروگرام کی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ پناہ گاہیں محنت کش لوگوں کیلئے بنائی گئی ہیں، جہاں وہ باعزت طریقے سے کھانا کھا سکتے ہیں۔علاوہ ازیں عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس ہوا۔جس میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی اور اجلاس کو بتایا گیا کہ ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن کے منظور شدہ اور زیر غور منصوبوں کی کل معاشی سرگرمی کا حجم 2.07 ٹریلین روپے ہے۔ 17 اپریل 2020 سے اب تک ہاؤسنگ اینڈ کنسٹرکشن کے کل 307 منصوبوں  جس میں 39.83 ملین مربع فٹ پر تعمیرات شامل ہیں کی منظوری دی جا چکی ہے۔مزید 64.12 ملین مربع فٹ رقبے پر تعمیر کے 526 منصوبوں کی منظوری کا عمل زیر غور ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے 9.1 ملین مربع فٹ کے 33 منصوبوں کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ 40.8 ملین مربع فٹ کے 269 منصوبے منظوریوں کے منتظر ہیں۔وزیرِ اعظم نے سندھ میں منظوریوں  کے عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمی کا براہ راست فائدہ سندھ کی عوام اور صوبے کو ہوگا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عرصہ دراز سے منظوریوں کی وجہ سے التوا کا شکار ہونے والے تعمیراتی منصوبوں  کے تمام کیسز نیب کو بھیجے جائیں گے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور  جان بوجھ کر تاخیر کرنیوالے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کی جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بے گھر افراد کو اپنی چھت حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ذاتی چھت ہر غریب اور کم آمدنی والے فرد کا حق ہے اور حکومت اس حق کی فراہمی میں  ہر طرح سے سہولت پہنچانے کے لئے پر عزم ہیچئیرمین سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت میں کم آمدنی والے افراد کے لئے شروع کیے جانیوالے منصوبوں کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی۔دریں اثناء وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت راوی اربن سٹی منصوبے اور سنٹرل بزنس ڈویلپمنٹ منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم کو راوی سٹی منصوبے پر اب تک کی پیشرفت پر  بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم نے راوی سٹی اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں منصوبوں کے نتیجے میں جہاں اربوں روپے کی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی وہاں لاہور شہر کے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ دونوں منصوبوں میں ماحولیات کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے اور منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

عمران خان 

مزید :

صفحہ اول -