ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بائیو ایکویلینس اسٹڈی سینٹر کا قائم کردیا گیا

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بائیو ایکویلینس اسٹڈی سینٹر کا قائم کردیا ...

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر) وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہاہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی میں بائیو ایکویلینس اسٹڈی سینٹر کا قیام خوش آئند ہے حکومت سندھ شعبہ صحت  کی مجموعی صورت حال کی بہتری کے ہر اقدام میں معاونت جاری رکھے گی تاکہ عام آدمی کو صحت کی بہتر سہولتیں دستیاب ہوسکیں یہ بات انہوں نے بدھ کو ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں  انسٹی ٹیوٹ آف بائیو لوجیکل،بائیو کیمیکل اینڈ فارما سیوٹیکل سائنسز اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے تعاون سے صوبہ سندھ کی  پہلی پراونشیل  پبلک  ہیلتھ لیبارٹری کے افتتاح کے موقع پر تختیوں کی نقاب کشائی  کے بعد شرکا سے بات کرتے ہوئے کہی، اس موقع پر سیکریٹری صحت ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی،وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی،پرووائس چانسلرز ڈاکٹر کرتار ڈاوانی، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد  کے نمائندے کرنل امجد خان،پروفیسر زرناز واحد رجسٹرار ڈاکٹراشعرآفاق،ڈاکٹر اظہار حسین،پروفیسر سعید خان و ڈاکٹر قیصر وحیدودیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہاکہ حکومت سند ھ کی جانب سے صحت کے شعبے   میں کیے گئے انقلابی اقدامات سے عام آدمی براہ راست مستفید ہورہا ہے صوبائی وزیر صحت کو اس موقع پر بتایا گیاکہ صوبے کے کسی بھی علاقے میں  وبائی امراض پھوٹنے کی صورت میں امراض پر قابو پانے میں یہ لیبارٹری مکمل  معاونت کرے گی قومی ادارہ برائے صحت نے ڈاؤ یونیورسٹی کے اشتراک سے اسے قائم کیاہے جبکہ صوبائی حکومت معمول کے آپریشن چلائے گی ماہرین نے بتایاکہ بین الاقومی  معیار کے لحاظ سے سندھ میں ایسی کوئی لیبارٹری قائم نہیں تھی  گذشتہ برسوں کے دوران    صوبے کے مختلف اضلاع میں ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ، چکن گونیا، ڈینگی وغیرہ پھیلتے رہے ہیں اب خدانخواستہ ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ لیبارٹری فعال کردار ادا کرے گی اور صوبے بھر کے  عوام سے کو یہ سہولت مفت فراہم کی جائے گی۔ وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے اس موقع پر کہاکہ بائیو ایکویلینس اسٹڈی سینٹر  بین الاقوامی معیار کے آلات  سے مزین،پاکستان کا واحد سینٹر ہے جس کے ساتھ مکمل سہولتوں سے آراستہ اسپتال ہے۔اس موقع پر بائیوایکویلینس سینٹر کے عملے کی جانب سے بتا یا گیا  بائیو اویلیبلٹی اسٹڈی سینٹر  میں تجزیہ کیا جاتا ہے کہ مریض  کو دی گئی دوا کی کتنی مقدار خون میں شامل ہوئی ہے تاکہ کسی بھی دوا کی افادیت کا تعین کیا جاسکے جبکہ بائیو ایکویلینس اسٹڈی میں یہ تعین کیا جاتاہے کہ بنائی گئی دوا اصل مالیکیول کیکس قدر قریب ہے  ان ماہرین نے بتایاکہ ڈاؤ بائیو ایکیولینس سینٹر میں بین لاقوامی اصول اختیار کیے جاتے ہیں ایف ڈی اے کی بائیو گائیڈلائنز اور ڈبلیو ایچ او کے اینکسر ٹو کے مطابق اسٹڈی کی جائے گی ڈرگ ریگولیٹراتھارٹی کے  بائیو اسٹڈی رولز2017  پر بھی عمل کیا جاتا ہے انہوں نے بتایاکہ پاکستان  سے دواؤں کی برآمد محض دوسو ملین ڈالرز ہے مستند بائیو ایکویلینس سینٹر کے قیام سے داوؤں کی برآمدات بھی بڑھ سکتی ہے کیونکہ اس سے پہلے  بین الاقوامی معیار کی اسٹڈی کے لیے ہماری مقامی دوا کی صنعت  سے وابستہ افراد کو بیرون ملک جانا پڑتا تھا جس کے نتیجے میں اخراجات بڑھنے سے مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کرپاتے تھے  یہی وجہ ہے کہ بائیو ایکویلینس سنیٹر کی ایف ڈی اے سمیت دیگربین الاقوامی  اداروں سے منظوری کے عمل کا آغاز کردیا گیاہے  ان ماہرین نے بتایا کہ  ایکویلینس سینٹرکے قیام سے کم قیمت پر معیاری دوائیں ملنیکا امکان ہے جبکہ یقینی طور پر جعلی دواؤں کی روک تھام بھی ہوسکے گی،قبل ازین صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو کی ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس آمد پر وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی  نے خیرمقدم کیا جبکہ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے دو مختلف مقامات پر تختیوں کی نقاب کشائی کرکے سینٹرز کا رسمی افتتاح کیا اور دعاکی

مزید :

صفحہ آخر -