وزیراعلٰی محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے ضم اضلاع کا اجلاس

    وزیراعلٰی محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے ضم اضلاع کا ...

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے ضم اضلاع کا اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہواجس میں ضلع مہمند میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، انضمام سے متعلق اُمور، انتظامی معاملات اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع مہمند میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مجموعی طو رپر 45 ارب روپے کی لاگت کے منصوبوں پر کام جاری ہے، تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت ضلع کیلئے21 ارب روپے جبکہ صوبائی اے ڈی پی کے تحت ضلع کیلئے 19 ارب روپے کی مالیت کے منصوبے شامل کئے گئے ہیں، سالانہ ترقیاتی پروگرام میں دیگر ضم اضلاع کی طرح ضلع مہمند میں بھی تعلیم، صحت، آبنوشی، زراعت، مواصلات کے شعبوں اور روزگار کے مواقع کو ترجیح دی گئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پاک فوج کی زیر نگرانی ضلع مہمند میں مستقل تعمیر نو کے پانچ منصوبے مکمل کئے گئے ہیں، جن میں غلنئی۔مامد گٹ روڈ، جھنڈا۔ ڈب روڈ، کیڈٹ کالج مامد گٹ، مہمند ماڈل سکول اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال مامد گٹ شامل ہیں۔ اسی طرح پاک فوج کی زیر نگرانی ضلع میں فوری بحالی کے 86 منصوبے مکمل کئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر اکبر ایوب، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کامران بنگش، کورکمانڈر پشاورلیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،انسپکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی، انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور (نارتھ) میجر جنرل عادل یامین، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادراور متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز کے علاوہ دیگر اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ضلع مہمند کے تعلیم اور صحت کے اداروں میں ناپید سہولیات کی فراہمی کا عمل رواں سال جون تک مکمل کرنے جبکہ گرلز ڈگری کالج چندہ بازار سمیت دیگر ضم اضلاع میں مکمل شدہ تعلیمی اداروں میں آئندہ سیشن سے کلاسز کا اجراء یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ضلع مہمند میں موجود معدنی ذخائر سے بھر پور استفادہ کرنے کیلئے محکمہ معدنیات کو مضبوط بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے اور ایک ہفتہ کے اندر ضلع میں محکمہ معدنیات کا ضروری سیٹ اپ قائم کرنے جبکہ مہمند انڈسٹریل اسٹیٹ (ماربل سٹی) سے ناردرن بائی پاس پشاور تک رابطہ سٹرک کی تعمیر کیلئے فزیبلٹی پر کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے مستقبل میں پشاور کو پانی کی سپلائی کیلئے زیر تعمیر مہمند ڈیم میں ٹنل کی تعمیر اورڈیم کے کمانڈ ایریا کی آبپاشی کیلئے مین ایریگیشن چینل کی تعمیر کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مرکزی سطح پر اعلیٰ حکام کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مختلف جاری منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مہمند انڈسٹریل اسٹیٹ (ماربل سٹی) میں مختلف ترقیاتی سرگرمیوں پر اب تک1554ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، منصوبے کی تکمیل سے روزگار کے 18 ہزار سے زائد مواقع پیدا ہوں گے۔ مزید بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر ماربل اور دیگر قیمتی پتھروں کی مقامی سطح پر پروسیسنگ یقینی بنانے کیلئے ایک جوائنٹ ونچر پر پیشرفت جاری ہے،ضلع مہمند میں پولیس کی توسیع کے حوالے سے اجلا س کو بتایا گیا کہ ضلع میں مزید چار اضافی پولیس سٹیشنزقائم کئے گئے ہیں، ضلع مہمند کے 2872 لیویز اور خاصہ داروں میں سے 2672کوپولیس میں ضم کر دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ اہلکاروں کے پولیس میں انضمام پر کام جاری ہے اسی طرح450 لیویز اورخاصہ داروں کی پولیس تربیت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ انضمام کے بعد ضلع مہمند میں پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پولیس پر مقامی لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔ سال2020 کے دوران ضلع میں مختلف واقعات کی 396 ایف آئی آر ز درج کی گئیں اور950 گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ضلع مہمند میں سڑکوں کی تعمیر کے منظور شدہ منصوبوں پر جلد عملی کام شروع کرنے جبکہ ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے جاری کردہ فنڈز کی سو فیصد یوٹیلائزیشن یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اُنہوں نے مزید ہدایت کی کہ ضم اضلاع میں ڈومیسائل کی بنیاد پر بھرتی ہونے والے سرکاری ملازمین کا دیگر اضلاع میں تبادلوں کا سلسلہ بند کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور نو تعمیر شدہ تعلیمی اداروں میں نئے تعلیمی سال سے کلاسوں کا اجراء یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں موجود معدنی وسائل سے بھر پور استفادہ کرنے کے سلسلے میں نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کیلئے ایک جامع پلان تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -